بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مملوکہ چیز کو ضمان کے طور پر دینا


سوال

میرے داماد نے میرے گھر سے سونا چوری کیا تھا، اس کے بعد اس نے اعتراف بھی کر لیاتھا، اور کہاتھا کہ اب میں چوں کہ سونا واپس نہیں کر سکتا، (کیوں  کہ اس نے آگے بیچ دیا تھا)، اس لیے میں بازار میں جہاں ٹھیلہ لگاتا ہوں، وہ جگہ تمہاری ہو گئی، اب تم مجھ سے سونا نہ  مانگنا اور میں تم سے جگہ نہیں مانگوں گا، اس کے بعد اس جگہ پر میرے شوہر اور میرے بیٹے نے ٹھیلہ لگانا شروع کر دیا، اس کے بعد میرے اس داماد کا انتقال ہو گیا، لیکن اب میری بیٹی کہہ رہی ہے کہ تم نے اتنے زمانے تک ٹھیلہ لگا لیا ہے، اس لیے تمہارے سونے کی قیمت پوری ہو گئی ہے،  اور اس نے جگہ واپس لے لی ہے،نیز وہ کہتی ہے  کہ میرے شوہر نے مرنے سے پہلے یہ وصیت کی تھی کہ وہ جگہ میری بیٹی کے لیے واپس لے لینا۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ جگہ شرعاً کس کا حق ہے؟اگر یہ بیٹی کا حق ہے تو پھر ہمارے سونے کا ذمہ دار کون ہو گا؟ جب کہ اس سونے میں میری تین بیٹیوں کا سونا بھی تھا، جو بطو ر امانت میرے پاس رکھا ہوا تھا۔

وضاحت:میرے سونے کے ساتھ جو بیٹیوں  کا سونا رکھا ہوا تھا،مجھے معلوم تھا  کہ ان میں سے کون سا زیور کس کا ہے؟ اور یہ ٹھیلہ لگانے کی جگہ حکومت کی ملکیت ہے، داماد نے  صرف وہاں ٹھیلہ لگاتا تھا، اور اس نے ہمارے سونے کے عوض وہاں پر  ہمارے ساتھ ٹھیلہ لگانے کا معاہدہ کیا تھا۔

جواب

 صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے داماد نے  چوری کردہ سونے کے عوض جو ٹھیلہ لگانے کی جگہ سرکاری زمین میں دی تھی، وہ ضمان بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی، کیوں کہ وہ جگہ سائلہ کے داماد کی ملکیت ہی نہیں ہے، لہذا چوری  شدہ سونا مرحوم داماد کے ترکہ سے وصول کیا جائے گا، البتہ اگر سونے مالکان مرحوم داماد کو معاف کردیں، تو سونے کی ادائیگی  ساقط ہوجائے گی، نیز ٹھیلہ لگانے کی جگہ چوں کہ سرکاری تھی، داماد کی ذاتی جگہ نہیں تھی، لہذا  سائلہ کی بیٹی کے لیے اب اپنے شوہر کی  جانب سے دی گئی ٹھیلہ والی سرکاری جگہ  کا مطالبہ درست نہیں۔

فتاوٰی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه : لا يجوز الإعتياض عن الحقوق المجردة، كحق الشفعة، وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف. (قوله: لا يجوز الإعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك، ولا يجوز الصلح عنها."

 ( کتاب البیوع،ج:4، ص:518،  ط: سعید)

المحيط البرہانی میں ہے :

"إذا كانت الوديعة دراهم، فاختلط بدراهم المودع على وجه تيسر التمييز لا يصير المخلوط مشتركا بينهما، فإن اختلطت على وجه تعذر التمييز صار المخلوط مشتركا بينهما، وإن خلطهما بعض من في عيال المودع، وكان الخلط على وجه تعذر التمييز أو كان الخلط على وجه يتعسر التميز بأن خلط حنطة الوديعة بشعير المودع صار الخالط ضامنا."

(‌‌كتاب الوديعة، ‌‌الفصل العاشر في المتفرقات، ج : 5، ص : 549، ط : دار الكتب العلمية)

بدائع الصنائع میں ہے :

"ومنها: أنه إذا ضاعت ‌في ‌يد ‌المودع بغير صنعه، لا يضمن، لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "ليس على المستعير غير المغل الضمان ولا على المستودع غير المغل الضمان»'؛ ولأن يده يد المالك، فالهلاك في يده كالهلاك في يد المالك."

(كتاب الوديعة،‌ فصل في بيان حال الوديعة، ج :8، ص : 363، ط : دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706102316

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں