بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چوری کے مال سے نفع کمانے کے گناہ کی تلافی


سوال

 آج سے 10 سال پہلے ایک شخص میرے پاس چوری کا سامان لایا اور مجھے پتہ تھا کہ یہ چوری کا مال ہے اور مجھے یہ معلوم تھا کہ کس دکان دار کا مال چوری کیا ہے کیوں کہ وہ چور اُس دکان دار کا ملازم تھا، میں اس سے وہ چیزیں مارکیٹ ریٹ پر ہی خرید رہا تھا اور مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ چوری کا مال خریدنا جانتے ہوئے ایسا ہی ہے جیسے خود چوری کی ہو،کچھ عرصہ تک وہ مال لاتا رہا اور میں اس سے خریدتا رہا لیکن اللہ نے یہ بات دل میں ڈالی کے یہ چیز غلط ہے تو معاملات روک دیے اور توبہ  کی،لیکن  بے چینی ہو رہی ہے کہ حق ذمے ہے اور جس شخص کا مال تھا وہ اب انتقال کرگیا ہے، اس کا بیٹا اس کی جگہ پر ہے اور یہ مرحوم آغا خانی تھا۔ اب اس شخص کے حق کو ادا کرنے کی کیا صورت ہوگی؟برائے کرم راہ نمائی فرمادیجئے!

جواب

قرآن و حدیث میں چوری کی سخت وعید آئی ہے ،حدیث  میں ہے:

"وعن أبي هريرة رضي الله عنه إن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن ولا يشرب الخمر حين يشربها وهو مؤمن ولا يسرق السارق حين يسرق وهو مؤمن ولا ينتهب نهبة ذات شرف يرفع الناس إليه أبصارهم فيها حين ينتهبها وهو مؤمن ولا يغل أحدكم حين يغل وهو مؤمن فإياكم إياكم".

ترجمه:"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو اس وقت اس کا ایمان  نہیں رہتا، شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو اس وقت اس کا ایمان نہیں رہتا اورچوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو اس وقت اس  کا ایمان  نہیں رہتا۔"

(مشکوۃ المصابیح، باب الکبائر وعلامات النفاق، ج:1، ص:23، رقم:53، ط : المكتب الإسلامي - بيروت)

ایک حدیث میں کہ  چوری شدہ اشیاء خریدنے والا اور چوری کرنے والا گناہ میں برابر ہے:

"قال النبي عليه السلام: من ‌اشترى ‌سرقة ‌وهو ‌يعلم ‌أنها ‌سرقة فقد شرك في عارها وإثمها."

ترجمہ:"آپ ﷺ نے فرمایا جس نے چوری شدہ چیز خریدی حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ چوری شدہ ہے،تو یہ چوری کہ گناہ اور عار میں شریک ہے"

(کتاب البیوع والاقضیۃ،‌‌من كره شرى السرقة،ج4،ص453،رقم 22060،ط  دار التاج)

لہذا آپ  کو چاہیے کہ اپنے اس عمل سے سچے دل سے توبہ کریں اور آئندہ اس سے مکمل اجتناب کریں، صورتِ مسئولہ میں جب کہ آپ نے علم ہوتے ہوئے چوری شدہ مال کو خرید کر آگے بیچا اور نفع کمایا اور اب  دس سال کی طویل مدت گزر چکی اور اصل چوری کا سامان بھی آپ کے پاس نہیں، لہذا آپ پر لازم ہے کہ  اس چوری کے مال سے جو نفع کمایا اسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ  کردیں،البتہ  اگر ممکن  ہو تو چوری شدہ اشیاء کی کل قیمت صاحب ِمال کے وارث کو کسی طرح سے دینا بہتر   اور احتیاط کے موافق ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:

" (قوله: الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك."

(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج5،ص98،ط سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه."

(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج5 ،ص99، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101189

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں