بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چوری کے گیس کو بیچنے اور اس سے نفع اُٹھانے کا حکم


سوال

ایک فیکٹری والے نے گیس کا میٹر لگایا ہے ۔ اس نے دوسری فیکٹری والے کو گیس کا کنکشن دیا ہے، لیکن کنکشن ڈائریکٹ پائپ سے دیا ہے نہ کہ میٹر سے۔ دوسری فیکٹری والا جو گیس استعمال کرتا ہے تو اس کے یونٹ پہلے والے فیکٹری کے بل میں نہیں آتے، کیوں کہ اس نے ڈائریکٹ پائپ سے اس کو کنکشن دیا ہے۔ وہ اس کو منہ مانگے پیسے دیتے ہیں مہینے کے ، یعنی جتنے پہ بات بن سکے ۔اب دوسری فیکٹری والا تیسری فیکٹری والے کے لئے اپنی فیکٹری میں ایک مشین اسی گیس پہ چلاتا ہے اور اس سے روزانہ کے حساب سے طے شدہ پیسے لیتا ہے۔ اب تیسری فیکٹری والے کے لیے اسی گیس کو استعمال کرنا اور دوسرے فیکٹری والے کو روزانہ کے حساب سے شدہ رقم دینا جائز ہے یا نہیں؟ حالانکہ تیسری فیکٹری والے کو بھی پتہ ہے کہ یہ گیس چوری کی ہے۔ مہربانی فرما کر جتنی جلدی ہوسکے رہنمائی کریں ۔

جواب

واضح رہے کہ حکومت  کی طرف سے قیمتاً جو سہولیات عوام کو فراہم کی جاتی ہیں، ان پر معاشرے کا مشترکہ حق ہوتا ہے، اور اس  حق سے خلافِ ضابطہ فائدہ اٹھانا عوامی حق تلفی اور دھوکا دہی کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعاً ناجائز ہوتا ہے، اور اجتماعی چیز کی چوری کا گناہ بھی فرد کی چوری سے زیادہ ہے،   ایسے لوگوں پر اس  عمل  کی وجہ سے  خوب توبہ واستغفار کرنا ضروری ہے اور متعلقہ ادارے تک کسی بھی طرح اس رقم کو واپس کرنا ضروری ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں پہلی فیکٹری والے کا اس طرح گیس چوری کرکے اس کو آگے بیچنا اور اس سے نفع اُٹھانا ناجائز ہے، اسی دوسری فیکٹری والے کا بھی اس سے نفع اٹھانا یا آگے فروخت کرنا ناجائز ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قال القهستاني: وهي نوعان؛ لأنه إما أن يكون ضررها بذي المال أو به وبعامة المسلمين، فالأول يسمى ‌بالسرقة ‌الصغرى والثاني بالكبرى، بين حكمها في الآخر؛ لأنها أقل وقوعا وقد اشتركا في التعريف وأكثر الشروط اهـ أي؛ لأن المعتبر في كل منهما أخذ المال خفية، لكن الخفية في الصغرى هي الخفية عن عين المالك أو من يقوم مقامه كالمودع والمستعير. وفي الكبرى عن عين الإمام الملتزم حفظ طرق المسلمين وبلادهم كما في الفتح."

(‌‌كتاب السرقة، ج:4، ص:82، ط:سعيد)

وفيه ايضاً:

"غصب دراهم إنسان من کیسه، ثم ردها فیه بلا علمه برئ، وکذا لو سلمه إلیه بجهة أخری کهبة، أو إیداع، أو شراء، وکذا لو أطعمه فأکله خلافاً للشافعي. زیلعي".

(‌‌كتاب الغصب، مطلب فيما لو هدم حائط، ج:6، ص:182، ط:سعيد)

وفيه أيضاً:

والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه."

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب فيمن ‌ورث ‌مالا حراما، ج:5، ص:99، ط: سعيد)

وفيه أيضاً:

"وفيه: الحرام ينتقل، فلو دخل بأمان وأخذ مال حربي بلا رضاه وأخرجه إلينا ملكه وصح بيعه، لكن لايطيب له ولا للمشتري منه.

 (قوله: الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك، ويأتي تمامه قريباً (قوله: ولا للمشتري منه) فيكون بشرائه منه مسيئاً؛ لأنه ملكه بكسب خبيث، وفي شرائه تقرير للخبث، ويؤمر بما كان يؤمر به البائع من رده على الحربي؛ لأن وجوب الرد على البائع إنما كان لمراعاة ملك الحربي ولأجل غدر الأمان، وهذا المعنى قائم في ملك المشتري كما في ملك البائع الذي أخرجه".

 (کتاب البیوع،باب البیع الفاسد ، مطلب الحرمۃ تتعدد، ج:5، ص:98،  ط: سعید)

معجم المصطلحات میں ہے:

"لأن السرقة في اللغة: أخذ الشيء من الغیر علی سبیل الخفیة والاستسرار بغیر إذن المالک، سواء کان المأخوذ مالاً أو غیر مالٍ … قال اللّٰه تعالیٰ: {اِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ}".

(معجم المصطلحات والألفاظ الفقهیة، ج:2، ص:263)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"‌ولا ‌يجوز ‌حمل ‌تراب ربض المصر لأنه حصن فكان حق العامة فإن انهدم الربض ولا يحتاج إليه جاز كذا في الوجيز للكردري."

(كتاب الكراهية، الباب الثلاثون في المتفرقات، ج:5، ص:373، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144504101742

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں