بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چند سالوں کی قضا نماز ادا کرنے کا طریقہ


سوال

اگر کسی کے ذمےّ بہت سالوں کی نمازیں قضاء ہو ں اور اسے سال یاد ہو لیکن یہ یاد نہ ہو کہ پورے سال میں کون سے تاریخ کو کون سے دن کو کب کب نماز پڑھی اور کب کب قضا ہوتی رہی اور روزے کا بھی سال یاد ہو لیکن کتنے رکھیں اور کتنے نہیں یہ یاد نہ رہا تو کیا کریں قضا نمازیں پڑھتے ہوئے اور روزے رکھتے ہوئے کیا نیت کرنا چاہیے تفصیل بیان کریں..؟؟

جواب

اگر کسی کو بہت سالوں کی نماز یں قضا ہو جائیں تو اس کے لیے تو ضروری ہے کہ یاد کرے کہ کتنی ساری نمازیں  قضا ہوئی ہیں، اگر کوشش کے با وجود یاد نہیں آئےتوپھر تحری کرے اور تحری کر کے  قضا نماز ادا کرے جب تک  دل میں یہ اطمینان نہ ہو جائے کہ میری ساری کی ساری   قضا نماز  ادا ہو چکی ہیں،  رمضان کے روزوں  کا بھی یہی حکم ہے۔ 

الدر المحتار میں ہے: 

"(قوله كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس و الجمعة و السبت فإذا قضاها  لا بد من التعين  لأن فجر الخميس مثلا غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول أول فجل مثلا، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولا أو يقول آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخرا، و لا يضره عكس الترتيب لسقوطه بكثرة  الفوائت. و قيل لا يلزمه التعيين."

(کتاب الصلاۃ، باب سجود السهو، ج: 2 ص: 76 ط: ایچ ایم سعید)

ايضا الدر المحتار میں ہے: 

(قوله لو من رمضانين) لأن كل رمضان سبب لصومه فصارا كظهرين من يومين بخلاف صوم يومين من رمضان واحد فيصح و إن لم يعين القضاء عن  اليوم الأول أو الثاني منه. 

(كتاب الصلاة، باب سجود  السهو ج: 2 ص: 77 ط: ایچ ایم سعید) 

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے: 

"سوال: (1863) تین چار سال تک بوجہ بیماری کے ایک شخص کی نمازیں قضا ہوتی رہیں،  لیکن تعداد محفوظ نہ رہی، بعد بیماری کے نمازیں قضا کیں، لیکن ان کی تعداد بھی محفوظ نہ رہی، اب کتنی نمازیں لوٹانی جایئں؟

جواب: ایسی صورت میں اندازہ اور تخمینہ کرکے نمازیں قضا کی جاویں۔ "

(فوت شدہ نمازیں قضا کرنے کا بیان، چند سالوں کی فوت شدہ نمازیں کس طرح قضا کرے؟  ج: 4 ص: 403  ط: مکتبہ دار العلوم دیوبند) 

فقط اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709102252

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں