بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چاند دیکھنے کے لیے علاقائی کمیٹی کا فیصلہ/افغانستان سے قریبی شہروں کا افغانستان کے ساتھ روزے اور عید منانا


سوال

1۔ علاقہ جانی خیل ضلع بنوں کے علماء کرام اگر اپنی کمیٹی بناکر رمضان اور عید کا فیصلہ شرعی شہادت کی بنیاد پر خود بخود کرلیں تو کیا یہ فیصلہ اہل علاقہ کیلئے نافذ العمل ہو گا یا نہیں؟ جب کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اس شہادت کو رد کر دیا ہو ؟

2۔ ہمارے علاقے جانی خیل ضلع بنوں کیلئے افغانستان کے علاقے بلاد قریبہ ہیں یا بلاد بعیدہ ہیں ؟ جبکہ جانی خیل ضلع بنوں اور افغانستان کے درمیان تقریبا 120 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ ہیں ۔ ہمارے علاقے جانی خیل ضلع بنوں کیلئے افغانستان کی رؤیت پر عمل کرنا لازم ہے یا نہیں ؟ 

جواب

1: واضح رہے کہ کسی علاقے میں کوئی قاضی یا حکومت کی طرف سے مقرر کردہ  کمیٹی پورے  ضلع یا صوبے  یا پورے ملک  کے لیے ہو  اور وہ شرعی شہادت  موصول ہونے پر  چاند نظر آنے کا اعلان کردے تو اس کے فیصلے پر اپنی حدود اور ولایت میں  ان لوگوں پرجن تک فیصلہ اور اعلان یقینی اور معتبر ذریعے سے پہنچ جائے  عمل  کرنا واجب ہوگا،  چوں کہ  مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی  قاضی شرعی کی  حیثیت    رکھتی ہے، لہذا شہادت موصول ہونے پر اگر وہ اعلان کردے تو ملک میں  جن لوگوں تک یہ اعلان معتبر ذرائع سے پہنچ جائے ، ان پر روزہ رکھنا یا عید منانا   لازم ہوگا۔   

 مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے علاوہ غیر مجاز ، پرائیویٹ کمیٹیاں رؤیت ہلال کا فیصلہ کرنے میں خود مختار نہیں ہیں، اور ان کا فیصلہ دوسرے لوگوں کے لیے قابلِ عمل نہیں ہے، اس لیےکہ ان کو ولایتِ عامہ حاصل نہیں ہے، اور ان کا اعلان عام لوگوں کے لیے حجت نہیں ہے۔

لہذا صورت ِمسئولہ میں مرکزی رؤیت   ہلال کمیٹی کے  اعلان کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے ،آپ کے علاقہ کی کسی پرائیویٹ    کمیٹی کا فیصلہ معتبر نہیں ہے، ہاں اگر کوئی شخص خود اپنی آنکھوں سے چاند دیکھ لے تو اس پر روزہ رکھنا لازم ہو گا، چاہے حکومت کی طرف سے اس کی شہادت  کی بنیاد پر اعلان ہو یا نہ ہو،  البتہ  عید  منانے  میں  وہ  مرکزی  کمیٹی  کے  اعلان  کے  تابع    ہوگا۔

2: چاند کے مطالع   مختلف ممالک  میں الگ الگ ہوتے ہیں،  جس کے سبب  مشاہدہ ہے   کہ چاند  کسی ملک  میں  نظر آجاتا ہے،  جب کہ  دیگر ممالک  میں چاند کی رؤیت نہیں ہوتی،پھر  بلادِ  بعیدہ(جو ملک اور شہر ایک دوسرے سے دور ہیں ) کی تعیین میں اقوال مختلف ہیں، علامہ شامی نے لکھا ہے کہ: بعض فقہاء فرماتےہیں: ایک مہینہ کی مسافت پر مطلع بدل جاتا ہے، اور فقہاء کی تصریحات کے مطابق تین دن کا سفر48  میل بنتا ہے تو اس کے حساب سے چارسو اسی میل کی مسافت پر مطلع تبدیل ہوگا۔ دوسرا قول یہ لکھا ہے کہ: چوبیس فرسخ پر مطلع بدل جائے گا  اور معارف السنن میں حضرت بنوری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ہر پانچ سو میل کی مسافت پر مطلع بدل جاتا ہے۔

 لہذا   مطالع کے اس اختلاف  کی بنا پر متاخرین فقہاءِ کرام نے اختلافِ مطالع کا اعتبار کیا ہے،  اور آج کے دور میں اسی قول پر  فتوی ٰہے، جب کہ آج کل مملکتیں ،ریاستیں اور  حکومتیں  بھی مختلف ہیں ،ایک ملک کا حکم دوسرے ملک والوں کے لیے  ماننا لازم بھی نہیں ہے ،اس  لیے اس زمانہ میں اگر طلوع و غروب میں اختلاف ہے تو اس کا اعتبار کرنا ضروری ہے ۔ نيزاگرکسی  ملک میں رویتِ ہلال کمیٹی مقرر ہو، جس کو سرکاری طور پر چاند ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے کا اختیار ہو تو ان کے اعلان کا اعتبار ہو گا ،قریبی ملک کے چاند کا اعتبار نہیں ہو گا ،لہذا صورتِ مسئولہ میں علاقہ جانی خیل ضلع بنوں  پاکستان میں رہنے والوں کے  لیے پاکستان کے مطلع کے اعتبار سے روزہ رکھنا ضروری ہے ،یعنی جب تک پاکستان والے چاند نہیں دیکھیں گے تب تک ان کے  لیےافغانستان کا اعتبار کر تے ہوئے روزہ رکھنا صحیح نہیں ، اور نہ ہی افغانستان  والوں کا چاند دیکھ کر روزہ رکھنا پاکستان والوں کے  لیے حجت  ہوگا، اور یہی حکم عید کا بھی ہے، ہاں یہ ممکن ہے کہ کبھی دونوں ملکوں میں ایک دن ہی رمضان کا چاند نظر آجائے، اسی طرح عید میں بھی اس کا امکان ہے۔

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"الفتاوی النسفیة: سئل عن قضاء القاضي برؤیة هلال شهر رمضان بشهادة شاهدین عند الاشتباه في مصر، هل یجوز لأهل مصر آخر العمل بحکمهم؟ فقال:لا، ولایکون مصرآخر تبعاً لهذا المصر، إنما سکان هذا المصر وقراها یکون تبعاً له."

(کتاب الصوم، الفصل الثاني فیما یتعلق برؤیة الهلال، ج 2، ص 356 ط: ادارۃ القرآن)

مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ "زبدۃ المقال فی رؤیۃ الہلال" میں تحریر فرماتے ہیں:

"إذا ثبت الصوم أو الفطر عند حاکم تحت قواعد الشرع بفتوی العلماء أو عند واحد أو جماعة من العلماء الثقات ولاّهم رئیس المملکة أمر رؤیة الهلال، وحکموا بالصوم أو الفطر  ونشروا حکمهم هذا في رادیو، یلزم علی من سمعها من المسلمین العمل به في حدود ولایتهم، وأما فیما وراء حدود ولایتهم فلا بد من الثبوت عند حاکم تلک الولایة بشهادة شاهدین علی الرؤیة أو علی الشهادة أو علی حکم الحاکم أو جاء الخبر مستفیضاً، لأن حکم الحاکم نافذ في ولایته دون ما وراءها."

(زبدۃ المقال فی رؤیة الھلال بحواله  خیر الفتاوی، ج 4، ص118، ط: مکتبة امدادیة)

جواہر الفقہ میں ہے:

"اور  جس طرح  ایک شہر کے قاضی یا ہلال کمیٹی کا فیصلہ اس شہر اور اس کے مضافات کے لیے واجب العمل ہے اسی طرح اگر کوئی قاضی یا مجسٹریٹ یا ہلال کمیٹی  پورے ضلع یا صوبہ یا پورے ملک  کے لیے ہو تو اس کا فیصلہ  اپنے اپنے حدود ولایت میں واجب العمل ہوگا۔"

(مسئلہ رؤیت ہلال ،ج3،  ص484،  ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)

معارف السنن میں ہے:

"وحققوا وقوع الاختلاف في المطلع بنحو خمسمائة ميل·"

(كتاب الصوم، ج5،ص343، ط: مجلس الدعوة و التحقيق)

فتاوی شامی  ہے:

"(واختلاف المطالع) ورؤيته نهارا قبل الزوال وبعده (غير معتبر على) ظاهر (المذهب) وعليه أكثر المشايخ وعليه الفتوى بحر عن الخلاصة (فيلزم أهل المشرق برؤية أهل المغرب) إذا ثبت عندهم رؤية أولئك بطريق موجب كما مر، وقال الزيلعي: الأشبه أنه يعتبر لكن قال الكمال: الأخذ بظاهر الرواية أحوط."

(قوله: واختلاف المطالع) جمع مطلع بكسر اللام موضع الطلوع بحر عن ضياء الحلوم (قوله: ورؤيته نهارا إلخ) مرفوع عطفا على اختلاف ومعنى عدم اعتبارها أنه لا يثبت بها حكم من وجوب صوم أو فطر فلذا قال في الخانية فلا يصام له ولا يفطر وأعاده وإن علم مما قبله ليفيد أن قوله لليلة الآتية لم يثبت بهذه الرؤية بل ثبت ضرورة إكمال العدة كما قررناه فافهم (قوله: على ظاهر المذهب) اعلم أن نفس اختلاف المطالع لا نزاع فيه بمعنى أنه قد يكون بين البلدتين بعد بحيث يطلع الهلال له ليلة كذا في إحدى البلدتين دون الأخرى وكذا مطالع الشمس؛ لأن انفصال الهلال عن شعاع الشمس يختلف باختلاف الأقطار حتى إذا زالت الشمس في المشرق لا يلزم أن تزول في المغرب، وكذا طلوع الفجر وغروب الشمس بل كلما تحركت الشمس درجة فتلك طلوع فجر لقوم وطلوع شمس لآخرين وغروب لبعض ونصف ليل لغيرهم كما في الزيلعي وقدر البعد الذي تختلف فيه المطالع مسيرة شهر فأكثر على ما في القهستاني عن الجواهر اعتبارا بقصة سليمان - عليه السلام -، فإنه قد انتقل كل غدو ورواح من إقليم إلى إقليم وبينهما شهر. اهـ.

ولا يخفى ما في هذا الاستدلال وفي شرح المنهاج للرملي وقد نبه التاج التبريزي على أن اختلاف المطالع لا يمكن في أقل من أربعة وعشرين فرسخا وأفتى به الوالد والأوجه أنها تحديدية كما أفتى به أيضا اهـ فليحفظ وإنما الخلاف في اعتبار اختلاف المطالع بمعنى أنه هل يجب على كل قوم اعتبار مطلعهم، ولا يلزم أحد العمل بمطلع غيره أم لا يعتبر اختلافها بل يجب العمل بالأسبق رؤية حتى لو رئي في المشرق ليلة الجمعة، وفي المغرب ليلة السبت وجب على أهل المغرب العمل بما رآه أهل المشرق، فقيل بالأول واعتمده الزيلعي وصاحب الفيض، وهو الصحيح عند الشافعية؛ لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم كما في أوقات الصلاة، وأيده في الدرر بما مر من عدم وجوب العشاء والوتر على فاقد وقتهما وظاهر الرواية الثاني وهو المعتمد عندنا وعند المالكية والحنابلة لتعلق الخطاب عملا بمطلق الرؤية في حديث «صوموا لرؤيته» بخلاف أوقات الصلوات، وتمام تقريره في رسالتنا المذكورة."

 (كتاب الصوم،ج2،ص 393،ط:سعید)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"هذا ‌إذا ‌كانت ‌المسافة بين البلدين بعيدة، فإن كانت قريبة بحيث يقدر الأب أن يزور ولده ويعود إلى منزله قبل الليل فلها ذلك؛ لأنه لا يلحق الأب كبير ضرر بالنقل بمنزلة النقل إلى أطراف البلد."

(كتاب الإعتاق،ج4،ص 45،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144610101781

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں