بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1448ھ 19 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

چاول نہ کھانے کی قسم کھانے کے بعد شیربرنج یا کھیر وغیرہ کھانے کی صورت میں شرعی حکم


سوال

چاول نہ کھانے کی قسم کھائی تو شیر برنج(یعنی دودھ میں پکائے ہوئے چاول مثلاً کھیر وغیرہ) کھانے سے حانث ہوگا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کوئی شخص ”چاول“ نہ کھانے کی قسم کھانے کےبعد” شیر برنج“ یا ”کھیر“ وغیرہ کھالے تو اِس سے حانث نہ ہوگا، کیوں کہ یہ کھیر اور شیر برنج وغیرہ چاول سے بنتی ضرور ہے،  لیکن دیگر اجزاء ترکیبی کے ساتھ پکنے کے بعد عرفِ عام میں اِسے چاول نہیں کہا جاتا ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"لو حلف لا يأكل هذا العنب فصار زبيبا أو لا يأكل هذا اللبن فصار جبنا أو حلف لا يأكل من هذه البيضة فأكل من فراريجها أو لا يذوق من هذا الخمر فصار خلا أو حلف لا يأكل من زهرة هذه الشجرة فأكل بعدما صار لوزا أو مشمشا فإنه لا يحنث."

(كتاب الأيمان، باب اليمين في الأكل والشرب واللبس والكلام، ج:4، ص: 346، ط: دار الکتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

”أن قاعدة بناء ‌الأيمان ‌على ‌العرف معناه أن المعتبر هو المعنى المقصود في العرف من اللفظ المسمى، وإن كان في اللغة أو في الشرع أعم من المعنى المتعارف."

(كتاب الأيمان، ج:3، ص:744، ط:سعيد)

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہٗ لکھتے ہیں:

مسئلہ(۱):قسم کھائی کہ یہ دودھ نہ پیوں گی۔ پھر وہی دودھ جما کر دہی بنالیا تو اس کے کھانے سے قسم نہ ٹوٹے گی۔

مسئلہ (۴): قسم کھائی کہ یہ گیہوں نہ کھاؤں گی۔ پھر اس کو پسوا کر روٹی کھائی یا ان کے ستّو کھائے تو قسم نہیں ٹوٹے گی۔“

(بہشتی زیور مکمل،  کھانے پینے کی قسم کھانے کا بیان، جلد سوم، ص: ۱۴۷-۱۴۸، ط:  توصیف پبلی کیشنز)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144802102212

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں