بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چہرے پربلیک ہیڈز، پھنیساں وغیرہ سے نکلنے والا مادہ پاک ہے یا ناپاک


سوال

1۔کیا بلیک ہیڈکو پھوڑنے سے وضوٹوٹ جاتا ہے اور اس سے جو مواد نکلتا ہے، وہ پاک چیز ہے؟

2۔پھنسیاں توڑنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جس سے  سفید چیز نکلتی ہے جو  سیال نہیں ہوتی بلکہ سفید مائل ٹھوس چیز ہوتی ہے وہ  نجس  ہے یا پاک ہوتی ہے؟

3۔ جب ہم صبح سونے کے بعد اٹھتے ہیں توہماری آنکھوں کے اطراف ناک کی طرف سفید قسم کی چیز ہوتی ہے کیا وہ چیز پاک ہے؟

جواب

1۔بلیک ہیڈز (سیاہ چھوٹے چھوٹے تل کی طرح دانہ ) دبانے سے عموما خون،پیپ وغیرہ نہیں نکلتی،بلکہ وہ ایک میل نما مادہ ہوتا ہے جو جلد کو اوپر جمع ہوجاتا ہے،اس کے نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا ،البتہ بسااوقات  بلیک ہیڈ ز  دبانےیا پھوڑنےسےخون ،پیپ وغیرہ بھی  نکل آتی ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ یہ  خون  / پیپ  اگر بہہ جائے یعنی اپنی جگہ  سے تجاوز کرجائے یا اتنا ہو کہ بہنے کی صلاحیت رکھتا ہو، لیکن اسے روئی / ٹشو وغیرہ سے صاف کرکے بہنے نہ دیا جائے ،تو اس سے  وضو ٹوٹ جاتا ہے اور نکلنے والا پانی / پیپ ناپاک ہوتا ہے ، اور اگر  پانی / پیپ اپنی جگہ سے نہ بہے ،دانے کے منہ پر ہی رہے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا اور وہ پاک ہے ،کپڑے پر لگنے سے کپڑا ناپاک نہیں ہوگا۔

2۔چہرے پر   پھنسیاں پھوڑنےسے  جو سفید مادہ نکلتاہے وہ پیپ ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ یہ سفید مادہ اگر  دانہ سے نکل کر اپنی جگہ  سے تجاوز کرجائے یا اتنا ہو کہ بہنے کی صلاحیت رکھتا ہو، لیکن اسے روئی / ٹشو وغیرہ سے صاف کرکے بہنے نہ دیا جائے ،تو اس سے  وضو ٹوٹ جاتا ہے اور نکلنے والا مادہ  ناپاک ہوتا ہے ، اور اگر  یہ مادہ  اپنی جگہ سے نہ بہے ،دانے کے منہ پر ہی رہے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا اور وہ پاک ہے ،کپڑے پر لگنے سے کپڑا ناپاک نہیں ہوگا۔

3۔سوکر اٹھنے کے بعد عموما آنکھوں کے اطراف میں چیپڑ /سفید مادہ جما ہوا ہوتاہے ،یہ پاک ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن قشرت نقطة وسال منها ماء أو صديد أو غيره إن سال عن رأس الجرح نقض وإن لم يسل لا ينقض هذا إذا قشرها فخرج بنفسه أما إذا عصرها فخرج بعصره لا ينقض؛ لأنه مخرج وليس بخارج. كذا في الهداية.الرجل إذا استنثر فخرج من أنفه علق قدر العدسة لا ينقض الوضوء. كذا في الخلاصة...ولو كان في عينيه رمد أو عمش يسيل منهما الدموع قالوا يؤمر بالوضوء لوقت كل صلاة لاحتمال أن يكون صديدا أو قيحا كذا في التبيين...ما يخرج من بدن الإنسان إذا لم يكن حدثا لا يكون نجسا كالقيء القليل والدم إذا لم يسل. كذا في التبيين وهو الصحيح كذا في الكافي."

(كتاب الطهارة، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس في نواقض الوضوء، ج:1، ص:11، ط:دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) كل (ما ليس بحدث) أصلا بقرينة زيادة الباء كقيء قليل ودم لو ترك لم يسل (ليس بنجس) عند الثاني، وهو الصحيح رفقا بأصحاب القروح خلافا لمحمد.

(قوله: وهو الصحيح) كذا في الهداية والكافي. وفي شرح الوقاية إنه ظاهر الرواية عن أصحابنا الثلاثة. اهـ. إسماعيل."

(کتاب الطہارۃ ،سنن الوضوء،1/ 140،ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144609102394

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں