
زید آٹے کا چھوٹا ڈیلر ہے اور عمر بڑا ڈیلر ہے اور عمر بڑے سطح پر مِلوں سے رابطے میں ہوتا ہے، اب جب زید عمر سے آٹا طلب کرتا ہے تو دو صورتیں ہوتی ہیں:
پہلی صورت یہ ہے کہ عمر مِل والوں کو فون کر دیتا ہے کہ مثلا دو ٹرک آٹا زید کے پاس پہنچا دیں، اس صورت میں عمر ان دو ٹرکوں پر بذات خود قبضہ نہیں کرتا ہے اور ڈائریکٹ مِل والوں سے لے کر اپنا منافع رکھتا ہے، تو اب عمر کا اس طرح منافع کمانا اور زید کا اس سے یہ غیر مقبوضہ مال لینا کیسا ہے ؟
دوسری صورت یہ ہے کہ عمر نے پہلے سے مِل والوں سے مثلا دو ٹرک لیے ہوئے ہیں اور وہ مِل میں موجود ہیں، لیکن صرف عمر کے نام پر ہیں، ابھی تک عمر نے ان ٹرکوں پر قبضہ نہیں کیا، اب سال دو سال بعد ریٹ کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے زید مل کے بجائے عمر سے وہ مذکورہ مال لیتا ہے تو زید کے لیے اس بیع کا کیا حکم ہے؟ نیز زید کے لیے مذکورہ بالا صورتوں میں جواز کی صورتیں نکال کر ممنون و مشکور فرمائیں۔
کسی بھی (منقولی) چیز کو آگے بیچنے کے لیے اس چیز پر اپنی ملکیت کے ساتھ ساتھ قبضہ ہونا بھی شرط ہے، لہٰذا کسی بھی منقولی چیز کو خریدنے کے بعد قبضے حاصل ہونے سے پہلے اسے فروخت کرنا جائز نہیں، اگر منقولی چیز کو خریدنے کے بعد قبضے کیے بغیر آگے فروخت کیا گیا تو وہ سودا شرعی اعتبار سے بیع فاسد کہلائے گا اور بائع و مشتری دونوں پر الزم ہوگا کہ اس سودے کو فسخ کردیں، بلکہ اگر مشتری کو پہلے سے علم ہو کہ بائع اپنی مملوکہ چیز قبضہ کیے بغیر فروخت کر رہا ہے تو مشتری کے لیے اس چیز کو خریدنا ہی جائز نہیں ہوگا، کیوں کہ بیع فاسد کرنا شرعا ناجائز ہے۔
سوال میں ذکر کردہ دونوں صورتوں میں عمر مِل والوں سے چاول خریدنے کے بعد قبضہ کیے بغیر آگے زید پر فروخت کر رہا ہے، اس لیے عمر کا چاول کو قبضہ کیے بغیر آگے بیچنا جائز نہیں ہے اور چوں کہ زید کو بھی علم ہے کہ عمر چاول پر قبضہ کیے بغیر بیچ رہا ہے اس لیے زید کے لیے عمر سے یہ غیر مقبوض چاول خریدنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ عمر کے طرف سے قبضے کے تحقق کے بغیر چاول خریدنے سے یہ سودا بیع فاسد بن جائے گا اور بیع فاسد کرنا بائع اور مشتری دونوں کے لیے ناجائز ہے اور بیع فاسد ہونے کے باوجود اسے ختم کرنا بائع و مشتری دونوں پر لازم ہے، کیوں کہ بیع فاسد کے ذریعے حاصل ہونے والا نفع بھی حلال نہیں ہوتا ہے۔
اس لیے عمر کو چاہیے کہ مِل والوں سے چاول خریدنے کے بعد پہلے اس پر قبضہ حاصل کر ے پھر اسے آگے فروخت کرے، نیز چوں کہ وکیل کا قبضہ بھی اپنے قبضے کی طرح ہوتا ہے اس لیے اگر عمر کے لیے خود جاکر قبضہ کرنا مشکل ہو تو کسی وکیل کو بھیج کر بھی قبضہ کیا جاسکتا ہے، جس کی ایک جائز صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ عمر چاول آگے زید کو پہنچانے کے لیے اپنے گاڑی والے کو مِل والوں کے گودام بھیج دے، عمر کا گاڑی والا جب گودام سے مال وصول کر لے گا تو عمر کا قبضہ ہوجائے گا، مال وصول کرنے کے بعد وہ گاڑی والا زید کے پاس چاول پہنچا دے گا تو یہ سودا درست ہوجائے گا اور اس طرح سے زید کے لیے عمر سے مال خریدنا جائز ہوگا، اسی طرح ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ عمر کسی کو وکیل بناکر مِل بھیج دے اور عمر کا وکیل اپنی نگرانی میں مِل کے گودام سے مِل کی گاڑی میں مال لوڈ کرواکر زید کے پاس روانہ کردے تو ایسا کرنے سے بھی عمر کا قبضہ ثابت ہوجائے گا، اسی طرح قبضے کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ عمر کا وکیل زید کے گودام وغیرہ جاکر اپنی نگرانی میں مِل کی گاڑی سے مال وصول کر کے زید کے حوالے کردے تو بھی عمر کا قبضہ ہونے کی وجہ سے عمر اور زید کے درمیان چاول کی خرید و فروخت جائز ہوجائے گی۔ الغرض عمر کے خود یا اس کے وکیل/ نمائندہ کی جانب سے مال (چاول) پر باقاعدہ قبضہ کیے بغیر آگے زید کو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، البتہ قبضے کے تحقق کی کوئی بھی صورت اختیار کرنے سے عمر کا زید کو مال (چاول) فروخت کرنا جائز ہوجائے گا ۔
نوٹ: سوال میں ذکر کردہ پہلی صورت میں جس میں عمر زید کی طرف سے چاول مانگنے کے بعد کمپنی سے چاول خرید کر زید کو دیتا ہے اس میں سودے کے شرعا درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کمپنی سے چاول خریدنے سے پہلے عمر زید سے حتمی سودا نہ کرے، بلکہ صرف وعدہ کرلے کہ میں آپ کے لیے مثلا دو ٹرک چاول کمپنی سے منگوادوں گا ، کیوں کہ کسی چیز کے ملکیت میں آنے سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہے، لہٰذا جب زید کمپنی سے چاول خرید کر قبضہ کرلے تب ہی زید کو وہ چاول فروخت کرنا جائز ہوگا۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من ابتاع طعاما، فلا يبعه حتى يستوفيه، قال ابن عباس: وأحسب كل شيء مثله."
ترجمہ:"آپ ﷺنے فرمایا :جو شخص غلہ خریدے،تو اسے آگے نہ بیچےجب تک کے اس کو پورا وصول نہ کرلے،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اور میرا خیال ہے کہ ہر چیز اسی طرح ہے۔"
(كتاب البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، ج:3، ص:1159، رقم:1525، ط:دار إحياء التراث العربي)
مرقاة المفاتيح میں ہے:
"وعن ابن عباس قال: أما الذي نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم فهو الطعام) أي جنس الحبوب (أن يباع حتى يقبض) بصيغة المجهول قال ابن عباس ولا أحسب) بكسر السين وفتحها أي لا أظن (كل شيء إلا مثله) أي مثل الطعام في أنه لا يجوز للمشتري أن يبيعه حتى يقبضه. قال ابن الملك: والأظهر أنه من قول ابن عباس. (متفق عليه)."
(كتاب البيوع، باب المنهي عنها من البيوع، 6/ 67، ط:دار الكتب العلمية بيروت)
تبین الحقائق میں ہے:
"قال رحمه الله (لا بيع المنقول) أي لا يجوز بيع المنقول قبل القبض لما روينا ولقوله عليه الصلاة والسلام «إذا ابتعت طعاما فلا تبعه حتى تستوفيه» رواه مسلم وأحمد ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد فيتبين أنه باع ما لا يملك والغرر حرام لما روينا."
(کتاب البیوع، باب التولية، فصل بيع العقار قبل قبضه، ج:4 ص:80 ط: رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"(لا) يصح اتفاقا...(بيع منقول) قبل قبضه ولو من بائعه... والأصل أن كل عوض ملك بعقد ينفسخ بهلاكه قبل قبضه فالتصرف فيه غير جائز... وفي المواهب: وفسد بيع المنقول قبل قبضه، انتهى. ونفي الصحة يحتملهما. وفي الرد: (قوله: ونفي الصحة) أي الواقع في المتن يحتملهما أي يحتمل البطلان والفساد والظاهر الثاني؛ لأن علة الفساد الغرر كما مر مع وجود ركني البيع، وكثيراً ما يطلق الباطل على الفاسد أفاده ط."
(باب المرابحة و التولية، فصل في التصرف في المبيع و الثمن قبل القبض و الزيادة، ج: 5، ص: 148،147، ط: سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح.
(قوله: أن يقول خليت إلخ) الظاهر أن المراد به الإذن بالقبض لا خصوص لفظ التخلية، لما في البحر ولو قال: البائع للمشتري بعد البيع: خذ لا يكون قبضا ولو قال: خذه يكون تخلية إذا كان يصل إلى أخذه."
(كتاب البيوع، مطلب في حبس المبيع لقبض الثمن وفي هلاكه وما يكون قبضا، 4/ 561، ط:سعيد)
فتاوی شامی میں ہے:
"وسيأتي أنه معصية يجب رفعها، وسيأتي في باب الربا أن كل عقد فاسد فهو ربا، يعني إذا كان فساده بالشرط الفاسد."
(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج:5،ص:49،ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
"(و) يجب (على كل واحد منهمافسخه قبل القبض) ويكون امتناعا عنه ابن الملك (أو بعده ما دام) المبيع بحاله جوهرة (في يد المشتري إعداما للفساد) ؛ لأنه معصية فيجب رفعها بحر."
(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج:5،ص:91،ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن ذكرا البيع من غير شرط ثم ذكرا الشرط على وجه المواعدة جاز البيع ويلزم الوفاء بالوعد كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب البيوع، الباب العشرون، ج:3، ص:209، ط:دار الفكر)
فتح القدیر میں ہے:
"ومن اشتری شیا مما ینقل ویحول لم یجزلە بیعه حتی یقبضه لأنه عليه السلام نھی عن بیع مالم یقبض ولأن فیه غررانفساخ العقد علی اعتبارالھلاك ...ثم علل الحدیث (لأن فیه غررانفساخ العقد) علی اعتبارھلاك المبیع قبل القبض فیتبین حینئذ أنە باع ملك الغبر بغیر إذنە وذلك مفسد للعقدء وفی الصحاح أنە صلی الله عليه وسلم نھی عن بیع الغرر."
(فصل:اشتری شیئا مما ینقل ویحول، ج:6، ص:512-510، ط:دار الفکر)
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"أما إذا سلم البائع المبيع إلى شخص أمر المشتري بتسليمه إليه فقد حصل القبض كما لو سلم البائع المبيع إلى المشتري نفسه فإذا أمر المشتري البائع قبل القبض بتسليم المبيع إلى شخص معين وسلم البائع المبيع إلى ذلك الشخص يكون المشتري قد قبض المبيع."
(الکتاب الاول البیوع،الباب الخامس في بيان المسائل المتعلقة بالتسليم والتسلم، الفصل الاول،1/ 249،ط:دار الجلیل)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100098
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن