بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چھ بیٹے اور چار بیٹیوں کی میراث


سوال

ہماری والدہ کا ایک پلاٹ تھا، اس پر ہمارے والد نے تعمیرات کیں اور ایک کمرہ بنایا اور اس کے بعد ایک بیٹے نے گراؤنڈ پلس ون تعمیر کیا، اور تعمیر سب کے لیے کی۔ اب پوچھنا یہ ہےکہ ہم بھائیوں کو ضرورت نہیں ہے، اور ہماری چار بہنیں ہیں۔ ہم ان کو ان کا حق دے دیں، تو براہ کرم ان کا جو شرعی حق بنتا ہے وہ بتا دیں۔

ہماری والدہ کے ورثاء میں چھ بیٹے  ، چار بیٹیاں اور ایک سوتیلی بیٹی(شوہر کی پہلی بیوی سےہے)، اور شوہر کا بھی انتقال ہوچکا ہے۔

 

جواب

مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزو تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ کی ذمہ کوئی قرض ہو تو کل مال سے ادا کرنے کے  بعد،اگر مرحومہ نے  کوئی جائز وصیت کی ہو توایک تہائی ترکہ سے پورا  کرنے کے بعد،  باقی تمام ترکہ    منقولہ و غیر  منقولہ کو 16حصوں میں تقسیم کر کے2حصے مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو   اور 1حصہ مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کوملیں گے ۔

صورت تقسیم یہ ہے

مسئلہ:میت (مرحومہ والدہ):16

بیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
2222221111

یعنی فیصد کے اعتبار سے12.5فیصد  مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو فیصد اور6.25  فیصد مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا ۔ نیز والدہ کی سوتیلی بیٹی والدہ کے ترکے میں حصے دار نہیں، البتہ ورثاء خوشی سے اس کو بھی کچھ دے دیں تو یہ احسان ہوگا اور باعث اجر ہوگا۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101800

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں