
ایک مولوی صاحب اور ایک عام آدمی نے لوگوں کے چندے کے ساتھ اپنے پیسے ملا کر اس نیت سے زمین خریدی کہ اس پر مسجد اور مدرسہ تعمیر کریں گے، اب 10 ، 12سال بعد وہ عام شخص اس پوری خالی زمین کو بیچنا چاہتا ہے، سوال یہ ہے کہ اس شخص کے لیے یہ زمین بیچنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتادیں کہ کیا یہ زمین وقف ہو چکی ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں جب ایک مولوی صاحب اور ایک عام شخص نے لوگوں کے چندہ کے پیسوں میں اپنی ذاتی رقم ملا کر اس نیت سے زمین خریدی کہ اس پر مسجد اور مدرسہ تعمیر کریں گے، لیکن خریداری کے وقت یا بعد میں اس زمین کو صراحتاً وقف نہیں کیا، نہ ہی ایسے الفاظ استعمال کیے جن سے وقف لازم ہوجاتا ہے، تو محض نیت سے یہ زمین شرعاً موقوفہ نہیں ہوئی ۔
تاہم مذکورہ شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بلا کسی شرعی و انتظامی مصلحت کے اپنی مرضی سے پوری زمین فروخت کر دے، کیونکہ اس زمین میں چندہ دینے والوں کا حق بھی شامل ہے اور ان کا چندہ خاص مقصد یعنی مسجد و مدرسہ کی تعمیر کے لیے دیا گیا تھا، اس لیے اسے محض اپنی ذاتی ملک سمجھ کر تصرف کرنا درست نہیں۔
البتہ جب تک اس زمین کو باقاعدہ وقف نہ کیا گیا ہو اور مذکورہ شخص متولی یا مجاز منتظم کی حیثیت رکھتا ہو، اور کسی متبادل اور بہتر انتظام کی غرض سےمسجد یا مدرسہ ہی کے فائدے کے لیے اس زمین کو فروخت کرنا مقصود ہو، اور اس کی حاصل شدہ رقم اسی مصرف میں لگائی جائے، تو ایسی صورت میں زمین بیچنے کی گنجائش ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(اشترى المتولي بمال الوقف دارًا) للوقف (لاتلحق بالمنازل الموقوفة ويجوز بيعها في الأصح)؛ لأن للزومه كلامًا كثيرًا و لم يوجد هاهنا."
وفي الرد:عن القنية إنما يجوز الشراء بإذن القاضي لأنه لايستفاد الشراء من مجرد تفويض القوامة إليه فلو استدان في ثمنه وقع الشراء له. اهـ.
قلت: لكن في التتارخانية قال الفقيه: ينبغي أن يكون ذلك بأمر الحاكم احتياطًا في موضع الخلاف.
(قوله: ويجوز بيعها في الأصح) في البزازية بعد ذكر ما تقدم وذكر أبو الليث في الاستحسان يصير وقفا وهذا صريح في أنه المختار. اهـ. رملي.
قلت: وفي التتارخانية المختار أنه يجوز بيعها إن احتاجوا إليه."
(کتاب الوقف، مطلب اشترى بمال الوقف دارا للوقف يجوز بيعها، ج:4، ص:416، ط:سعید)
فتای عالمگیری میں ہے:
"متولي المسجد إذا اشترى بمال المسجد حانوتًا أو دارًا ثم باعها جاز إذا كانت له ولاية الشراء، هذه المسألة بناء على مسألة أخرى إن متولي المسجد إذا اشترى من غلة المسجد دارًا أو حانوتًا فهذه الدار و هذا الحانوت هل تلتحق بالحوانيت الموقوفة على المسجد؟ و معناه أنه هل تصير وقفًا؟ اختلف المشايخ رحمهم الله تعالى قال الصدر الشهيد: المختار أنه لاتلتحق و لكن تصير مستغلًا للمسجد."
(کتاب الوقف، الباب الخامس في ولاية الوقف وتصرف القيم في الأوقاف، ج:2، ص: 417، ط:دار الفکر)
فتاوی محمودیہ میں ایک سوال کے جواب میں ہے:
”چندہ کا روپیہ وقف نہیں ہوتا، اس لیے اس کو جائیدادِ موقوفہ میں شامل نہیں کیا جاسکتا، البتہ اگر اس روپیہ سے کوئی شئی قابل وقف خرید کر مسجد میں وقف کردی جائے تو وہ شئی وقف ہوگی۔“
(باب احکام المساجد، ج:15، ص:161، ط:ادارۃ الفاروق)
اسی طرح ایک اور سوال کے جواب میں ہے:
”جو عمارت چندہ کرکے بنائی گئی ہو یا خریدی گئی ہو، وہ ابھی وقف نہیں ہوئی جب تک اس کو وقف نہ کردیا جائے اور مصالحِ مدرسہ کا تقاضا ہے کہ اسے اب سے وقف کردیا جائے۔“
(باب ما یتعلق بالمدارس، ج:15، ص:580، ط:ادارۃ الفاروق)
امداد الفتاوی میں ہے:
”سوال(۶۹۵) : چندہ کے احکام وقف کے ہوں گے یا اور مہتمم تنخواہ مقررہ سے زائد بطور انعام وغیرہ کے دے سکتا ہے یا نہیں ؟
الجواب: یہ وقف نہیں۔ معطیین کا مملوک ہے۔اگر اہل چندہ صراحۃً یا دلالۃً انعام دینے پر رضا مند ہوں درست ہے ورنہ درست نہیں۔“
(کتاب الوقف، ج:2، ص:560 ط:مکتبۂ دارالعلوم کراچی)
کتاب النوازل میں ہے:
”سوال(۱۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کوئی قطعہ زمین مدرسہ کے اِحاطہ سے متصل چندہ عمومی یا خصوصی سے خریدنے کے بعد کب سے موقوفہ شمار ہوگی؟ جب کہ اَلفاظِ مخصوصہ میں سے کوئی لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہو، آیا بنیتِ وقف یا بنیتِ تابید خریدنے سے موقوفہ ہوجائے گی؟ یا کوئی عمارت تعمیر کردینے سے وقف تام ہوجائے گی؟ حالاںکہ رکن وقف (الفاظِ مخصوصہ) نہیں پایا گیا؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ الجواب وباللّٰہ التوفیق: مدرسہ کی طرف سے جو زمین چندہ سے خریدی جاتی ہے، وہ محض خریدنے سے وقف نہیں ہوجاتی ہے؛ بلکہ مدرسہ کی ملکیت شمار ہوتی ہے، پھر اگر اہلِ مدرسہ اُسے باقاعدہ وقف کردیں یا مسجد بنادیں، اُس کے بعد ہی اُس پر وقف کا حکم جاری ہوگا۔“
(کتاب الوقف، ج:13، ص:58، ط:المرکز العلمی للنشر والتحقیق لال باغ مراد آباد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144708102282
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن