بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چند اردو عبارات کی تخریج اور درست عربی حوالہ کی طرف نشاندہی


سوال

کچھ احادیث کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں، حوالہ کے ساتھ رہنمائی فرمائیں:

1۔ حدیث میں فرمایا: "حجابه النور"یا "حجابه النار"غیب سے آواز آئی: أن بورك من في النار ومن حولها۔

2۔ احادیث صحیحہ میں حیوانات کا تکلم بلکہ جمادات محضہ کا بات کرنا اور تسبیح پڑھنا ثابت ہے۔

3۔ جس رات حضرت محمد ﷺ نے ہجرت فرمائی، اس رات مکہ کے کئی کافر آپ ﷺ کے گھر کے باہر بیٹھے تھے، ان کا ارادہ تھا کہ صبح اندھیرے میں سب مل کر آپ ﷺ پر حملہ کریں، تاکہ اگر خون بہا ہو تو سب قبائل اس میں شریک ہوں اور کسی ایک پر قصاص لازم نہ آئے، لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ ﷺ بخیروعافیت نکل گئے، اور وہ آپ ﷺ کو پکڑ نہ سکے۔

4۔ حدیث مبارکہ میں کسی شخص پر عالم الغیب یا فلان و یعلم الغیب کا اطلاق نہیں کیا، بلکہ حدیث میں اس پر انکار کیا گیا ہے۔

5۔ قیامت سے پہلے صفا پہاڑِ مکہ پھٹے گا اس میں سے ایک جانور نکلے گا جو لوگوں سے باتیں کرے گا کہ اب قیامت نزدیک ہے اور سچی ایمان والوں کو اور چپھے منکروں کو نشان دے کر جدا کرے گا ۔بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل آخر زمانے میں طلوع الشمس من المغرب کے دن ہوگا۔

6۔ ایک بار صور پھونکا جائے گا تو تمام مخلوق مر جائے گی، دوسری بار پھونکا جائے گا تو سب زندہ ہو جائیں گے، پھر جب صور پھونکا جائے گا تو لوگ گھبرا جائیں گے، اور جب دوبارہ پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہو جائیں گے، پھر جب آخری بار پھونکا جائے گا تو سب ہوش میں آ جائیں گے، اس طرح صور پھونکنے کا عمل کئی بار ہوگا۔

کیا واقعی یہ احادیث ہیں؟ اگر  ثابت ہیں تو عربی متن کے ساتھ درکار ہیں۔

جواب

سوال میں  مذکور  عبارتوں  میں سے بعض میں احادیثِ نبویہ کی طرف، کہیں قرآنی آیات کی طرف، اور کہیں تاریخی روایات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؛ لہٰذا بطورِ تخریج، ان عبارات کے مآخذ کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی عربی عبارتیں ذیل میں ترتیب وار پیش کی جا رہی ہیں۔

1۔ قرآنِ کریم میں ہے:

﴿فَلَمَّا جَاءَهَا نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [النمل: 8]          
ترجمہ: ” سو جب اس آگ کے پاس پہنچے تو ان کو (منجانب الله) آواز دی گئی کہ جو اس آگ کے اندر ہیں (یعنی فرشتے) ان پر بھی برکت ہو اور جو اس کے پاس (یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اس پر بھی برکت ہو یہ دعا بطور تحیہ وسلام کے ہے اور رب العالمین پاک ہے۔“

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي عبيدة، عن أبي موسى قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بخمس كلمات، فقال: إن الله عز وجل لا ينام ‌ولا ‌ينبغي ‌له ‌أن ‌ينام، ‌يخفض ‌القسط ‌ويرفعه، يرفع إليه عمل الليل قبل عمل النهار، وعمل النهار قبل عمل الليل، حجابه النور - وفي رواية أبي بكر: النار- لو كشفه لأحرقت سبحات وجهه ما انتهى إليه بصره من خلقه."

(كتاب الأيمان، باب: في قوله عليه السلام: إن الله لا ينام، 1/ 111، ط: دار المنهاج)

مسند احمد میں ہے:

"عن أبي موسى قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله عز وجل لا ينام، ولا ينبغي له أن ينام، يخفض القسط ويرفعه، حجابه النار، ‌لو ‌كشفها ‌لأحرقت ‌سبحات وجهه كل شيء أدركه بصره، ثم قرأ أبو عبيدة {نودي أن بورك من في النار ومن حولها وسبحان الله رب العالمين}."

(حديث أبي موسى الأشعري، 32/ 358، ط: مؤسسة الرسالة)

2۔ سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن عبد الله بن جعفر، قال: أردفني رسول الله صلى الله عليه وسلم خلفه ذات يوم، فأسر إلي حديثا لا أحدث به أحدا من الناس، وكان أحب ما استتر به رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجته هدفا أو حائش نخل، قال: فدخل ‌حائطا ‌لرجل ‌من ‌الأنصار، فإذا جمل، فلما رأى النبي صلى الله عليه وسلم حن وذرفت عيناه، فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم فمسح ذفراه فسكت، فقال: من رب هذا الجمل؟ لمن هذا الجمل؟ فجاء فتى من الأنصار، فقال: لي يا رسول الله، قال: أفلا تتقي الله في هذه البهيمة التي ملكك الله إياها، فإنه شكا إلي أنك تجيعه وتدئبه."

(أول كتاب الجهاد، باب ما يؤمر به من القيام على الدواب والبهائم، 4/ 201، ط: دار الرسالة العالمية)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر بن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني ‌لأعرف ‌حجرا ‌بمكة كان يسلم علي قبل أن أبعث، إني لأعرفه الآن."

(‌‌كتاب الفضائل، ‌‌باب فضل نسب النبي صلى الله عليه وسلم وتسليم الحجر عليه قبل النبوة، 7/ 58، ط: دار المنهاج)

3۔ سیرتِ ابنِ ہشام میں ہے:

قال ابن إسحاق: فحدثني من لا أتهم من أصحابنا، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن مجاهد بن جبير أبي الحجاج، وغيره ممن لا أتهم، عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: لما أجمعوا لذلك، واتعدوا أن يدخلوا في دار الندوة ليتشاوروا فيها في أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم، غدوا في اليوم الذي اتعدوا له، وكان ذلك اليوم يسمى يوم الزحمة، فاعترضهم إبليس في هيئة شيخ جليل ... قال: فقال أبو جهل بن هشام: والله إن لي فيه لرأيا ما أراكم وقعتم عليه بعد، قالوا: وما هو يا أبا الحكم؟ قال: أرى أن نأخذ من كل قبيلة فتى شابا جليدا نسيبا وسيطا فينا، ثم نعطي كل فتى منهم سيفا صارما، ثم يعمدوا إليه، فيضربوه بها ضربة رجل واحد، فيقتلوه، فنستريح منه. فإنهم إذا فعلوا ذلك تفرق دمه في القبائل جميعا، فلم يقدر بنو عبد مناف على حرب قومهم جميعا، فرضوا منا بالعقل، فعقلناه لهم. قال: فقال الشيخ النجدي: القول ما قال الرجل، هذا الرأي الذي لا رأي غيره، فتفرق القوم على ذلك وهم مجمعون له."

(‌‌هجرة الرسول صلى الله عليه وسلم، اجتماع الملأ من قريش، وتشاورهم في أمر الرسول صلى الله عليه وسلم، 1/ 482، ط: مكتبة المصطفى البابي الحلبي)

4۔ قرآنِ کریم میں ہے:

﴿قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ﴾ [النمل: 65]          
ترجمہ: ”آپ کہہ دیجیے کہ جتنی مخلوقات آسمان اور زمین (یعنی عالم) میں موجود ہیں (ان میں سے) کوئی بھی غیب کی بات نہیں جانتا بجز اللہ تعالیٰ کے اور (اسی وجہ سے) ان (مخلوقات) کو یہ خبر نہیں کہ وہ کب دوبارہ زندہ کیے جاویں گے۔“

5۔ قرآنِ کریم میں ہے:

﴿وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ﴾ [النمل: 82] 
ترجمہ: ”اور جب وعدہ (قیامت کا) ان پر پورا ہونے کو ہوگا تو ہم ان کے لیے ایک (عجیب) جانور نکالیں گے کہ وہ ان سے باتیں کرے گا کہ (کافر) لوگ ہماری (یعنی اللہ تعالیٰ کی) آیتوں پر یقین نہ لاتے تھے۔“

صحیح مسلم میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو قال: حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا لم أنسه بعد: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: « إن أول الآيات خروجا طلوع الشمس من مغربها، ‌وخروج ‌الدابة على الناس ضحى، وأيهما ما كانت قبل صاحبتها فالأخرى على إثرها قريبا."

(كتاب الفتن، ‌‌باب في خروج الدجال ومكثه في الأرض، 8/ 202، ط: دار المنهاج)

سننِ ترمذی میں ہے:

"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: "تخرج الدابة معها خاتم سليمان، وعصا موسى، فتجلو وجه المؤمن، وتختم أنف الكافر بالخاتم، حتى إن أهل الخوان ليجتمعون فيقول: هاها يا مؤمن، ويقال: هاها يا كافر، ويقول هذا: يا كافر، وهذا: يا مؤمن."

(أبواب تفسير القرآن، ومن سورة النمل، 5/ 408، ط: دار الرسالة العالمية)

6۔قولِ راجح کے مطابق نفخے دو ہوں گے (یعنی صور پھونکنے کا عمل دو مرتبہ ہوگا): ایک نفخہ سے تمام مخلوق مر جائے گی، اور کافی عرصہ گزرنے کے بعد دوسرا نفخہ ہوگا، جس سے دوبارہ تمام مخلوق زندہ ہو جائے گی۔

قرآنِ کریم میں ہے:

﴿وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ﴾ [النمل: 87] 
ترجمہ: ”اور جس دن صور میں پھونک ماری جا وے گی سو جتنے آسمان اور زمین میں ہیں سب گھبرا جاویں گے مگر جس کو خدا چاہے (وہ اس گھبراہٹ سے اور موت سے محفوظ رہے گا) اور سب کے سب اسی کے سامنے دبے جھکے رہیں گے۔“

تفسیرِ قرطبی میں ہے:

"قال أبو هريرة: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" إن الله لما فرغ من خلق السماوات خلق الصور فأعطاه إسرافيل فهو واضعه على فيه شاخص ببصره إلى العرش ينتظر متى يؤمر بالنفخة" قلت: يا رسول الله ما الصور؟ قال: قرن والله عظيم والذي بعثني بالحق إن عظم دارة فيه كعرض السماء والأرض فينفخ فيه ثلاث نفخات النفخة الأولى نفخة الفزع والثانية نفحة الصعق والثالثة نفخة البعث والقيام لرب العالمين" وذكر الحديث. ذكره علي بن معبد والطبري والثعلبي وغيرهم، وصححه ابن العربي. وقد ذكرته في كتاب" التذكرة" وتكلمنا عليه هنالك، وأن الصحيح في النفخ في الصور أنهما نفختان لا ثلاث، وأن نفخة الفزع إنما تكون راجعة إلى نفخة الصعق لأن الأمرين لا زمان لهما، أي فزعوا فزعا ماتوا منه، أو إلى نفخة البعث وهو اختيار القشيري وغيره، فإنه قال في كلامه على هذه الآية: والمراد النفخة الثانية أي يحيون فزعين يقولون:" من بعثنا من مرقدنا"، ويعاينون من الأمور ما يهولهم ويفزعهم، وهذا النفخ كصوت البوق لتجتمع الخلق في أرض الجزاء."

(تفسير سورة النمل، 13/ 240، ط: دار الكتب المصرية)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101336

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں