
میرے والد صاحب نے ایک زمین مسجد کے لیے وقف کی تھی ، جس پر مسجد تعمیر بھی کر دی گئی تھی، بعد ازاں سیلاب آنےکی وجہ سے مسجد دریا برد (شہید) ہوگئی، اور اس کے بعد کسی دوسری جگہ نئی مسجد تعمیر کر دی گئی،اب پہلی مسجد کے برآمدے کا کچھ حصہ اور صحن ابھی باقی ہے، جبکہ باقی حصہ سیلاب کی نذر ہو کر مٹی میں دب گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ:
کیا والدِ محترم اب باقی ماندہ برآمدے اور صحن کی زمین کو اپنی ملکیت والی زمین کے ساتھ ملاکر استعمال کرسکتے ہیں؟یا وہ اس زمین کی قیمت کسی مسجد یا مدرسے میں دے کر اس زمین کو اپنی زمین کے ساتھ شامل کرسکتے ہیں؟یا پھر وہ اس زمین کو قبرستان کے لیے وقف کرسکتے ہیں قیمت کے بدلے یا بغیر قیمت کے بدلے؟
واضح رہے کہ جو جگہ ایک مرتبہ شرعی مسجد بن جائے اور مسجد کی حدود میں داخل ہوجائے ،تو وہ جگہ ہمیشہ کے لیے تاقیامت زمین کی تہہ سے لے کر آسمان تک مسجد کے حکم میں شمار ہوتی ہے، ایسی زمین پر کسی اور مقصد کے لیے کوئی تعمیر یا استعمال شرعاً جائز نہیں ہوتا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے والدِ محترم کی وہ زمین جس پر مسجد قائم تھی، ہمیشہ کے لیے مسجد ہی کے حکم میں رہے گی، خواہ وہ مسجد سیلاب یا کسی اور سبب سے شہید ہو کر ملیامیٹ ہو جائے، تب بھی وہ زمین جو مسجد کی حدود میں شامل تھی بدستور ہمیشہ مسجد ہی کے حکم میں شمار ہوگی، اس کو اپنی ذاتی زمین کے ساتھ ملا کر استعمال کرنا جائز نہیں، نہ ہی اس زمین کی قیمت کسی مسجد یا مدرسے کو دے کر اس جگہ کو اپنے استعمال میں لایا جا سکتا ہے، اور نہ ہی اسے قبرستان کے لیے خرید کر وقف کرنا درست ہے۔
بلکہ اس کے ارد گرد چاردیواری بنا دی جائے تاکہ وہ آئندہ بھی مسجد کے احترام کے ساتھ باقی رہے،اگر ممکن تو مسجد کی اس جگہ کو نماز اور نمازیوں سے آباد کیا جائے ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولو خرب ما حوله واستغني عنه، يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة، (وبه يفتي) حاوي القدسی.وفي الرد : (قوله: ولو خرب ما حوله) أي ولو مع بقائه عامرا وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر (قوله: عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا، وهو الفتوی، حاوي القدسي، وأكثر المشايخ عليه، مجتبى، وهو الأوجه، فتح. اه. بحر."
(کتاب الوقف، مطلب فيما لوخرب المسجد أو غيرہ،ج:4،ص:358، ط:سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18] بخلاف ما إذا كان السرداب أو العلو موقوفا لمصالح المسجد فإنه يجوز إذ لا ملك فيه لأحد بل هو من تتميم مصالح المسجد فهو كسرداب مسجد بيت المقدس هذا هو ظاهر المذهب، وهناك روايات ضعيفة مذكورة في الهداية وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتا على سطح المسجد لسكنى الإمام فإنه لا يضر في كونه مسجدا لأنه منالمصالح ،فإن قلت: لو جعل مسجدا ثم أراد أن يبني فوقه بيتا للإمام أو غيره هل له ذلك قلت: قال في التتارخانية إذا بنى مسجدا وبنى غرفة وهو في يده فله ذلك وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس ثم جاء بعد ذلك يبني لا يتركه وفي جامع الفتوى إذا قال عنيت ذلك فإنه لا يصدق. اهـ. فإذا كان هذا في الواقف فكيف بغيره."
(كتاب الوقف، ج:5، ص:271، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوٰی محمود یہ میں ہے:
"جو جگہ ایک دفعہ شرعی طریقہ پر مسجد بنادی گئی ہے اور وہاں اذان جماعت شروع ہو جاۓ تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مسجد بن جاتی ہے، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی ہو، جب نئی مسجد بنائی گئی تو اس میں بھی اذان ، جماعت سب درست ہے، پرانی مسجد کا کوئی نشان اب موجود نہیں لیکن اگر دلیل سے ثابت ہو جا ئے کہ یہاں سے یہاں تک مسجد تھی ، تو اب اس کو قبرستان کے کام میں لانے کی اجازت نہیں ، بلکہ اس جگہ کو گھیر کر محفوظ کر دیا جاۓ ، تاکہ وہاں مردے دفن نہ ہوں اور اذ ان ،نماز سے اس پرانی چھوٹی مسجد کو بھی آباد کیا جائے۔"
(کتاب الوقف، باب احکام المساجد، ج:23،ص:112،111، ط: ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100162
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن