بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چندہ سے امام و موذن کو تنخواہ دینے کا حکم


سوال

رمضان المبارک میں شب قدر کا جو چندہ کیا جاتا ہے اس رقم میں سے امام اور  مؤذن کو تنخواہ دی جا سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر  مذکورہ چندہ مسجد کی ضروریات کے لیےکیا جاتا ہےتو  اس سے امام  اور موذن کو تنخواہ  دینا جائز ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے :

"يعني أن الصرف إلى ما هو أقرب إلى العمارة كالإمام ونحوه إنما هو فيما إذا لم يكن الوقف معينا على جماعة معلومين كالمسجد والمدرسة، أما لو كان معينا كالدار الموقوفة على الذرية أو الفقراء فإنه بعد العمارة يصرف الريع إلى ما عينه الواقف بلا تقديم لأحد على أحد فاغتنم هذا التحرير."

(کتاب الوقف ،ج:4،ص:368،ط:سعید)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"وإذا أراد أن ‌يصرف ‌شيئا ‌من ‌ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك، إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف، كذا في الذخيرة."

کتاب الوقف ،باب فی المسجد ،ج:2،ص:463،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144411102698

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں