بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چار بیٹوں اور دو بیٹیوں کے درمیان میراث کی تقسیم


سوال

مجھے والدین کی وراثت کا شرعی مسئلہ معلوم کرنا ہے، ہم دو بھائی اور چار بہنیں ہیں،ایک بھائی اور بڑی بہن کا انتقال  والدین کے بعدہوگیا ہے،والدین کا پہلے ہی انتقال ہوچکا ہے ،ہمارا گھر 6 کروڑ کا فروخت ہورہاہے،اس میں دونوں بھائیوں کا کتنا حصہ ہے،اور چار بہنوں کا کتنا حصہ ہوگا۔براہ مہربانی شرعی تقسیم بتادیں ۔

جواب

صورت مسئولہ میں مرحوم کی میراث تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزو تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے  بعداوراگر مرحوم نے  کوئی جائز وصیت کی ہو تو  اسے باقی مال کے ایکتہائی  ترکہ سےنافذ کرنے کے بعد،  باقی  کل ترکہ    منقولہ و غیر  منقولہ کو8 حصوں میں تقسیم کرکے 2 ،2 ،حصے  مرحوم کے ہرایک بیٹے کو ،اور 1،1،حصہ مرحوم کی ہرایک بیٹی کو ملیں گے۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت:(والد/والدہ)مسئلہ :8

بیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹی بیٹی
221111

یعنی مرحوم کے ترکہ کے25 فیصد مرحوم کےہرایک بیٹے کو،12.5فیصد مرحوم کی ہرایک بیٹی کو ملیں گے۔

اور چھ کروڑ روپے میں  سے15000000مرحوم کے ہرایک بیٹے کو ،7500000روپے مرحوم کی ہرایک بیٹی کو ملیں گے۔

نیز مرحوم کے جس بیٹے اور بیٹی کا انتقال ہو اہے اس کا حصہ ان کی اولاد میں ان کے شرعی حصوں کےمطابق تقسیم کیا جائے گا۔ ان کے ورثاء کی تفصیل بتا کر حصے معلوم کیے جا سکتے ہیں۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706102091

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں