بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا چھت سے لٹکا ہوا پردہ جبکہ وہ زمین سے اٹھا ہوا ہو سترہ بن سکتا ہے؟


سوال

 سترہ کے شرائط میں کیا یہ بھی ایک شرط ہے کہ سترہ زمین سے متصل ہو؟ فتاوی کی کتابوں میں دیکھا ہے کہ اگر نمازی کے سامنے تخت ہو تو اس کی اجازت ہے کہ لوگ تخت کے سامنے سے گزر جائیں، تخت کے عمومًا پائے ہوتے ہیں، لہذا حکماً وہ زمین سے متصل ہے، اگرچہ مصلی اس حصہ کی طرف دیکھ کر پڑھے جو زمین سے متصل نہیں ہے۔

سوال کا منشا یہ ہے کہ اگر پردہ اوپر سے لٹک رہا ہو اور زمین سے متصل نہ ہو (یعنی مثلًا پنڈلی سے لے کر زمین تک کا حصہ کھلا ہو) تو کیا یہ سترہ کا کام کر سکتا ہے یا نہیں؟ کیا پردے کی دوسری جانب سے لوگ بلا گناہ و کراہیت گزر سکتے ہیں یا نہیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ ’’سترہ‘‘  کے لغوی معنی ہیں: وہ چیز  جس کے ذریعہ انسان خود کو چھپا سکے، شریعت کی اصطلاح میں نماز کے باب میں ’’سترہ‘‘  سے مراد وہ لاٹھی یا چھڑی وغیرہ ہے  جو کم از کم ایک گز  شرعی کے برابراونچی اور کم از کم ایک انگلی کے برابر کوئی موٹی چیز ہو ،اور یہ بھی  ضروری ہے کہ وہ  زمین  کے ساتھ متصل ہو،  تخت یاچارپائی کا درمیانی حصہ زمین سے متصل نہیں ہے،بلکہ سترہ کی لمبائی سے  بھی اونچی ہوتی ہے،لہذا  اگر نمازی کے  چہرے کےسامنے تخت یا چارپائی  کا پایہ نہ ہو،بلکہ درمیانی حصہ ہو تو وہ سترہ شمار نہیں ہوگا، کیونکہ اس صورت میں نمازی کے سامنے ایسی آڑ نہیں ہوگی جس پر شرعی سترہ کی تعریف صادق آسکے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں نمازی کے سامنے  لٹکا ہوا پردہ اگر زمین سے متصل نہ ہو تو وہ شرعاً ستره شمار نہیں ہوگا اور ایسے پردے کے آگے سے گزرنا درست نہیں ہوگا، گزرنے والا گناہ گار ہوگا، البتہ اگر وہ پردہ نیچے تک مکمل طور پر زمین تک لٹکا ہوا ہو تو وہ معتبر سترہ قرار پائے گا، اور ایسی حالت میں اس کے پیچھے سے گزرنا جائز ہوگا۔

شرح وقایہ میں ہے:

"ويغرز أمامه في الصحراء سترة بقدر ذراع، وغلظ أصبع على أحد حاجبيه، ولا توضع، ولا يخط."

(کتاب الصلاۃ،باب مایفسد الصلاہ وما یکرہ،ج:2،ص:143،ط: دار الوراق- عمان، الأردن)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"‌وينبغي ‌لمن ‌يصلي ‌في ‌الصحراء أن يتخذ أمامه سترة طولها ذراع وغلظها غلظ الأصبع ويقرب من السترة ويجعلها على حاجبه الأيمن أو الأيسر والأيمن أفضل. هكذا في التبيين وإن تعذر غرز العود لا يلقي."

(کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها،الفصل الأول فيما يفسدها،ج:1،ص: 104، ط: دار الفکر بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"قوله ‌ولو ‌ستارة ‌ترتفع) أي تزول بحركة رأسه إذا سجد، وهذه الصورة ذكرها سعدي جلبي جوابا عن صاحب الهداية حيث اختار أن الحد موضع السجود كما مشى عليه المصنف، فأورد عليه أنه مع الحائل كجدار أو أسطوانة لا يكره والحائل لا يمكن أن يكون في موضع السجود. فأجاب سعدي جلبي بأنه يجوز أن يكون ستارة معلقة إذا ركع أو سجد يحركها رأس المصلي ويزيلها من موضع سجوده ثم تعود إذا قام أو قعد. اهـ. وصورته أن تكون الستارة من ثوب أو نحوه معلقة في سقف مثلا ثم يصلي قريبا منها فإذا سجد تقع على ظهره ويكون سجوده خارجا عنها وإذا قام أو قعد سبلت على الأرض وسترته".

(‌‌كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1،ص:636،ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144705101695

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں