
ایک جگہ جو بیٹھنے وغیرہ کے لیے مختص ہے، اس میں بہت زیادہ چیونٹیوں کی بھرمار ہے، دم درود وغیرہ سب کچھ کرلیا ہے، مگر وہ ختم نہیں ہورہے، اب بدرجہ مجبوری اس کو آگ وغیرہ سے ختم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ زہر وغیرہ سے ان کو ختم کیا جاسکتا ہے ، زہر سے ختم کرنے کا حکم بھی بتادیں!
صورت مسئولہ میں اگر چیونٹیاں تکلیف کا باعث بن رہی ہو تو ان کو مارنا جائز ہے، اس مقصد کے لیے دوائیں، کیمیکل وغیرہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، البتہ شدید ضرورت کے بغیر آگ میں جلانا جائز نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس سزا کا حق صرف اللہ ہی کو ہے، اسی طرح فقہاء نے پانی میں ڈالنے کو بھی مکروہ قرار دیا ہے۔
صحیح البخاری میں ہے:
"حدثنا يحيى بن بكير: حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب وأبي سلمة: أن أبا هريرة رضي الله عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (قرصت نملة نبيا من الأنبياء، فأمر بقرية النمل فأحرقت، فأوحى الله إليه: أن قرصتك نملة أحرقت أمة من الأمم تسبح)."
(كتاب الجهاد والسير،باب: إذا حرق المشرك المسلم هل يحرق، رقم الحديث:2856 ، 10/ 1099،ط: دار ابن كثير)
ترجمہ: ”روایت میں ہےکہ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ ایک چیونٹی نےایک نبی کاکاٹا، انہوں نےچیونٹیوں کی بل جلادینےکاحکم دیاجوجلادیاگیا،چناں چہ اللہ تعالیٰ ان کےپاس وحی بھیجی کہ تمہیں ایک چیونٹی نےکاٹالیکن تم نےایک خلقت جلادی، جواللہ کی تسبیح کرتی ہے۔“ (کشف الباری)
سنن ابی داود میں ہے:
"عن عبد الرحمن بن عبد الله ، عن أبيه قال: «كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، فانطلق لحاجته، فرأينا حمرة معها فرخان، فأخذنا فرخيها، فجاءت الحمرة فجعلت تفرش، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: من فجع هذه بولدها؟ ردوا ولدها إليها. ورأى قرية نمل قد حرقناها، فقال: من حرق هذه؟ قلنا: نحن. قال: إنه لا ينبغي أن يعذب بالنار إلا رب النار."
(كتاب الجهاد، باب في كراهية حرق العدو بالنار، رقم الحديث : 2675، 4/ 319، ط : دار الرسالة العالمية)
ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کےساتھ تھے،آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کےلیے تشریف لے گئے،ہم لوگوں نےایک چڑیاکے مشابہ چھوٹاپرندہ دیکھا کہ جس کے دوبچےتھے،ہم نےبچوں کوپکڑلیا وہ پرندہ زمین پرآکراپنےپروں کوپھیلانےلگا اسی وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور فرمایا اس پرندے کو کس نے بےچین کیا کہ اُس کا بچہ لےلیا؟ اس کو اس کا بچہ دے دو، اور آپ صلی ٰ اللہ علیہ وسلم نے چیونٹیوں کاایک بِل دیکھا،ہم لوگوں نےاس کوجلادیاتھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایااس بِل کوکس نےآگ لگائی،ہم نےعرض کیا کہ ہم لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاآگ سےعذاب دیناآگ پیداکرنےوالےکےبغیرکسی کےلیےمناسب نہیں۔“ـ(الدرالمنضود علیٰ سنن ابی داود).
فتاوی شامی میں ہے:
"ولايحرقها، وفي المبتغى: يكره إحراق جراد وقمل وعقرب، ولا بأس بإحراق حطب فيها نمل، وإلقاء القملة ليس بأدب".
(كتاب الخنثى،مسائل شتى،6/ 752،ط : دار الفكر)
فتاوی عالگیری میں
"قتل النملة تكلموا فيها، والمختار أنه إذا ابتدأت بالأذى لابأس بقتلها، وإن لم تبتدئ يكره قتلها، واتفقوا على أنه يكره إلقاؤها في الماء، وقتل القملة يجوز بكل حال، كذا في الخلاصة".
(كتاب الكراهية،الباب الحادي والعشرون،5 / 361، ط : المطبعة الكبرى الأميرية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100172
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن