بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چھٹیوں کے بعد دو چھٹی کرنے پر پوری چھٹیوں اور دو دن کی تنخواہ کاٹنا


سوال

میں ایک ادارے میں چوکیدار ہوں، میری تنخواہ 17 ہزار روپے ہے، ایک مرتبہ عید کی چھٹیوں میں گھر چلا گیا تھا، آنے میں دو دن تاخیر ہو گئی، جس پر مدرسے والوں نے 9600 میری تنخواہ سے کاٹے اور کہا کہ 17 دن آپ نے چھٹی کی ہے، حالانکہ وہ 15 دن تو مدرسے کی معمول کے مطابق عید کی چھٹیاں تھیں، اس کے علاوہ میں صرف دو دن تاخیر سے آیا، اب سوال یہ ہے کہ کیا مدرسے والوں کے لیے 17 دن کی تنخواہ کاٹنا جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو ان پر وہ پیسے واپس کرنا لازم ہے یا نہیں؟

جواب

سوال میں جو مسئلہ ذکر کیا گیا ہے اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں، ہر ایک صورت کا حکم جدا لکھا جاتا ہے:

اگر آپ کے ادارے کے ساتھ آپ کا یہ معاہدہ ہو کہ چھٹیوں کے ساتھ مزید چھٹیاں کرنے کی اجازت نہیں، اگر مزید چھٹیاں کی تو چھٹیوں کی تنخواہ بھی نہیں ملے گی، تو ایسی صورت میں معاہدہ کے مطابق ادارہ چھٹیوں کی بھی تنخواہ کاٹنے کا مجاز ہو گا اور آپ اس تنخواه كے مستحق نہيں۔

اور اگر ادارے کے ساتھ آپ کا ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو عرف و عادت کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا، یعنی پوری چھٹیوں کی تنخواہ نہیں کاٹی جائے گی، بلکہ صرف دو دن کی تنخواہ کاٹی جائے گی، بقيہ 15 دن كی تنخواه كی ادائيگی ادارے پر لازم هے۔

مشکاۃ المصابیح  میں ہے:

"وعن عمرو بن عوف المزني عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحاً حرم حلالاً أو أحل حراماً، والمسلمون على شروطهم إلا شرطاً حرم حلالاً أو أحل حراماً» . رواه الترمذي وابن ماجه وأبو داود وانتهت روايته عند قوله: «شروطهم»."

(1/253، كتاب البيوع ، باب الافلاس والانظار، الفصل الثانی، ط: قدیمی)

درر الحکام میں ہے:

"العادة محكمة.

"يعني أن العادة عامة كانت أو خاصة تجعل حكما لإثبات حكم شرعي. هذه المادة هي نفس القاعدة المذكورة في كتاب الأشباه وكتاب المجامع، ومعنى محكمة أي هي المرجع عند النزاع؛ لأنها دليل يبنى عليه الحكم، وهي مأخوذة من الحديث الشريف القائل «ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن» تعريف العادة: هي الأمر الذي يتقرر بالنفوس ويكون مقبولا عند ذوي الطباع السليمة بتكراره المرة بعد المرة، على أن لفظة العادة يفهم منها تكرر الشيء ومعاودته بخلاف الأمر الجاري صدقة مرة أو مرتين، ولم يعتده الناس، فلا يعد عادة ولا يبنى عليه حكم. والعرف بمعنى العادة أيضا."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادہ 36، جلد:1، صفحہ: 44، طبع: دار الجیل)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101356

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں