بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

4 ماہ کے بعد حمل کو دماغی بیماری کی تشخیص کی بنا پر ساقط کرانا جائز نہیں ہے


سوال

ایک عورت کے حمل کی مدت چھ (6) ماہ ہے، اور ڈاکٹر حضرات کہہ رہے ہیں کہ  بچے کا دماغ بہہ رہا ہے، یہ حمل کی مکمل مدت کے بعد بھی پیدا ہو ا  تو  ایک دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکے گا ، چوں کہ ابھی حمل کی اقلّ مدت مکمل ہوچکی ہے، تو کیا ابھی دوائی وغیرہ کے ذریعے اس کی ڈیلیوری کی جاسکتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ    چار ماہ کے بعد کسی صورت میں   بھی حمل کو ضائع کرنا  جائزنہیں ہے،حمل کے چار ماہ بعد بچے میں جان پڑجاتی ہےاور اس کو ضائع کرنا قتل کے زمرہ میں آتا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں چھ  (6 ) ماہ کے حمل کا اسقاط کسی حال میں جائز نہیں ہے  ،نیز الٹرا ساؤنڈ میں بچے کی کسی بیماری کا علم یقینی نہیں، بلکہ گمان کے درجے میں ہوتا ہے، اور اگر یقینی بھی ہوتو اللہ پاک بقیہ مدت میں اس کو  صحت دینے  پر قدرت رکھتے ہیں اوربالفرض آخر وقت تک بھی بچہ صحیح سالم نہ ہو پھر بھی اس کااسقاط جائز نہیں ؛ کیوں کہ بیمار انسان کو مارناجائز نہیں،  اللہ پاک سے صحت یابی کی دعاکریں اورا س سے اچھی امید رکھیں اور ساتھ ساتھ بہتر علاج کا انتظام کریں۔

        فتاوی شامی میں ہے:

"وقالوا: يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج.

(قوله: وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم! يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوماً، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط؛ لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة، كذا في الفتح. وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه؛ لأنه أصل الصيد، فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لاتأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح."

(3 / 176، مطلب فی اسقاط الحمل، باب نکاح الرقیق، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100618

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں