بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 محرم 1448ھ 17 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چند مشہور روایات کا جائزہ اور تخریج


سوال

کیا مندرجہ ذیل باتیں صحیح ہیں؟ احادیث سے ثابت ہیں؟اور ان کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟

1۔ نمرود کے دماغ میں لنگڑا مچھر گھس گیا، چالیس سال جوتے لگواتا رہا، آخرِ کار ایک دن جوتے لگنے سے دماغ پھٹ گیا، اور وہ لنگڑا مچھر مینڈک کے برابر ہوگیاتھا، اللہ تعالی نے مینڈک سے کہا چوں کہ آپ نے نمرود کو ہلاک کیا ہے، اس لیے نمرود کی باد شاہت آپ لے لیں، لیکن مچھر نے کہانہیں، مجھے بادشاہت نہیں چاہیے، مجھے میرے پر صحیح کردیں“ ۔اس دن سے یہ مشہور ہے کہ باد شاہت کی قیمت ایک مچھر کے پر کے برابر نہیں۔

الف: حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو منجنیق سے پھینکا گیا، کیوں کہ آگ بہت بڑی تھی، قریب کوئی نہیں جاسکتا تھا، اور آگ میں آپ چالیس دن رہے، ایک چشمہ اور ایک انار کا درخت اللہ پاک نے آگ میں پیدا فرمایا، غورِ طلب بات یہ ہے کہ ایک آدمی کو جلانے کے لیے کتنی آگ درکار ہے؟ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اوپر سے پرندہ گزرتا  تو آگ کی حدت سے بھن کر نیچے گرجاتا تھا۔  دوسری طرف یہ بھی روایات میں ہے کہ چڑیا چونچ میں پانی لے کر آگ بجھانے کے لیے اس پر ڈالتی تھی، اگر پرندہ جلتا تھا تو کیسے اوپر سے پانی ڈالتی تھی، معلوم یہ کرنا ہے کہ چالیس دن آگ کیسے جلتی رہی؟ امریکہ اور آسٹریلیا میں جنگل میں آگ لگتی ہے، پچاس پچاس کلومیٹر جنگل ایک دن میں جل جاتا ہے، حالاں کہ وہ درخت گیلے ہوتے ہیں اور یہ لکڑی تو خشک ہوں گئی، یہ کیسے ممکن ہے کہ چالیس دن جلتی ہے؟

ب: دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں نمرود کی بیٹی پاس کھڑی تھی وہ دیکھ کر مسلمان ہوگئی، اس کے ساتھ دودھ پیتا بیٹا تھا، کفار نے اس کے بیٹے کو بھی آگ میں پھینک دیا، ابراہیم علیہ السلام کو تو بغیر منجنیق کے پھینک نہیں سکے اور دودھ پیتے بچے کو ہاتھ  سے پھینک دیا، حالاں کہ آگ کے قریب نہیں جاسکتے، مزید یہ کہ نمرود کی بیٹی نے ابراہیم علیہ السلام سے بات بھی کرلی، جب آگ کے قریب نہیں جاسکتے، تو اس نے بات کیسے کرلی، آگ کے شعلے ہوتے ہیں، شعلوں میں ابراہیم علیہ السلام کیسے نظر آگئے؟  رسی جس میں ابراہیم علیہ السلام کوباندھا تھا، وہ جل گئی، لیکن ابراہیم علیہ السلام نہیں جلے، لباس کا کیا بنا؟

3۔ گھر میں آٹا نہیں تھا، ابراہیم علیہ السلام باہر گئے بوری میں ریت بھر کرلے آئے، وہ ریت آٹا بن گئی، آپ آکر سوگئے، اٹھے تو روٹی تیار تھی۔

4۔ موسی علیہ السلام کا جو اژدہا تھا اس کا جبڑا جب کھولتا تھا تو وہ تین کلومیٹر کا تھا۔ 

5۔ موسی علیہ السلام کے مقابلہ میں فرعون کی فوج 14 لاکھ تھی، اتنی فوج تو آج امریکہ کے پاس بھی نہیں، اتنی فوج تھی تو باقی آبادی ملاکر یہ تعداد تو کروڑوں میں بنتی ہے، اور اتنے بڑے شہر اس زمانے میں ناممکن ہے۔

6۔ فرعون پر اس لیے عذاب جلدی نہیں آیا کہ وہ 70 ہزار لوگوں کو روزانہ اپنے دسترخوان سے کھانا کھلاتا تھا۔

برائے کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

جواب

1۔ مذکورہ روایت ”مصنف ابن ابی شبہ“، ”صحیح وضعیف تاریخ الطبری“، ”مرآۃ الزمان“، ”تفسیر ابن کثیر“ اور”حیاۃ الحیوان“وغیرہ کتابوں میں موجود ہے، اور اسرائیلیات میں سے ہے،اگرچہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے خلافِ  عادت اس روایت پر کوئی نقد نہیں کیا، لیکن یہ بہرحال اسرائیلی روایت ہے، البتہ روایت کے کسی بھی معتبر مصدر میں مچھر کا مینڈک بن جانا یا یہ مکالمہ: ”اللہ تعالیٰ نے مینڈک سے کہا کہ چونکہ تم نے نمرود کو ہلاک کیا ہے، لہٰذا بادشاہت تم لے لو۔“ وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ملتا، لہٰذا یہ حصہ اصل روایت کا جزو نہیں ہے اور اسے روایت کے ساتھ ملانا اور پھر اس  پر  بطور نتیجہ یہ  جملہ: ”اس دن سے یہ مشہور ہے کہ باد شاہت کی قیمت ایک مچھر کے پر کے برابر نہیں۔“  درست نہ ہوگا۔

مصنف ابن أبي شيبة  میں ہے:

عن أبي عبيدة أن جبارا من الجبابرة قال: لا أنتهي حتى أنظر إلى من في السماء، قال: فسلط (الله) عليه أضعف خلقه، فدخلت (بقة) في أنفه فأخذه الموت، فقال: اضربوا رأسي، فضربوه حتى (نثروا) دماغه."

(كتاب الزهد، حديث أبي عبيدة، 20/ 9، ط: دار كنوز، إشبيليا)

صحيح وضعيف تاريخ الطبريمیں ہے:

"ثم بعث الله إلي الجبار مَلَكًا: أن آمنْ بي وأتركك علي ملكك، قال: فهل ربّ غيري؟ فجاءه الثانية فقال له ذلك، فأبي عليه، ثم أتاه الثالثة فأبي عليه، فقال له المَلك: اجمع جموعك إلى ثلاثة أيام، فجمع الجبّار جموعَه، فأمر الله الملك، ففتح عليهم بابا من البَعوض، فطلعت الشمس فلم يروها من كثرتها، فبعثها الله عليهم، فأكلت لحومَهم وشربت دماءهم، فلم يبق إلا العظام، والملك كما هو لم يُصبْه من ذلك شيء، فبعث الله عليه بعوضةً فدخلتْ في منخره، فمكث أربعمئة سنة يُضرب رأسه بالمطارق، وأرحم الناس به مَنْ جمع يديه ثم ضرب بهما رأسه، وكان جبَّارًا أربعمئة عام، فعذبه الله أربعمئة سنة كملكه وأماته الله، وهو الذي بنى صرْحًا إلي السماء، فأتي الله بنيانه من القواعد، وهو الذي قال الله: {فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ}."

(‌‌أمر نمرود بن كوش بن كنعان، 6/ 205، ط: دار ابن كثير)

مرآة الزمان في تواريخ الأعيانمیں ہے:

"وقال مقاتل: أربعين يومًا، وقيل: ست مئة سنة، قال السُّدي: والأصحُّ أربعين سنة، حتى هلك."

(‌‌فصل في هلاك نمرود وبنائه للصرح وحديث النسور،1/ 426، ط: دار الرسالة العالمية)

 تفسير ابن كثير  میں ہے:

"وقال عبد الرزاق: عن معمر، عن زيد بن أسلم: أول جبار كان في الأرض النمروذ، فبعث الله عليه بعوضة، فدخلت في منخره، فمكث أربعمائة سنة ‌يضرب ‌رأسه ‌بالمطارق، وأرحم الناس به من جمع يديه فضرب بهما رأسه، وكان جبارا أربعمائة سنة، فعذبه الله أربعمائة سنة كملكه، ثم أماته الله وهو الذي كان بني صرحا إلى السماء، الذي قال الله تعالى: {فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ}."

(‌تفسير سورة النحل وهي مكية، 8/ 305، ط: مؤسسة قرطبة)

حياة الحيوان الكبريمیں ہے:

"قال وهب بن منبه لما أرسل الله تعالى البعوض على النمروذ، اجتمع منه في عسكره ما لا يحصى عددا، فلما عاين النمروذ ذلك، انفرد عن جيشه ودخل بيته وأغلق الأبواب وأرخى الستور ونام على قفاه مفكرا، فدخلت ‌بعوضة ‌في ‌أنفه وصعدت إلى دماغه فعذب بها أربعين يوما حتى إنه كان يضرب برأسه الأرض وكان أعز الناس عنده من يضرب رأسه ثم سقطت منه كالفرخ وهي تقول كذلك يسلط الله رسله على من يشاء من عباده ثم هلك حينئذ."

(‌‌باب الباء الموحدة، البعوض، 1/ 187، ط: دار الكتب العلمية)

مولانا نظام الدین اسیر ادروی رحمہ اللہ (المتوفي: 1442ھ) نے اس واقعہ کو اسرائیلیات میں شمار کیا ہے۔  مولانا  لکھتے  ہیں : 

”  ابن کثیر نے اس کو ذکر کیا ہے ، لیکن حسب عادت اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، او رنہ ہی اس روایت کی حیثیت پر گفتگو کی ہے ،اور نہ ہی ان کی صحت وعدمِ صحت پر اپنی کوئی رائے لکھی ہے، حالانکہ انہوں نے حتي الامکان بیشتر مواقع پر ان اسرائیلی روایتوں پر بھرپور تنقید کی ہے ، اور ان  کےکذب وبطلان پر مدلل بحث کی ہے، لیکن اس روایت کو  ذکر کرکے خاموشی سے گزر گئے ہیں ، یہ حیرت کی بات ہے، جب کہ ان روایتوں کا اسرائیلیات سے ہونا بدیہی یقینی اور قطعی ہے۔ تفسیر ابن کثیر (1/ 261)، الدر المنثور (2/ 24 و25)۔“

(تفسیروں میں اسرائیلی روایات ،عنون: مختلف واقعات اور اسرائیلی روایات، نمرود کے شاہی  جشن اور موت کا واقعہ ، ص: 436، حاشیہ نمبر: 1، ط: مکتبہ عثمانیہ راولپنڈی)

الف:قرآنِ کریم اور صحیح روایات سے صرف اتنا ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود سرکش نے آگ میں ڈال دیا، اور اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے آگ کی شدت و اثر کو ختم کرکے آگ کو ابراہیم علیہ السلام کے لیے بے ضرر اور پُرسکون بنادیا۔

باقی یہ کہ نمرود ظالم نے آپ کو کس چیز کے ذریعے پھینکا؟ آپ کتنے دن آگ میں رہے؟ آگ کی کیا کیفیت تھی؟ اور آگ کی شدت سے پرندے وغیرہ جلتے تھے یا نہیں؟ وغیرہ،  یہ سب باتیں تاریخی روایات (اسرائیلی روایات) سے ہیں،  اس بارے میں توقف کرنا بہتر ہے، جب تک کہ معتبر سند سے ثابت نہ ہوجائیں، کیوں کہ ان پر نہ دین کا مدار ہے نہ ہی دنیا کا کوئی فائدہ متعلق ہے، لیکن آگ میں چشمہ اور انار کا درخت پیدا ہونا، یا چڑیا کا چونچ میں پانی لاکر ڈالنا،یہ باتیں ہمیں کسی بھی  روایت میں بھی نہیں مل سکیں، لہٰذا ان کے بیان سے احتراز ضروری ہے، جب تک کہ کسی معتبر سند سے ثابت نہ ہوں۔

البتہ یہ عقلی اشکال کرنا کہ:”چالیس دن آگ کیسے جلتی رہی؟ امریکہ اور آسٹریلیا میں جنگل میں آگ لگتی ہے، پچاس پچاس کلومیٹر جنگل ایک دن میں جل جاتا ہے، حالانکہ درخت گیلے ہوتے ہیں اور یہ لکڑی تو خشک ہوگی، تو یہ آگ چالیس دن کیسے جل سکتی ہے؟“ یہ اشکال درست نہیں۔ 
اول: یہ بات کسی روایت سے ثابت نہیں کہ نمرود کی آگ چالیس دن تک جلتی رہی، اور اگر ثابت بھی ہوجائے تو اس پر عقلی اشکال نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا معاملہ ہے، انسان کی ناقص عقل اللہ کی قدرت کا احاطہ نہیں کرسکتی، انسان کی عقل میں کسی چیز کا نہ آنا، اس کے ناممکن ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ انسانی عقل کی کمزوری کی دلیل ہے،دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی ایسی مخلوقات پیدا فرمائی ہیں جو انسانی آنکھ سے اوجھل ہیں، مگر اللہ تعالیٰ ان سب کو جانتا بھی ہے اور اُن کو رزق بھی پہنچاتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کرسکتا ہے، اور ان کی اہلیہ حوّارضی اللہ عنہا  کو ان کی پسلی سے پیدا کرسکتا ہے، پھر آدم علیہ السلام کو جنت سے دنیا میں بھیج سکتا ہے، اور قیامت کے دن پوری کائنات کو ختم کرکے دوبارہ زندہ کرسکتا ہے، حساب و کتاب لے سکتا ہے، جنت و جہنم کے فیصلے کرسکتا ہے،  تو کیا وہ ربِّ کائنات نمرود کی آگ کو اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے لیے ٹھنڈی نہیں کرسکتا؟! لہٰذا یہ اشکال بے محل ہے بلکہ ایمانی کمزوری کی علامت ہے۔

ب:مذکورہ باتیں ہمیں کسی اسرائیلی روایت میں نہیں ملیں، البتہ جس رسی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو باندھا گیا تھا اس کے جلنے کا ذکر ایک اسرائیلی روایت میں موجود ہے، جسے ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

﴿قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ (68) قُلْنَا يَانَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ [الأنبياء: 68-69]
ترجمہ: ” (آپس میں) وہ لوگ کہنے لگے کہ ان کو آگ میں جلاؤ اور اپنے معبودوں کا ان سے بدلا لو اگر تم کو کچھ کرنا ہے۔ جب انہوں نے متفق ہو کر آگ میں ڈال دیا تو (اس وقت) ہم نے (آگ کو) حکم دیا کہ اے آگ تو ٹھنڈی اور بےگزند ہوجا ابراہیم (علیہ السلام) کے حق میں۔“ (بیان القرآن)

تفسير ابن كثير میں ہے:

"وقال ابن أبي حاتم: حدثنا علي بن الحسين، حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا مهران، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن المنهال بن عمرو قال: أخبرت أن إبراهيم ألقي في النار، فقال: كان فيها إما خمسين وإما أربعين، قال: ما كنت أياما وليالي قط أطيب عيشا إذ كنت فيها وددت أن عيشي وحياتي كلها مثل عيشي إذ كنت فيها."

(سورة الأنبياء، 5/ 309، ط: دار الكتب العلمية)

تفسير القرطبيمیں ہے:

"وجاء في الخبر: أن نمرود بنى صرحا طوله ثمانون ذراعا وعرضه أربعون ذراعا. قال ابن إسحاق: وجمعوا الحطب شهرا ثم أوقدوها، واشتعلت واشتدت، حتى إن كان الطائر ليمر بجنباتها فيحترق من شدة وهجها. ثم قيدوا إبراهيم ووضعوه في المنجنيق مغلولا. ويقال: إن إبليس صنع لهم المنجنيق يومئذ. فضجت السموات والأرض ومن فيهن من الملائكة وجميع الخلق، إلا الثقلين ضجة واحدة: ربنا! إبراهيم ليس في الأرض أحد يعبدك غيره يحرق فيك فأذن لنا في نصرته. فقال الله تعالى:" إن استغاث بشيء منكم أو دعاه فلينصره فقد أذنت له في ذلك وإن لم يدع غيري فأنا أعلم به وأنا وليه" فلما أرادوا إلقاءه في النار، أتاه خزان الماء- وهو في الهواء- فقالوا: يا إبراهيم إن أردت أخمدنا النار بالماء. فقال: لا حاجة لي إليكم. وأتاه ملك الريح فقال: لو شئت طيرت النار. فقال: لا. ثم رفع رأسه إلى السماء فقال:" اللهم أنت الواحد في السماء وأنا الواحد في الأرض ليس أحد يعبدك غيري حسبي الله ونعم الوكيل". وروى أبي بن كعب رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم (إن إبراهيم حين قيدوه ليلقوه في النار قال لا إله إلا أنت سبحانك رب العالمين لك الحمد ولك الملك لا شريك لك) قال: ثم رموا به في المنجنيق من مضرب شاسع، فاستقبله جبريل، فقال: يا إبراهيم ألك حاجة؟ قال:" أما إليك فلا". فقال جبريل: فاسأل ربك. فقال:" حسبي من سؤالي علمه بحالي". فقال الله تعالى وهو أصدق القائلين: (يا نار كوني بردا وسلاما على إبراهيم) قال بعض العلماء: جعل الله فيها بردا يرفع حرها، وحرا يرفع بردها، فصارت سلاما عليه. قال أبو العالية: ولو لم يقل" بردا وسلاما" لكان بردها أشد عليه من حرها، ولو لم يقل" على إبراهيم" لكان بردها باقيا على الأبد. وذكر بعض العلماء: أن الله تعالى أنزل زربية «1» من الجنة فبسطها في الجحيم، وأنزل الله ملائكة: جبريل وميكائيل وملك البرد وملك السلامة. وقال علي وابن عباس: لو لم يتبع بردها سلاما لمات إبراهيم من بردها، ولم تبق يومئذ نار إلا طفئت ظنت أنها تعنى. قال السدي: وأمر الله كل عود من شجرة أن يرجع إلى شجره ويطرح ثمرته. وقال كعب وقتادة: لم تحرق النار من إبراهيم إلا وثاقه. فأقام في النار سبعة أيام لم يقدر أحد أن يقرب من النار، ثم جاءوا فإذا هو قائم يصلي."

(سور ة الأنبياء، 11/ 304، ط: دار الكتب المصرية)

معارف القرآن میں ہے:

 ”قُلْنَا يٰنَارُكُـوْنِيْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ ، اوپر گزر چکا ہے کہ آگ کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر برد وسلام ہونے کی یہ صورت بھی ممکن ہے کہ آگ آگ ہی نہ رہی ہو بلکہ ہوا میں تبدیل ہوگئی ہو مگر ظاہر یہ ہے کہ آگ اپنی حقیقت میں آگ ہی رہی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے آس پاس کے علاوہ دوسری چیزوں کو جلاتی رہی بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جن رسیوں میں باندھ کر آگ میں ڈالا گیا تھا ان رسیوں کو بھی آگ ہی نے جلا کر ختم کیا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بدن مبارک تک کوئی آنچ نہیں آئی (کما فی بعض الروایات)۔تاریخی روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس آگ میں سات روز رہے اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے عمر میں کبھی ایسی راحت نہیں ملی جتنی ان سات دنوں میں حاصل تھی (مظہری) ۔“ (معارف القرآن)

تفسیرِ عثمانی میں ہے:

” ف ٦:  یعنی بحث و مناظرہ میں تو اس سے جیت نہیں سکتے۔ اب صرف ایک ہی صورت ہے کہ (جو معبود ہماری بلکہ خود اپنی مدد نہیں کرسکتے) ہم ان کی مدد کریں اور ان کے دشمن کو سخت ترین سزا دیں۔ اگر ایسا نہ کرسکے تو ہم نے کچھ کام نہ کیا۔ چناچہ اس مشورہ کے موافق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلانے کی سزا تجویز ہوئی۔ گویا جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے بت توڑ کر ان کے دل جلائے تھے، یہ ان کو آگ میں جلا ڈالیں۔ آخر ظالموں نے جمع ہو کر نہایت اہتمام اور بےرحمی کے ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سخت بھڑکتی ہوئی آگ کی نذر کردیا۔ 
 ف ۷:  یعنی تکویناً آگ کو حکم ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈی ہوجا۔ لیکن اس قدر ٹھنڈی نہیں کہ برودت سے تکلیف پہنچنے لگے۔ ایسی معتدل ٹھنڈی ہو جو جسم وجان کو خوشگوار معلوم ہونے لگے (تنبیہ) آگ کا ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈا ہوجانا ان کا معجزہ تھا۔ معجزہ کی حقیقت یہ ہی ہے کہ حق تعالیٰ اپنی عام عادت کے خلاف سبب عادی کو مسبب سے یا مسبب کو سبب سے جدا کر دے، یہاں احراق کا سبب (آگ) موجود تھی، مگر مسبب اس پر مرتب نہ ہوا۔“ (تفسیر عثمانی) 

صحيح  بخاری میں ہے:

"عن سعيد بن المسيب، عن أم شريك رضي الله عنها:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بقتل الوزغ. وقال: (‌كان ‌ينفخ ‌على ‌إبراهيم عليه السلام."

(كتاب الأنبياء، باب: قول الله تعالى: {واتخذ الله إبراهيم خليلا}، 3/ 1226، ط: دار ابن كثير)

 3۔ مذکورہ  روایت ”تاریخ الطبری“، ”تفسیر الثعلبی“ اور ”الہدایہ الی بلوغ النہایہ“ وغیرہ کتابوں میں موجود ہے، اور معجزاتِ انبیاء میں سے ہے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴾ [البقرة: 258] 
ترجمہ: ”(اے) مخاطب تجھ کو اس شخص کا قصہ تخقیق نہیں ہو ا (یعنی نمرود کا) جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے مباحثہ کیا تھا اپنے پروردگار کے (وجود کے) بارے میں اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نے اس کو سلطنت دی تھی جب ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا پروردگار ایسا ہے کہ وہ جلاتا ہے اور مارتا ہے کہنے لگا کہ میں بھی جلاتا ہوں اور مارتا ہوں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آفتاب کو (روز کے روز) مشرق سے نکالتا ہے تو (ایک ہی دن) مغرب سے نکال دے اس پر متحیر رہ گیا وہ کافر ( اور کچھ جواب نہ بن آیا) اور اللہ تعالیٰ (کی عادت ہے کہ) ایسے بیجاراہ پر چلنے والوں کو ہدایت نہیں فرماتے۔“(بیان القرآن)

تاريخ الطبريمیں ہے:

"حدثني الحسن بن يحيى، قال: أخبرنا عبد الرزَّاق، قال: أخبرنا معمر عن زيد بن أسلم: أنّ أولَ جبار كان في الأرض نُمرود، وكان الناس يخرجون فيمتارون من عنده الطعام، فخرج إبراهيم يمتارُ مع من يمتارُ، فإذا مرّ به ناس قال: مَنْ ربُّكم؟ قالوا: أنت، حتى مرّ به إبراهيم، قال: من ربك؟ قال: {رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَال أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ قَال إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ}.
قال: فردَّه بغير طعام، قال: فرجع إبراهيمُ إلي أهله فمرَّ علي كثيب أعفر، فقال: هلّا آخذُ من هذا فآتيَ به أهلي فتطيبَ أنفسهم حين أدخل عليهم! فأخذ منه، فأتي أهلَه، قال: فوضع متاعه ثم نام، فقامت امرأتُه إلي متاعه ففتحته فإذا هي بأجود طعام رآه أحدٌ، فصنعت له منه، فقرّبته إليه - وكان عهد أهله ليس عندهم طعام - فقال: منْ أين هذا؟ قالت: من الطعام الذي جئتَ به، فعلم أن الله قد رزقه، فحمِد الله.
ثم بعث الله إلي الجبار مَلَكًا: أن آمنْ بي وأتركك علي ملكك، قال: فهل ربّ غيري؟ فجاءه الثانية فقال له ذلك، فأبي عليه، ثم أتاه الثالثة فأبي عليه، فقال له المَلك: اجمع جموعك إلى ثلاثة أيام، فجمع الجبّار جموعَه، فأمر الله الملك، ففتح عليهم بابا من البَعوض، فطلعت الشمس فلم يروها من كثرتها، فبعثها الله عليهم، فأكلت لحومَهم وشربت دماءهم، فلم يبق إلا العظام، والملك كما هو لم يُصبْه من ذلك شيء، فبعث الله عليه بعوضةً فدخلتْ في منخره، فمكث أربعمئة سنة يُضرب رأسه بالمطارق، وأرحم الناس به مَنْ جمع يديه ثم ضرب بهما رأسه، وكان جبَّارًا أربعمئة عام، فعذبه الله أربعمئة سنة كملكه وأماته الله، وهو الذي بنى صرْحًا إلي السماء، فأتي الله بنيانه من القواعد، وهو الذي قال الله: {فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ}."

 

(‌‌أمر نمرود بن كوش بن كنعان، 1/ 288، ط: دار المعارف بمصر)

تفسير الثعلبيمیں ہے:

"واختلفوا في وقت هذه المناظرة، فقال مقاتل: لما كسر إبراهيم الأصنام سجنه نمرود ثم أخرجه ليحرقه بالنار، فقال له: من ربك الذي تدعونا إليه؟ قال: ربي الذي يحيي ويميت. وقال آخرون: كان هذا بعد إلقائه في النار. عبد الرزاق عن معمر بن زيد بن أسلم: أن أول جبار في الأرض كان نمرود بن كنعان ‌وكان ‌الناس ‌يخرجون ‌فيمتارون ‌من ‌عنده ‌الطعام. قال: فخرج إبراهيم عليه السلام يمتار. فإذا مر به أناس قال: من ربكم؟ قالوا: أنت، حتى مر به إبراهيم قال: من ربك، قال: الذي يحيي ويميت. كما ذكره الله تعالى. قال: فرده بغير طعام فرجع إبراهيم عليه السلام إلى أهله فمر على كثيب من رمل أعفر فقال: ألا أخذ من هذا فأتي به أهلي فتطيب أنفسهم حين أدخل عليهم، فأخذ منه فأتى به أهله فوضع متاعه ثم نام فقامت امرأته إلى متاعه ففتحته فإذا هو أجود طعام رآه أحد فصنعت له منه فقربت إليه وكان عهد بأهله ليس لهم طعام."

 (سورة البقرة، 2/ 239، ط: دار إحياء التراث العربي)

4۔  تین کلو میٹر والی بات ہمیں نہیں ملی، البتہ ایک اسرائیلی روایت میں 80 اور دوسرے قول کے مطابق  40 گز کا تذکرہ آیا ہے۔

تفسير القرطبيمیں ہے:

"قال ابن عباس والسدي: كانت إذا فتحت فاها صار شدقها ثمانين ذراعا، واضعة ‌فكها ‌الأسفل ‌على ‌الأرض، وفكها الأعلى على سور القصر. وقيل: كان سعة فمها أربعين ذراعا، فالله أعلم. فقصدت فرعون لتبتلعه، فوثب من سريره فهرب منها واستغاث بموسى، فأخذها فإذا هي عصا كما كانت. قال وهب: مات من خوف العصا خمسة وعشرون ألفا."

(سورة الأعراف،  7/ 258، ط: دار الكتب المصرية)

5۔  فرعون کی فوج کی مذکورہ تعداد  بھی ہمیں کسی بھی روایت میں نہیں ملی ہے، البتہ ایک اسرائیلی روایت میں بنی اسرائیل کی تعداد: 620000 (چھ لاکھ بیس ہزار)، اور فرعون کے لشکر کی تعداد 2,600,000 (چھبیس لاکھ) ذکر ہے۔ باقی یہ کہنا کہ  اس زمانے میں اتنا بڑا شہر ناممکن تھا یہ بات درست نہیں ہے۔

 تفسير ابن كثير میں ہے:

"فاليوم ننجيك ببدنك لتكون لمن خلفك آية وإن كثيرا من الناس عن آياتنا لغافلون (92)}
يذكر تعالى كيفية إغراقه فرعون وجنوده فإن بني إسرائيل لما خرجوا من مصر بصحبة موسى عليه السلام وهم فيما قيل ستمائة ألف مقاتل سوى الذرية وقد كانوا استعاروا من القبط حليا كثيرا فخرجوا به معهم فاشتد حنق فرعون عليهم فأرسل في المدائن حاشرين يجمعون له جنوده من أقاليمه فركب وراءهم في أبهة عظيمة وجيوش هائلة لما يريده الله تعالى بهم ولم يتخلف عنه أحد ممن له دولة وسلطان في سائر مملكته فلحقوهم وقت شروق الشمس."

(سورة يونس، 4/ 254، ط: دار الكتب العلمية)

تفسير القرطبيمیں ہے:

"فخرج موسى ببني إسرائيل وهم ستمائة ألف وعشرون ألفا، وتبعه فرعون مصبحا في ألفي ألف وستمائة ألف."

(سورة اليونس، 8/ 377، ط: دار الكتب المصرية)

6۔ متعین طور پر 70 ہزار لوگوں کو روزانہ کھانا کھلانے والی  بات تو ہمیں نہیں ملی، البتہ  فرعون کی سخاوت  سے متعلق ایک تاریخی روایت میں تذکرہ ملتا ہے: ”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے  اللہ تعالیٰ سے عرض کیا : فرعون نے دو سوسال آپ کی نافرمانی کی، اور دعویٰ کیا کہ وہ خود"رب"ہے،  تو آپ نے اس کو  کیسے مہلت دے دی؟ اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ میں نے چند خصلتوں کی وجہ سے  اس کو مہلت دی، میں نے اس کے لیے عدل اور سخاوت کو محبوب بنادیا، اور آپ کی پرورش  اس کے سپرد کی۔۔ الخ“۔

فضائل مصر وأخبارها وخواصهالابن زولاق میں ہے:

"وقال موسى: يا رب، إن فرعون جحدك مائتي سنة، وادعى أنه أنت مائتي سنة، فكيف أمهلته؟ فأوحى الله إليه: أمهلته لخلال فيه. إني حببت إليه العدل والسخاء، وحفظت له تربيتك، وفي حديث آخر: إنه عَمَّر بلادي، وأحسن إلى عبادي."

(‌‌ذكر من ملك مصر من الطوفان إلى أن فتحت بالإسلام، 1/ 21، ط: مكتبة الخانجي، القاهرة)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100173

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں