بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چاند کے معاملہ میں اصل رؤیت ہے


سوال

احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ چاند دیکھ کر مہینے کا آغاز کرو ،اس لئے مسلمان ہر مہینے کی 29 تاریخ کو آسمان پر نئے چاند کو ڈھونڈتے ہیں اور چاند نظر آ جائے تو اگلے مہینے کا آغاز کرتے ہیں۔ اصل مقصد اس بات کا تعین کرنا ہوتا ہے کہ نیا چاند وجود میں آ چکا ہے ،چاند دیکھنا اصل مقصد نہیں ہوتا، لیکن پرانے زمانے میں یہی ایک طریقہ تھا کہ چاند دیکھ کر چاند کی پیدائش کا پتا کیا جائے کیونکہ اس وقت نہ دوربین تھی اور نہ جدید آلات اس لئے لوگ پہلی تاریخ کے چاند کو آسمان پر ڈھونڈتے تھے ، آج کل محکمہ فلکیات والے پہلے سے بتا دیتے ہیں کہ نیا چاند کس وقت پیدا ہو گا، س لئے چاند کو آسمان پر ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ مہینے کے آغاز کے لئے چاند کی پیدائش کو معیار قرار دیا جائے اور یہ کام محکمہ فلکیات کے حوالے کیا جائے ، علماء کرام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ محکمہ فلکیات کے حق میں فتوی جاری کریں اور یہ کام محکمہ فلکیات کے حوالے کریں،  کیوں کہ ان کو پہلے سے پتا ہوتا ہے کہ نیا چاند کس وقت پیدا ہو گا ،ان کا یہی کام ہے ،وہ دن رات سورج چاند اور ستاروں پر تحقیق کرتے رہتے ہیں ، وہ ہر وقت چاند کو دیکھتے ہیں ،انہیں عام آدمی کی شہادت کی ضرورت ہی نہیں ہے ، اس لئے علماء کرام محکمہ فلکیات کے حق میں فتوی جاری کریں اور یہ کام محکمہ فلکیات کے حوالے کریں ، محکمہ فلکیات والے چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کریں، یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے علماء کرام محکمہ فلکیات پر اعتبار نہیں کرتے اور عام آدمی کی شہادت پر اعتبار کرتے ہیں، عام آدمی کے پاس نہ دوربین ہیں اور نہ جدید آلات، وہ بغیر کسی آلات کے آسمان پر چاند ڈھونڈتے ہیں اور اکثر غلطیاں کرتے ہیں ،چاند کی غلط شہادت دیتے ہیں ،اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں ،ہمارے ملک میں تین چار عیدیں عام آدمی کی غلط شہادت کی وجہ سے ہی ہوتی ہیں ،لیکن ہمارے علماء کرام عام آدمی کی شہادت کو یہ کہہ کر قبول کر لیتے ہیں کہ عاقل بالغ آدمی نے شہادت دے دی ہے، شریعت کا تقاضہ پورا ہو چکا ہے ، کیا عاقل بالغ آدمی سے غلطی نہیں ہو سکتی؟ ہمارے علماء کرام کو اس پر سوچنا چاہیے اور چاند دیکھنے کے کام کو عام آدمی کی بجائے محکمہ فلکیات کے حوالے کرنا چاہیے،علماء کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ چاند کے حوالے سے محکمہ فلکیات کی معلومات 100 فیصد درست ہوتی ہیں ، باقی کائنات کے بارے میں ان کی معلومات درست بھی ہوتی ہیں اور غلط بھی ،کیونکہ کائنات بہت بڑی ہے اس میں اربوں کھربوں ستارے موجود ہیں ،لیکن چاند تو زمین کا پڑوسی سیارہ ہے اس لئے چاند کے حوالے سے محکمہ فلکیات کی معلومات 100 فیصد درست ہوتی ہیں ،وہ ہر وقت چاند کو دیکھتے ہیں اور چاند پر ریسرچ کرتے ہیں ،انہیں عام آدمی کی شہادت کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس لئے موجودہ حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ علماء کرام رؤیت ہلال کے کام کو محکمہ فلکیات کے حوالے کریں اور محکمہ فلکیات کے حق میں فتوی جاری کریں ،محکمہ فلکیات والے چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کریں، جب تک علماء کرام محکمہ فلکیات کے حق میں فتوی جاری نہیں کریں گے ،اس وقت تک عوام محکمہ فلکیات کی بات پرعمل نہیں کرے گی ،اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء کرام محکمہ فلکیات کے حق میں فتوی جاری کریں ۔ 

جواب

واضح رہے کہ مذاہب اربعہ کے فقہاء کے نزدیک نئے مہینہ کی ابتداء چاند کی رویت (دیکھنا)یا اکمال العدۃ (تیس دن پورے ہونا)پر ہی منحصر ہے،جہاں تک بات چاند کے وجود ،اہل فلکیات و نجوم و حساب کے اقول و تخمینے اور حسابات وغیرہ کی ہےتو یہ شرعاً معتبر ہیں نہ عقلاً ،شرعا اس لیے کہ احادیث مبارکہ  میں صرف انہی دو طریقوں پر ہی مہینہ کی ابتداء کو منحصر فرمایا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد  كا مفهوم هےکہ "مہینہ کبھی انتیس  کا بھی ہوتا ہے، اس لئے جب تک چاند نہ دیکھ لو  روزہ نہ رکھو اور اگر چاند تم پر مستور ہوجائے تو  تیس دن پورے کرو"،پس اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کو چاند کی رؤیت یا شہر کے اکمال پر ہی منحصر فرمایا ،صاف الفاظ میں فرمایا"اگر تم پر چاند مستور ہو جائے تو تیس دن مکمل کرو"یہ نہیں فرمایا کہ  علم حساب اور نجوم کے ماہرین سے دریافت کر لو  وغیرہ  ،اس کے علاوہ آپ نے  دو ٹوک اعلان بھی فرمایا کہ  "نحن أمة أمية، لا نكتب ولا نحسب"، ہم تو امی امت ہیں ،لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں "،یہ تو شرعاً اثبات ہوا ۔

نیز یہ کہ شریعت ہر زمانہ، ہر دور،ہر مکان  ،ہر وقت کے لیے تاقیامت ہے،اس لیے  یہ بات ضروری ہوئی کہ ایسی چیز کو مدار بنایا جائےجو ہر شخص کے لیے ،ہر زمانہ ،ہر مکان میں ممکن ہو ،اور سوائے  رؤیت یااکمال کے کوئی اور مدار بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا،یہ عقلاً اثبات بھی ہوگیا ۔

پس صورتِ مسئولہ میں سائل کا موقف کہ اصل چاند کا وجود ہے  اور اس بارے میں  ماہرین  فلکیات یا ان کے  اصول کی طرف رجوع ،پرانے اور نئے زمانے کا فرق  شرعاً و عقلاً  درست نہیں ،بلکہ چاند کا مدار رؤیت پر ہے رہی بات جھوٹی یا  غلط شہادت کی تو   شہادت قبول کرنے والے اچھی طرح چانچ پڑتال کرکے شہادت  قبول کریں تو  بہت حد تک اس خرابی سے بچا جاسکتا ہے  ۔

مزید تفصیل کے لیے مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ  کا رسالہ" مسئلہ رؤیت ہلال" کا مطالعہ بہت مفید رہے گا۔

مجموعۃ رسائل ابن عابدین میں ہے:

"﴿الفصل الثالث﴾ في بيان حكم قول علماء النجوم والحساب فنقول قد صرح علماؤنا وغيرهم بوجوب التماس الهلال ليلة الثلاثين من شعبان فإن رأوه صاموا وإلا اكملوا العدة فاعتبروا الرؤية أو اكمال العدة اتباعا للاحاديث الآمرة بذلك دون الحساب والتنجيم * وقد اتفقت عبارات المتون وغيرها من كتب علمائنا الحنفية على قولهم يثبت رمضان برؤية هلاله وبعد شعبان ثلاثين * ومن المعلوم ان مفاهيم الكتب معتبرة فيفهم منها انه لا يثبت بغير هذين * ولهذا بعدما عبر في الكنز بما مر قال صاحب النهر في شرحه ما نصه وحاصل كلامه اي كلام الكنز ان صوم رمضان لا يلزم إلا باحد هذين فلا يلزم بقول الموقتين انه يكون في السماء ليلة كذا وان كانوا عدولا في الصحيح۔۔۔فالاولى الاستدلال بالاحاديث الدالة على اعتبار الرؤية لا العلم فانه صلى الله تعالى عليه وسلم قال (صوموا لرؤيته وافطروا لرؤيته) وقال (فإن غم عليكم فاكملوا العدة) ولم يقل فاسئلوا أهل الحساب بل قال (نحن أمة أمية لا نكتب ولا نحسب)۔۔ ولان الشاهد قد يشتبه عليه الخ لا اثر لها شرعا لامكان وجودها في غيرها من الشهادات۔۔

(تنبیہ الغافل والوسنان علی احکام ہلال رمضان،ص:244۔247،ط:اسطنبول)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144611101153

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں