بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چھ سو کے قریب آبادی والے گاؤں جمعہ کے قیام کا حکم


سوال

ہمارے گاؤں میں ایک مسجد ہے، جس میں تقریباً پندرہ بیس سال تک عیدین اور جمعہ کی نماز باقاعدگی سے ادا ہوتی رہی۔ پھر کسی مسئلے کی وجہ سے گزشتہ تین چار سال سے اس مسجد میں عید اور جمعہ کی نماز قائم نہیں ہو سکی، البتہ پانچ وقتہ نماز برابر ادا ہوتی رہی۔ اب دوبارہ اس مسجد میں جمعہ اور عیدین کی نماز شروع کرنے کا ارادہ ہے، تو سوال یہ ہے کہ کیا وہاں دوبارہ یہ نمازیں قائم کی جا سکتی ہیں یا نہیں۔

 مسجد کے قریب آبادی میں بالغ مرد و عورت تقریباً ڈھائی سو ہیں، جبکہ نابالغ افراد کی تعداد چار سو کے قریب ہے۔ کچھ عرصہ قبل جمعہ اور عیدین کی نماز اس لیے چھوڑ دی گئی تھی کہ مسجد کے اردگرد کی زمین کسی اور کی ملکیت تھی، وہ اس زمین میں پانی چھوڑ دیتا تھا، جس کی وجہ سے مسجد تک آنے جانے کا راستہ بند ہو جاتا تھا۔ اب وہ زمین کسی دوسرے شخص نے خرید لی ہے اور مسجد تک راستہ بھی بحال ہو گیا ہے۔

وضاحت :مذکورہ مسجد علاقہ کی سب سے بڑی مسجد ہے، اور بازار سے آدھا کلو میٹردور ہے جس میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کسی جگہ گھر ہے اور کوئی جگہ خالی ہے، لیکن یہ سب  بازار اور بیچ کے گھر اسی گاؤں کے سمجھے جاتے ہیں الگ کوئی نام نہیں، اور بازار میں دو سو کے قریب دکانیں ہیں، اور ضروریاتِ زندگی کی ہر چیز مل جاتی ہے، اور علاقہ کا تھانہ ایک یا ڈیڑھ کلو میٹر دور ہے۔جمعہ کے روز جمعہ پڑھنے کے لیے بازار اور اردگرد کے لوگ اسی مسجد میں آتے تھے جب تک جمعہ ہوتا رہا۔

جواب

واضح رہے کہ جمعہ  کی نماز  صحیح ہونے کے لیے شہر ،مضافات شہر یا بڑی بستی /بڑاگاؤں کا ہونا شرط ہے،اوربڑی بستی یا بڑا گاؤں  وہ ہوتا ہےجو لوگوں کے عرف میں بڑا گاؤں  کہلائے،چناچہ جس بستی کی مجموعی آبادی کم از کم دو  تین  ہزار افراد پر مشتمل ہو ،اور اس گاؤں میں بازا ر اور دوکانیں موجود ہوں ،اور اس بازار میں ضروریات زندگی کا سامان باسہولت مل جاتا ہو،تو ایسے بڑے گاؤں میں جمعہ و عیدین   کی نماز قائم کرنا درست ہوتاہے،اور اگر مندرجہ بالا شرائط نہ پائی جائیں ،توایسی بستی میں جمعہ وعیدین کی نماز قائم کرنا درست نہیں ،بلکہ جمعہ کے دن  ظہر کی نماز پڑھنا لازم ہوتاہے۔

پس صورتِ مسئولہ میں مذکورہ گاؤں  کی مجموعی آبادی چھ  سو کے قریب ہے، جس کو عرف میں چھوٹا قریہ ہی شمار کیا جاتا ہے،اس لیے مذکورہ گاؤں میں جمعہ اور عیدین کی نماز درست نہیں ہےبلکہ جمعہ کے دن ظہر کی نماز پڑھنا لازم ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله شرط أدائها المصر) أي شرط صحتها أن تؤدى في مصر حتى لا تصح في قرية، ولا مفازة لقول علي - رضي الله عنه - لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر، ولا أضحى إلا في مصر جامع أو في مدينة عظيمة رواه ابن أبي شيبة وصححه ابن حزم وكفى بقوله قدوة وإماما، وإذا لم تصح في غير المصر فلا تجب على غير أهله.

وفي حد المصر أقوال كثيرة اختاروا منها قولين: أحدهما ما في المختصر ثانيهما ما عزوه لأبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث قال في البدائع، وهو الأصح وتبعه الشارح، وهو أخص مما في المختصر، وفي المجتبى وعن أبي يوسف أنه ما إذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم للصلوات الخمس لم يسعهم، وعليه فتوى أكثر الفقهاء وقال أبو شجاع هذا أحسن ما قيل فيه، وفي الولوالجية وهو الصحيح."

(کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجمعه،ج:2،ص:151،152،ط:دار الکتاب الاسلامی)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

”قصبہ اور بڑےگاؤں میں حنفیہ کے نزدیک جمعہ جائز ہے،چھوٹے گاؤں میں جائز نہیں ،بڑا گاؤں وہ  ہےجس میں گلی کوچے ہوں ،بازارہو،روزمرہ کی ضروریات ملتی ہوں،تین چار ہزار کی آبادی ہو،ان میں مسلمان  خواہ اقلیت میں یا برابر یازائد۔“

(کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ الجمعۃ،ج:8،ص:98،مرتب:جامعہ فاروقیہ)

فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

”فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ قصبات اور قریہ کبیرہ میں نمازِ جمعہ  فرض ہے اورادا ہوتی ہے اور یہ بھی تصریح فرمائی ہے کہ چھوٹے قریہ میں باتفاقِ علمائے حنفیہ  جمعہ نہیں ہوتا ۔۔ اور قریہ کا چھوٹا بڑا ہونا مشاہدہ  سے اور کثرت و قلتِ آبادی سے معلوم ہوتا ہے ،جس قریہ میں تین چار ہزار آدمی آباد ہوں گے ظاہرا وہ قریہ کبیرہ بحکمِ قصبہ ہو سکتاہے اور اس سے کم آبادی ہو تو وہ قریہ صغیرہ کہلائے گا۔“

(کتاب الصلوۃ ،باب الجمعۃ ، ج:5، ص:125،    ط:دارالاشاعت)

            امداد الفتاوی میں ہے:

”اور کبیرہ اور صغیرہ میں مابہ الفرق اگر آبادی کی مقدار لی جاوے تو اس کا مدار عرف پر ہوگا اور عرف کے تتبع سے معلوم ہوا کہ حکامِ وقت جو کہ حکمائے تمدن بھی ہیں، چار ہزار آبادی کو قصبہ میں شمار کرتے ہیں۔ “

(کتاب الصلوۃ ،باب صلوۃ الجمعۃ والعیدین ، ج:1، ص:488، ط:دارالعلوم)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101926

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں