بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چلتی دکان میں پیسے انویسٹ کرنا


سوال

 میں دکان دار ہوں،  مجھے ایک آدمی ایک لاکھ روپے دےرہاہے،  اورکہتا ہے کہ آپ ان پیسوں سے تجارت کریں اور سال بعد مجھے آدھا نفع اداکریں اور آدھاآپ رکھ لیں، نیزتجارت کرکے نفع بیس دن کرلو اور ان کا نفع سال بعد دے دو کیایہ جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ  کسی شخص سے رقم لے کر اپنے کاروبار میں لگاکر اس کو نفع دینا  جائز ہونے کے لیےکچھ شرعی اصول وضوابط ہیں، جن  کی رعایت کرنا  ضروری ہے، اگر   ان اصولوں کی رعایت نہ رکھی جائے تو معاملہ فاسد ہوجاتا ہے اور نفع کا لین دین ناجائز  اور حرام ہوجاتا ہے،  اس کے لیے پہلے یہ تعیین بھی ضروری ہے کہ معاملہ ”شرکت “ (دونوں کے پیسے شامل ہوں)  کا ہوگا یا ”مضاربت“ (ایک کی رقم اور دوسرے کی محنت) کا ہوگا، پھر ان میں سے ہر ایک کی اپنی مستقل شرائط ہیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سرمایہ کار (رقم دینے والا) اپنی رقم سائل( دکاندار) کو دے اورسائل( دکاندار) اس رقم سے اپنے موجودہ کاروبار سے علیحدہ کوئی الگ سامان خرید کر فروخت کر ، یا اپنے کاروبار میں اسی رقم سے خریدی گئی اشیاء کا الگ حساب رکھے، تو یہ صورت ”مضاربت“ کہلائے گی۔جس میں نفع فیصد کے اعتبار سے طے کیاجائے گا،اور نقصان کی صورت میں نقصان کی تلافی سب سے پہلے دونوں کے نفع سے کی جائے گی،اس کے بعد (اگر نقصان زیادہ ہوگیا ہے تو)نقصان کی تلافی سرمایہ کار کے مال سے کی جائے گی،اور محنت کرنے والے کی محنت رائیگاں جائے گی۔

اوراگر سائل(دکاندار) شراکت کا معاملہ کرنا چاہےتوایسی صورت میں انویسٹر کو کاروبار میں شریک کرتے وقت پہلے سے موجود کاروبار کے اثاثہ جات کا مکمل حساب کیا جائے، پھر نئے آنے والے انویسٹر کو اس کے سرمایہ کے حساب سے شریک کیا جائے۔ اگر کاروبار میں کچھ سامان بھی موجود ہو تو اس میں سے کچھ سامان انویسٹر کو اس کی رقم کے بدلے میں بیچ دیا جائے اور اس کو قبضہ دے کر پھر دوبارہ ملالیا جائے؛ تاکہ ہر شریک اپنے اپنے سرمایہ کے اعتبار سے مال تجارت میں شریک ہوجائے۔مثلاً اگر دکان میں دس لاکھ روپے کا مال تجارت ہے تو ایک لاکھ روپے کا مال انویسٹر کو فروخت کرکے اس کے قبضہ میں دے کر پھر اپنے سامان کے ساتھ شامل کرلے، اس صورت میں کاروبار کے نو حصے دکاندار کے ہوں گے، ایک حصہ انویسٹر کا ہوگا۔

چونکہ یہ معاملہ شرکت کے اصول پر قائم ہوگاتونقصان کی صورت میں ہر ایک شریک اپنے مال کے تناسب سے نقصان برادشت کرے گا۔نیز نفع کا تناسب فیصد سے طے کرنا ضروری ہوگا، اوراگر شریک اپنے سرمائے کے تناسب سے نفع کا فیصد طے کرنا چاہیں تو یہ بھی جائز ہے؛ مثلاً اگر انویسٹر کا حصہ کل سرمائے کا پانچ فیصد ہو تو کاروبار سے حاصل ہونے والے کل نفع میں اس کے لیے پانچ فیصد مقرر کرنا درست ہوگا۔ البتہ کسی بھی شریک کے لیے یہ شرط لگانا کہ اسے ایک متعین اور مخصوص رقم ہی دی جائے گی، جائز نہیں ہے، کیونکہ اس سے شرکت کا معاملہ فاسد ہوجاتا ہے۔

نیز سائل کا یہ جملہ(تجارت کرکے نفع بیس دن کرلو اور ان کا نفع سال بعد دے دو)واضح نہیں ہے، براہِ کرم اس کی مکمل وضاحت کے ساتھ سوال دوبارہ ارسال کریں، ان شاء اللہ جواب دے دیا جائےگا۔

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"(المادة 1428) - (يعود الضرر والخسار في كل حال على رب المال وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما فلا يعتبر ذلك الشرط) . يعود الضرر والخسار في كل حال على رب المال إذا تجاوز الربح إذ يكون الضرر والخسار في هذا الحال جزءا هالكا من المال فلذلك لا يشترط على غير رب المال ولا يلزم به آخر. ويستفاد هذا الحكم من الفقرة الثانية من المادة الآنفة وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما أو جميعه على المضارب فلا يعتبر ذلك الشرط."

(الکتاب العاشر الشرکات، الباب السابع في حق المضاربة، الفصل الثالث في بيان أحكام المضاربة، ج:3، ص:459، ط:دار الجیل)

فتاوی شامی میں ہے:

"و (مع التفاضل في المال دون الربح وعكسه، وببعض المال دون بعض، وبخلاف الجنس كدنانير) من أحدهما (ودراهم من الآخر، و) بخلاف الوصف كبيض وسودوإن تفاوتت قيمتهما والربح على ما شرطا.۔۔

(قوله: ومع التفاضل في المال دون الربح) أي بأن يكون لأحدهما ألف وللآخر ألفان مثلا واشترطا التساوي في الربح، وقوله وعكسه: أي بأن يتساوى المالان ويتفاضلا في الربح، لكن هذا مقيد بأن يشترط الأكثر للعامل منهما أو لأكثرها عملا، أما لو شرطاه للقاعد أو لأقلهما عملا فلا يجوز كما في البحر عن الزيلعي والكمال.

قلت: والظاهر أن هذا محمول على ما إذا كان العمل مشروطا على أحدهما.وفي النهر: اعلم أنهما إذا شرطا العمل عليهما إن تساويا مالا وتفاوتا ربحا جاز عند علمائنا الثلاثة خلافا لزفر والربح بينهما على ما شرطا وإن عمل أحدهما فقط؛ وإن شرطاه على أحدهما، فإن شرطا الربح بينهما بقدر رأس مالهما جاز، ويكون مال الذي لا عمل له بضاعة عند العامل له ربحه وعليه وضيعته، وإن شرطا الربح للعامل أكثر من رأس ماله جاز أيضا على الشرط ويكون مال الدافع عند العامل مضاربة، ولو شرطا الربح للدافع أكثر من رأس ماله لا يصح الشرط ويكون مال الدافع عند العامل بضاعة لكل واحد منهما ربح ماله والوضيعة بينهما على قدر رأس مالهما أبدا هذا حاصل ما في العناية اهـ ما في النهر."

(کتاب الشرکة، ج:4، ص:312، ط:سعید)

وفيه ايضا:

"(وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح) ؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن) ولو فاسدة من عمله؛ لأنه أمين (وإن قسم الربح وبقيت المضاربة ثم هلك المال أو بعضه ترادا الربح ليأخذ المالك رأس المال وما فضل بينهما، وإن نقص لم يضمن) لما مر."

(کتاب المضاربة، باب المضارب یضارب، ج:5، ص:656، ط:سعید)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"منها: (شرائط جواز الشركة) أن يكون الربح معلوم القدر ۔۔۔ (ومنها) : أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلايتحقق الشركة في الربح. ۔۔۔ ولو كان من أحدهما دراهم ومن الآخر عروض فالحيلة في جوازه أن يبيع كل واحد منها نصف ماله بنصف دراهم صاحبه ويتقابضا ويخلطا جميعًا حتى تصير الدراهم بينهما والعروض بينهما ثم يعقدان عليهما عقد الشركة فيجوز."

(کتاب الشرکة، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج:6، ص:59، ط:دارالکتب العلمیة۔بیروت)

وفیه ايضا:

"(منها) إعلام مقدار الربح؛ لأن المعقود عليه هو الربح، وجهالة المعقود عليه توجب فساد العقد ولو دفع إليه ألف درهم عن أنهما يشتركان في الربح ولم يبين مقدار الربح جاز ذلك، والربح بينهما نصفان؛ لأن الشركة تقتضي المساواة.(ومنها) أن يكون المشروط لكل واحد منهما من المضارب ورب المال من الربح جزءا شائعا، نصفا أو ثلثا أو ربعا، فإن شرطا عددا مقدرا بأن شرطا أن يكون لأحدهما مائة درهم من الربح أو أقل أو أكثر والباقي للآخر لا يجوز، والمضاربة فاسدة."

 (کتاب المضاربة، فصل فی شرائط رکن المضاربة، ج:6، ص:85/86، ط:دار الکتب العلمیة)

البحرالرائق میں ہے:

"(قوله وتصح مع التساوي في المال دون الربح وعكسه) وهو التفاضل في المال والتساوي في الربح، وقال زفر والشافعي لا يجوز؛ لأن التفاضل فيه يؤدي إلى ربح ما لم يضمن فإن المال إذا كان نصفين والربح أثلاثا فصاحب الزيادة يستحقها بلا ضمان إذ الضمان بقدر رأس المال؛ لأن الشركة عندهما في الربح كالشركة في الأصل ولهذا يشترطان الخلط فصار ربح المال بمنزلة نماء الأعيان فيستحق بقدر الملك في الأصل ولنا قوله - عليه السلام - «الربح على ما شرطا والوضيعة على قدر المالين» ولم يفصل؛ ولأن الربح كما يستحق بالمال يستحق بالعمل كما في المضاربة."

(كتاب الشركة، شركة العنان، ج:5، ص:188، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100558

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں