بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چھ رکعات اور پرچیوں والا استخارہ کرنا کیسا ہے؟ / مسجد کے امام سے استخارہ کروانے کا حکم


سوال

کیا درج ذیل طریقۂ استخارہ ثابت ہے اور اس پر عمل کرنا صحیح ہے؟ طریقہ یہ ہے کہ چھ چھوٹی پرچیاں بنائی جائیں: تین پرچیوں پر ”خیرًا یرہ“اور تین پرچیوں پر ”شرًّا یرہ“لکھ کر انہیں باریک گولی کی طرح لپیٹ لیا جائے، پھر ان سب کو  ملا کر جائے نماز پر ایک جگہ رکھ دیا جائے۔ اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھ کر اپنے کام کے بارے میں دعا کی جائے اور چھ پرچیوں میں سے ایک پرچی اٹھا کر الگ رکھ دی جائے، اسی طرح چھ رکعت ادا کر کے تین پرچیاں الگ کی جائیں، پھر ان کو کھول کر دیکھا جائے، اگر ”خیرًا یرہ“نکل آئے تو سمجھا جائے کہ اس کام میں خیر ہے، اور اگر ”شرًّا یرہ“آئے تو اس کام میں خیر نہیں ہے۔ کیا اس طرح استخارہ کرنا صحیح ہے؟ نیز اگر کوئی شخص اپنی مسجد کے امام صاحب سے استخارہ کروانا چاہے تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟ اور اگر درست ہے تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہوگا؟

جواب

سائل نے استخارہ کا جو مخصوص طریقہ ذکر کیا ہے، وہ ثابت نہیں ہے،  لہٰذا اس کے بجائے استخارہ کے مسنون طریقے کا اہتمام کیا جائے۔

نیز احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کی حاجت ہو وہ خود استخارہ کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو استخارہ کا طریقہ اس اہتمام سے تعلیم فرماتے تھے جیسے قرآنِ کریم کی کوئی سورت یا آیت۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے امور میں مشورہ تو لیتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے”استخارہ“نہیں کرواتے تھے، حالاں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مقدس و برگزیدہ کوئی انسان نہیں، نیز اس وقت وحی بھی نازل ہوتی تھی جس کی روشنی میں خیر و شر یقینی طور پر معلوم ہوسکتا تھا، لیکن اس کے باوجود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نہ کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لئے استخارہ کروایا اور نہ ہی کسی اور کے لئے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے استخارہ کیا۔ پس رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذریعہ آنے والی پوری امت کی تربیت اس نہج پر فرمائی کہ امت کا ہر فرد اللہ تعالیٰ سے خود تعلق قائم کرے، اور مہربان رب سے ہر شخص اپنی حاجت مانگنے کے ساتھ خود ہی خیر کا خواست گار ہو۔

مذکورہ تفصیل کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کسی دوسرے سے اپنے لئے استخارہ کروانا اگرچہ جائز تو ہے، لیکن سنت یہی ہے کہ کوئی مسلمان خواہ کتنا ہی گناہ گار ہو، وہ خود استخارہ کرے۔

استخارہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دن یا رات میں کسی بھی وقت، بشرطیکہ وہ نفل کی ادائیگی کا مکروہ وقت نہ ہو، دو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے پڑھیں، نیت یہ ہو کہ میرے سامنے یہ معاملہ یا مسئلہ ہے، اس میں جو راستہ میرے حق میں بہتر ہو، اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ فرمادیں۔ سلام پھیر کر نماز کے بعد استخارہ کی مسنون دعا مانگیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی ہے۔

استخارہ کی مسنون دعا یہ ہے:

'' اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ ، وَ أَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ، فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَ لاَ أَقْدِرُ، وَ تَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ ، وَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ اَللّٰهُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعِيشَتِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِهٖ وَ اٰجِلِهٖ ، فَاقْدِرْهُ لِیْ ، وَ یَسِّرْهُ لِیْ ، ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْهِ وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ شَرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعِيشَتِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِهٖ وَ اٰجِلِهٖ ، فَاصْرِفْهُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْهُ ، وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِهٖ ۔''

دعاکرتے وقت جب  ”ھذا الامر “پر پہنچے تو اگر عربی جانتا ہے تو اس جگہ اپنی حاجت کا تذکرہ کرے یعنی ”هذا الامر “کی جگہ اپنے کام کا نام لے، مثلاً: ”هذا السفر “یا ”هذا النکاح “یا ”هذه التجارة “یا ”هذا البیع “کہے ، اور اگر عربی نہیں جانتا تو”هذا الأمر “کہہ کر دل میں اپنے اس کام کے بارے میں سوچے جس کے لئے استخارہ کررہا ہے ۔

استخارے کے بعد  جس طرف دل مائل ہو وہ کام کرے۔ اگر ایک دفعہ میں قلبی اطمینان حاصل نہ ہو تو سات دن تک یہی عمل دہرائے، ان شاء اللہ خیر ہوگی۔استخارہ کے لئے کوئی وقت خاص نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ رات میں سونے سے پہلے جب یکسوئی کا ماحول ہو،  تو استخارہ کرکے سوجائے، لیکن خواب آنا ضروری نہیں ہے، بلکہ اصل بات قلبی رجحان اور اطمینان ہے۔

تفسیر ابن کمال پاشا میں ہے:

"{وأن تستقسموا بالأزلام} عطف على {الميتة} كالبواقي؛ أي: حرم عليكم الاستقسام بالأزلام، وهي الأقداح، وذلك أنهم إذا قصدوا فعلا ضربوا ثلاثة أقداح مكتوب على أحدها: أمرني ربي، وعلى الآخر، نهاني ربي، والثالث غفل، فإن خرج الأمر مضوا على ذلك، وإن خرج النهي اجتنبوا عنه، وإن خرج الغفل أجالوها ثانيا."

(سورة المائدة، ج:3، ص:242، ط:مكتبة الإرشاد، إسطنبول)

سننِ ترمذی میں ہے:

"عن جابر بن عبد الله، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن، يقول: إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة، ثم ليقل:(فذكر الدعاء المذكور أعلاه)، قال: ويسمي حاجته."

(أبواب الوتر، باب ما جاء في صلاة الاستخارة، رقم الحديث:480، ج:1، ص:490، ط:دار الغرب الإسلامي بيروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100213

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں