
مجھے والدین کی وراثت کا شرعی مسئلہ معلوم کرنا ہے، ہم دو بھائی اور چار بہنیں ہیں،ایک بھائی اور بڑی بہن کا انتقال والدین کے بعدہوگیا ہے،والدین کا پہلے ہی انتقال ہوچکا ہے ،ہمارا گھر 6 کروڑ کا فروخت ہورہاہے،اس میں دونوں بھائیوں کا کتنا حصہ ہے،اور چار بہنوں کا کتنا حصہ ہوگا۔براہ مہربانی شرعی تقسیم بتادیں ۔
صورت مسئولہ میں مرحوم کی میراث تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزو تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعداوراگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی مال کے ایکتہائی ترکہ سےنافذ کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو8 حصوں میں تقسیم کرکے 2 ،2 ،حصے مرحوم کے ہرایک بیٹے کو ،اور 1،1،حصہ مرحوم کی ہرایک بیٹی کو ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہے:
میت:(والد/والدہ)مسئلہ :8
| بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی مرحوم کے ترکہ کے25 فیصد مرحوم کےہرایک بیٹے کو،12.5فیصد مرحوم کی ہرایک بیٹی کو ملیں گے۔
اور چھ کروڑ روپے میں سے15000000مرحوم کے ہرایک بیٹے کو ،7500000روپے مرحوم کی ہرایک بیٹی کو ملیں گے۔
نیز مرحوم کے جس بیٹے اور بیٹی کا انتقال ہو اہے اس کا حصہ ان کی اولاد میں ان کے شرعی حصوں کےمطابق تقسیم کیا جائے گا۔ ان کے ورثاء کی تفصیل بتا کر حصے معلوم کیے جا سکتے ہیں۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706102091
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن