
میرے والد صاحب کا انتقال ہوا ہے، اور میری والدہ کا انتقال والد کی وفات سے پہلے ہو گیا تھا، والد کے ترکہ میں ایک گھر ہے، جس کی قیمت 2 کروڑ 43 لاکھ روپے ہے، اب ورثاء میں کس تناسب سے تقسیم کیا جائے گا؟ جب کہ ورثاء میں چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم والد کے حقوقِ متقدمہ یعنی کفن، دفن کا خرچہ ( اگر کسی نے بطورِ قرض کیا ہو تو وہ )نکالنے کے بعد،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو وہ ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ایک تہائی ترکہ میں اسے نافذ کرنے کے بعد ، باقی کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 11 حصوں میں تقسیم کر کے دو ،دو حصے کر کے ہر ایک بیٹے کو اور ایک ایک حصہ کر کے ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہے :
میت : 11
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 |
یعنی24300000 روپے میں سے 4418181.18 روپے ہر ایک بیٹے کو اور 2209090.90 روپے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100724
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن