
ہماری والدہ کا ایک پلاٹ تھا، اس پر ہمارے والد نے تعمیرات کیں اور ایک کمرہ بنایا اور اس کے بعد ایک بیٹے نے گراؤنڈ پلس ون تعمیر کیا، اور تعمیر سب کے لیے کی۔ اب پوچھنا یہ ہےکہ ہم بھائیوں کو ضرورت نہیں ہے، اور ہماری چار بہنیں ہیں۔ ہم ان کو ان کا حق دے دیں، تو براہ کرم ان کا جو شرعی حق بنتا ہے وہ بتا دیں۔
ہماری والدہ کے ورثاء میں چھ بیٹے ، چار بیٹیاں اور ایک سوتیلی بیٹی(شوہر کی پہلی بیوی سےہے)، اور شوہر کا بھی انتقال ہوچکا ہے۔
مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزو تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ کی ذمہ کوئی قرض ہو تو کل مال سے ادا کرنے کے بعد،اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو توایک تہائی ترکہ سے پورا کرنے کے بعد، باقی تمام ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 16حصوں میں تقسیم کر کے2حصے مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو اور 1حصہ مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کوملیں گے ۔
صورت تقسیم یہ ہے
مسئلہ:میت (مرحومہ والدہ):16
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے12.5فیصد مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو فیصد اور6.25 فیصد مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا ۔ نیز والدہ کی سوتیلی بیٹی والدہ کے ترکے میں حصے دار نہیں، البتہ ورثاء خوشی سے اس کو بھی کچھ دے دیں تو یہ احسان ہوگا اور باعث اجر ہوگا۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101800
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن