بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر سے نکالنے اور نان و نفقہ نہ دینے کی صورت میں عدالت سے تنسیخِ نکاح کا شرعی حکم


سوال

میری  26سال پہلے شادی  ہوئی تھی ، اس کے بعد چار سال قبل مجھے ایک طلاق دی" میں تمہیں طلاق دیتاہوں " ، پھر تین ماہواریاں گزرنے سے پہلے رجوع کرلیا تھا ،پھر  کچھ وقت بعد ایک مزید طلاق دی "میں تمہیں طلاق دیتاہوں " پھر تین ماہواریاں گزرنے سے پہلے رجوع کرلیا تھا ، ساڑھے تین سال پہلے سے ہم الگ رہتے ہیں اور اب  چارسال سے زیادہ ہوگئے ہیں ،ہمارے درمیان کوئی میاں بیوی والا تعلق قائم نہیں ہوا،اور میرا شوہر مجھے چھوڑتا بھی نہیں  اور نان نفقہ بھی نہیں دیتا تو  کیا چارسال سے زائد علیحدہ رہنے سے نکاح باقی رہتا ہے یا ختم ہوجاتا ہے ،اور یاد رہے کہ اس دوران کوئی طلاق نہیں دی،شرعا میرے لیے کیا حکم ہے ؟

وضاحت :شوہر نے  خود گھر سے  نکال دیا ہے ۔

جواب

صورت مسئولہ میں  محض ساڑھے تین سال  دور رہنے اور چارسال تک  ازدواجی تعلق قائم نہ کرنے کی وجہ  سے نکاح ختم نہیں ہوا، بدستور  نکاح برقرار ہے ۔

نیز اگر واقعۃ سائلہ کے شوہر نے سائلہ  کو گھر سے نکال دیا ہے شوہر نہ گھر بساتا ہے اور نہ ہی  نان نفقہ دیتاہے تو شوہر کا یہ طرز عمل خلاف شریعت ہے ،شوہر اپنے غیرشرعی رویہ کی وجہ سے گناہ گار ہے،شوہر کی شرعی و اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ بیوی کو اپنے پاس بلاکر  اس کے حقوق ادا کرے یا اس کو باعزت طریقہ سے آزاد کرے ۔

سائلہ اولا خاندان کے معزز افراد کو درمیان میں ڈال کر شوہر بیوی کو اپنے پاس بلانے اور اس کو نان نفقہ دینے پر راضی کرے ،سمجھانے کے  باوجود  اگر شوہر  بیوی کو اپنے پاس  بلانے پر راضی  نہ ہو اور نہ ہی نان نفقہ  دینے پر راضی ہو تو  اس صورت میں سائلہ کو چاہیے کہ وہ شوہر سے طلاق حاصل کرلے، اگر طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو تو باہمی رضامندی سے مہر کی واپسی یا معافی کی بنیاد پر اس سے خلع لے لے، اگر شوہرسائلہ کواپنےساتھ   نہ رکھنےپرآمادہ ہو ، نہ نان و نفقہ دے رہا ہو، نہ طلاق دے اور نہ ہی خلع  دینے پر رضامند ہواورسائلہ کےلئے  نان ونفقہ کا کوئی انتظام بھی نہ ہونہ عزت وعفت  کے ساتھ زندگی گزارسکتی ہوتوشدیدمجبوری کی حالت میں   عدالت سے تنسیخِ نکاح کرایا جاسکتا ہے،  جس کی صورت یہ ہے کہ  عورت اپنے شوہر کے خلاف کسی مسلمان جج کی عدالت میں نان ونفقہ نہ دینے کی بنیاد پر فسخ نکاح کا مقدمہ دائر کرے اور اولا عدالت میں شرعی گواہوں کے ذریعے اپنا نکاح ثابت کرے اس کے بعد شرعی گواہوں کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ شوہر نان ونفقہ  ادا نہیں کرتا اور نہ ہی ساتھ رکھنے پر آمادہ ہے اور نہ  میں نے نان ونفقہ معاف کیا ہے نہ ہی نفقہ کا انتظام موجود ہے بعد ازاں عدالت   شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ  معاملہ کی  پوری تحقیق کرے، اگر عورت کا دعویٰ  دوشرعی گواہوں سے صحیح ثابت ہوجائے کہ اس کا شوہر  نہ توساتھ رکھنے پرآمادہ ہوتاہے ، اور نہ    خرچہ  دیتا  ہے تو اس کے  شوہر سے کہا جائے  کہ  عورت کے حقوق ادا کرو  یا  طلاق دو ،  ورنہ ہم تفریق کردیں گے،  اس کے بعد بھی اگر  وہ کسی صورت پر عمل نہ کرے یا سرے سے عدالت میں حاضر ہی نہ ہو  تو  قاضی یامسلمان جج  دونوں کے درمیان تفریق کردے گااورتنسیخ نکاح کافیصلہ دے گا۔پھرتنسیخ نکاح کے فیصلہ کےبعدعدت گزرنےکےبعدسائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزادہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته...الخ."

(کتاب الطلاق ،باب النفقة، ج:3، ص:572، ط:سعید)

وفیہ ایضا:

"(ولو قضى على الغائب بلا نائب ينفذ) في أظهر الروايتين عن أصحابنا ذكره منلا خسرو في باب خيار العيب (وقيل لا) ينفذ ورجحه غير واحد، وفي المنية والبزازية ومجمع الفتاوى وعليه الفتوى ورجح.(قوله: ولو قضى على غائب إلخ)...وقال في جامع الفصولين: قد اضطربت آراؤهم وبيانهم في مسائل الحكم للغائب، وعليه ولم يصف ولم ينقل عنهم أصل قوي ظاهر يبنى عليه الفروع بلا اضطراب ولا إشكال فالظاهر عندي أن يتأمل في الوقائع، ويحتاط ويلاحظ الحرج والضرورات فيفتي بحسبها جوازا أو فسادا، مثلا لو طلق امرأته عند العدل فغاب عن البلد، ولا يعرف مكانه أو يعرف، ولكن يعجز عن إحضاره أو عن أن تسافر إليه هي أو وكيلها لبعده أو لمانع آخر، وكذا المديون لو غاب وله نقد في البلد أو نحو ذلك، ففي مثل هذا لو برهن على الغائب، وغلب على ظن القاضي أنه حق لا تزوير، ولا حيلة فيه فينبغي أن يحكم عليه وله،."

 (کتاب القضاء،فصل فی الحبس،ج:5،ص:414،ط:سعید)

الفقه الإسلامي وأدلته  میں ہے:

"انحلال الزواج: هو إنهاؤه باختيار الزوج، أو بحكم القاضي، والفرقة لغة بمعنى الافتراق، وجمعها فرق، واصطلاحا: هي انحلال رابطة الزواج، وانقطاع العلاقة بين الزوجين بسبب من الأسباب."

 (القسم السادس ،الباب السادس، الفصل الاول،ج:9،ص: 6863،ط:دار الفكر)

حیلہ ناجزہ میں ہے:

سوال : جو شخص با وجود قدرت کے اپنی زوجہ کے حقوق نان و نفقہ ادانہ کرتا ہو، کیا اس کی زوجہ کو حق ہے کہ کسی طرح اپنے آپ کو اس کی زوجیت سے نکال سکے؟ اگر ہے تو اس کی کیا صورت ہے؟ 

الجواب:  زوجہ متعنت  کو اول تو لازم ہے کہ کسی طرح خاوند سے خلع وغیرہ کرلے، لیکن اگر باوجود سعی بلیغ کے کوئی صورت نہ بن سکے، تو سخت مجبوری کی حالت میں مذہب مالکیہ پر عمل کرنے کی گنجائش ہے؛ کیوں کہ ان کے نزد یک زوجہ متعنت کو تفریق کا حق مل سکتاہے، اور سخت مجبوری کی دو صورتیں ہیں: 

ایک یہ کہ عورت کا خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو سکے، یعنی نہ تو کوئی شخص عورت کے خرچ کا بندو بست کرتا ہو اور نہ خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو۔ اور دوسری صورت مجبوری کی یہ ہے کہ اگر چہ بسہولت یا بدقت خرچ کا انتظام ہو سکتا ہے لیکن شوہر سے علیحدہ رہنے میں ابتلاء معصیت کا قومی اندیشہ ہو۔ 

اور صورت تفریق کی یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ قاضی اسلام یا مسلمان حاکم اور ان کے نہ ہونے کی صورت میں جماعت مسلمین  کے سامنے پیش کرے، اور جس کے پاس پیش ہو وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ سے پوری تحقیق کرے۔ اور اگر عورت کا دعوی صحیح ثابت ہو کہ با وجود وسعت کے خرچ نہیں دیتا، تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنی عورت کے حقوق ادا کرویا طلاق دو ور نہ ہم تفریق کر دیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ ظالم کسی صورت عمل نہ کرے تو قاضی یا شرعا جو اس کے قائم مقام ہو طلاق واقع کردے، اس میں کسی مدت کے انتظار اور مہلت کی باتفاق مالکیہ ضرورت  نہیں  - للرواية الثالثة والعشرين من الفتوى للعلامة سعيد بن صديق۔

( عنوان :حکم زوجہ متعنت ص؛73،74،  ط: دارالاشاعت) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100566

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں