
عورتوں کیلئے چاندی کی پیزار پہنا کیسا ہے؟
پیزار پشتو زبان میں جوتیوں کو کہتے ہیں، اور شریعت نے سونے چاندی کے زیورزینت کے لیے پہنناعورت کے لیے جائزہے،البتہ وہ زیورجس کوپہن کرچلنے سے آوازنکلتی ہواورفتنے کااندیشہ ہوتواس کااستعمال جائزنہیں،اگرپیزار کی بناوٹ ایسی ہے کہ اسے پہن کرباہرنکلنے اورچلنے سے جھنکارکی آواز آتی ہے تواس کا استعمال شرعاً جائز نہیں،البتہ ایسے پیزار جوسونے چاندی سے بنے ہوں اورایسی کوئی شئی ان میں نہ جڑی ہوجس سے جھنکارکی آوازپیداہوتی ہواورنہ ہی چلتے وقت ان پرغیرمردوں کی نگاہ پڑنے کااندیشہ ہوتوایسے پیزار پہنناجائز ہے ۔
اعلاء السنن میں ہے:
"یجوز للنساء لبس انواع الحلی کلها."
(اعلاء السنن، ج:17، ص:293، ط:دارالبشائر)
بذل المجهود في حل سنن أبي داود میں ہے:
"(عن عائشة) - رضي الله عنها - (قالت: بينما هي) أي بنانة (عندها) أي عند عائشة (إذ دخل عليها) أي على عائشة (بجارية) صغيرة (وعليها جلاجل يصوتن، فقالت) عائشة: (لا تدخلنها علي إلا أن تقطعوا جلاجلها) عنها. (وقالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا تدخل الملائكة بيتا فيه جرس).
وكتب مولانا محمد يحيى المرحوم من تقرير شيخه - رحمه الله -: قوله: "بيتا فيه جرس"، ومن الواجب أن يعلم أن هذه الكراهة فيما كان وضعه كذلك، وأما ما ليس بموضوع للصوت والجرس فلا يحرم، وإن لزم فيه التصويت أحيانا، كما يشاهد في حلي النساء إذا أكثرن منها."
(باب ماجاء في الجلاجل، ج:12، ص:259، ط:الدراسات الإسلامية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144508101504
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن