
میرا چھوٹا بھائی ہے جو اب کافی مالدار ہے اللہ ا س کے حلال مال و اولاد میں خیر و برکت دے، میں جب اس کو فون کرتا ہوں تو اٹھاتا نہیں اور نہ ہی بعد میں واپس فون کرتاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس کا اس طرح کرنا جائز ہے؟میں چاہتا ہوں کہ اس کی دنیا و آخرت دونوں بہتر ہوں۔
واضح رہے کہ دین اسلام نے اپنے پیروکاروں کو ایک دوسرے کے حقوق پورے کرنے کی بہت تاکید کی ہے، ایک بھائی کو دوسرے بھائی کے ساتھ نرمی، حسن سلوک اور ایک دوسرے کے لیے دعائیں کرنے اور ایک دوسرے کی خیرخواہی کا حکم دیا ہے۔ بڑے بھائي كے حق كے متعلق سعید بن عاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں ”چھوٹے بھائی پر بڑے بھائی کا حق ایسا ہے، جیسا بیٹے پر اس کے والد کا۔“لہذابڑا بھائی باپ کی مانند ہوتا ہےتو اس کا احترام بھی ضروری ہے، اور بڑے بھائی پر چھوٹوں کی تربیت کی ذمہ داری بھی ہے،اور ان پر شفقت کا حکم بھی ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا چھوٹا بھائی اگر بغیر کسی عذر کے اپنے بڑے بھائی سے رابطہ نہیں کرتا تو اس کا یہ عمل درست نہیں، اس کوچاہیے کہ بڑے بھائی کے ساتھ رابطہ رکھے،بلکہ اگر ملاقات ممکن ہو توملاقات کرتا رہے اور اپنی طرف سے ممکنہ خدمت بھی کرے، اسی طرح سائل (بڑے بھائی) کو بھی چاہیے کہ چھوٹے بھائی کے ساتھ نرمی اور شفقت کے ساتھ پیش آئے اگر اس کی کوئی ایسی مصروفیت ہو جس کی وجہ سے مخصوص اوقات میں رابطہ نہ کر سکتا ہو تو اس سے درگزر کرے، نرمی اور محبت کے ساتھ سمجھائےاور اس کی دنیاو آخرت کی بھلائی کے لیے دعا کرتارہے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن سعيد بن العاص قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «حق كبير الإخوة على صغيرهم حق الوالد على ولده» . روى البيهقي الأحاديث الخمسة في شعب الإيمان."
(كتاب الآداب، باب البر والصلة، رقم:4946، ج:3، ص:1383، ط:المكتب الإسلامي)
شعب الإيمان للبیہقی میں ہے:
"عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من لم يرحم صغيرنا ويعرف حق كبيرنا فليس منا."
(باب في رحم الصغير وتوقير الكبير، ج:13، ص:354، ط:دار الكتب العلمية)
ترجمہ:”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ “
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100486
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن