
مجھے نوکری نہیں مل رہی تھی، جس کی وجہ سے میری بیوی کے ساتھ میری ناراضگی چل رہی تھی۔ ایک دن میری بیوی سے میری بات چل رہی تھی، تو میں نے اپنا سامان اٹھایا اور گھر سے باہر جا نےلگا، اس وقت میری بیوی نے کہا: کہاں جا رہے ہیں؟ ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟
میں نے جواب دیا: بس میں جا رہا ہوں، کہیں بھی جاؤں۔
بیوی نے کہا: تو بول کر جائیں۔(مقصد یہ تھا کہ کہاں جارہے ہیں؟باہر جارہے ہیں؟واپس آئیں گے یا نہیں؟)
میں نے کہا: کیا بولنا ہے؟
بیوی نے کہا: یہی کہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
میں نے کہا کہ ٹھیک ہے،چھوڑ رہا ہوں، چھوڑ رہا ہوں، چھوڑ رہا ہوں۔(مقصد یہ تھا کہ گھر چھوڑ کر جارہا ہوں)
اور یہ جواب میں نے صرف اس لیے دیا کہ فضول کی کوئی اور بات نہ بڑھے، اور میرے دل اور دماغ میں ایسا کچھ نہیں تھا، اور نہ مجھے اس بات کا علم تھا کہ یہ الفاظ بھی طلاق کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اور نہ اس وقت میری کوئی ایسی نیت تھی کہ میں طلاق دے رہا ہوں، اور نہ مجھے معلوم تھا کہ چھوڑ دینے کا مطلب بھی طلاق کا ہوتا ہے۔ اگر مجھے یہ معلوم ہوتا تو میں یہ الفاظ کبھی استعمال نہیں کرتا۔ میں اپنی بیوی کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہتا، میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں، اور یہ بات میری بیوی کو بھی معلوم ہے کہ میری ایسی کوئی نیت نہیں تھی۔
میری طلاق کی کوئی نیت نہیں تھی، میں اس بات پر قسم کھانے کو بھی تیار ہوں۔
بصدقِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں سائل اور اس کی بیوی کے درمیان ہونے والی گفتگو اگر جدائی کے تناظر میں نہیں ہوئی تھی،بلکہ گھر چھوڑکر جانے کے بارے میں ہوئی تھی،تو اس صورت میں چھوڑ رہا ہوں، چھوڑ رہا ہوں،چھوڑ رہا ہوں،کے جملہ سے واقعتاً سائل کی مراد بیوی کے سوال کا جواب تھا کہ چھوڑ کر جارہا ہوں طلاق مراد نہ تھی تو اس طرح کہنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح حسب سابق برقرار رہے گا۔
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:
"صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."
(كتاب الطلاق، ج:1، ص:38، ط: دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100734
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن