بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 محرم 1448ھ 06 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

گھروں میں پائی جانے والی چھپکلی کے بیٹ کا حکم


سوال

چھپکلی بار بار مسجد یا گھر میں پاخانہ کردیتی ہے، جھاڑو دینے کے بعد بھی اس کا کچھ اثر باقی رہ جاتا ہے۔ کیا ہر مرتبہ عینِ نجاست کا مکمل زائل کرنا ضروری ہے؟ یا عمومِ بلویٰ یا حرج کی وجہ سے جھاڑو کے بعد جو معمولی اثر باقی رہ جائے وہ معاف ہوگا، اور اس جگہ کو ناپاک نہیں کہا جائے گا؟ نیز بعد میں وہاں پانی وغیرہ لگ جائے تو کیا وہ بھی ناپاک ہوجائے گا؟  جیسے غسالہ میت وغیرہ  مساجد میں الگ سے پاک صاف کرنے نہیں دیکھا۔ 

جواب

واضح رہے کہ چھپکلی دو قسم کی ہوتی ہے: ایک وہ جس میں دمِ سائل (بہنے والا خون) ہوتا ہے، اور دوسری وہ جس میں دمِ سائل نہیں ہوتا۔ جس چھپکلی میں دمِ سائل ہو، اس کا بیٹ (فضلہ) نجس ہے، اور جس میں دمِ سائل نہ ہو، اس کابیٹ ( فضلہ )نجس نہیں ہے۔

عموماً گھروں میں پائی جانے والی چھپکلی ایسی ہوتی ہے جس میں دمِ سائل نہیں ہوتا، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر اسی قسم کی چھپکلی مراد ہو تو اس کا بیٹ نجس نہیں ہے۔ تاہم اگر وہ مساجد میں پایا جائے تو مسجد کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔

البتہ اگر ایسی چھپکلی مراد ہو جس میں دمِ سائل ہوتا ہو تو اس کا بیٹ نجس ہے، لہٰذا اس کی صفائی کرنا ضروری ہے۔ اگر اس کابیٹ ( فضلہ) کسی جگہ لگ جائے تو اس جگہ کو پاک کرنا لازم ہے، اور نجاست کے عین کو زائل کرنا ضروری ہے۔ البتہ عینِ نجاست زائل کرنے کے بعد اگر اس کا رنگ یا بو باقی رہ جائے تو کوئی حرج نہیں، وہ جگہ پاک شمار ہوگی۔

نیز اگر نجاست زائل کرنے کے بعد اس کا کچھ اثر باقی رہ جائے، پھر اس پر پانی آجائے، تو اس سے وہ جگہ دوبارہ ناپاک نہیں ہوگی۔

النتف في الفتاوی للسغدی میں ہے:

"وعند الفقهاء: الهوام على وجهين :ما له دم سائل مثل الفأرة والحية والوزغة والقنفذ فان ما يخرج منها وسؤرها مكروه وان وقع في الماء يجعله مكروها وبولها نجس وما ليس له نفس سائلة فان ما يخرج منها طاهر."

(ما يخرج من الانسان، ج:1، ص:37،  ط:دار الفرقان - عمان)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ما ليس له دم سائل مثل الحية والوزغ وسام أبرص وجميع الحشرات وهو أم الأرض من الفأر والجراد والقنافذ والضب واليربوع وابن عرس ونحوها"

(الباب الثاني في بيان ما يؤكل من الحيوان وما لا يؤكل، ج:5، ص:289، ط:دارالفکر)

فتاوی الشبكۃ الإسلامیۃ میں ہے:

"فالحكم على خرء الوزغ بالنجاسة أو الطهارة ينبني على الحكم على الوزغ نفسه هل هو مما له نفس سائلة فيحكم بنجاسة خرئه لأنه مما لا يؤكل، أو مما ليس له نفس سائلة فيحكم بطهارة خرئه؟ فعلى القول بأنه مما لا نفس له سائلة كما هو المفتى به عندنا، كما بينا ذلك في الفتوى رقم: 38414 فإن خرأه طاهر.

قال ابن قدامة في المغني: النوع الثاني: ما لا نفس له سائلة، فهو طاهر بجميع أجزائه وفضلاته.

وعلى القول بأن له نفسا سائلة فإن خرأه نجس لأنه مما لا يؤكل، قال المرداوي الحنبلي في الإنصاف: والصحيح من المذهب: أن الوزغ لها نفس سائلة. نص عليه كالحية … انتهى."

(الطهارة، حكم ما أصاب الثياب أو البدن من خرء الوزغ، ج:11، ص:2549، ط:مكتبه الشاملة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102044

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں