بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شریکین کا اپنی معاون اولاد کو کاروبارکے نفع میں شریک کرنا


سوال

ایک کاروبار ہے جس میں دو پارٹنر ہیں یہ ایک چلتا ہوا کاروبار ہے،جس میں سرمایہ ابتدا ءًصرف دو پارٹنروں ہی کا ہے اور اب الحمدللہ دونوں پارٹنروں کے بچے کاروبار سنبھال رہے ہیں، مگر کسی بچے کا کوئی سرمایہ کاروبار میں نہیں، اب باہم رضامندی سے سے بچوں کو بھی کاروبار میں(نفع کا) پارٹنر بنایا گیا ہے اور صورت یہ ہے کہ ایک پارٹنر کے 2 بیٹے اور ایک پارٹنر کے 3 بیٹے کاروبار میں پارٹنر ہیں(نفع کے حصول میں)۔

1)سوال یہ ہے کہ اب پہلے پارٹنر کی عملی کوئی محنت کاروبار میں نہیں ہے اور ان کا سرمایہ بھی کم ہوگیا ہے (اپنے خارجی اخراجات کی وجہ سے جو کاروبار سے نہیں لیے جاتے)اور ان کے بیٹوں کو ان کی محنت کے بقدر نفع کاروبار سے مل رہا ہے ،تو کیا اس پارٹنر کو بغیر محنت کے کاروبار میں سے نفع دینا جائز ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کتنا ؟

2) بغیر سرمایہ کے صرف محنت کے بقدر بیٹوں کا نفع میں شریک بننا آیا صحیح ہے یا غلط؟ اگر صحیح ہے تو کتنا نفع دیا جائے گا ؟

جواب

1۔صورتِ مسئولہ میں اگرشریکین نے ابتداءً سرمایہ لگاکر کاروبار شروع کیاہےتونفع  جس فیصد  کے حساب سے طے کیا تھادونوں اسی طے شدہ تناسب  سے نفع کے حق دار ہوں گے،  اور  ایک شریک کے کام نہ کرنے کی وجہ سے  نفع میں سےاس کو محروم کرنا جائز نہیں ہوگا،البتہ نفع میں سے اس کے حصہ کو باہمی رضامندی سے کم کیا جاسکتاہے۔

2۔شریکین کا  اپنے بیٹوں کو کاروبار میں شراكت دار بنانا جائز نہیں کیوں کہ ان کا سرمایہ شامل نہیں ،نیز ان کو مضارب (ورکنگ پارٹنر)بنا کر ان کے سرمایہ لگانے کے بغیر فیصد طے کر کے ان کو نفع میں شریک کرنا جائز نہیں ہوگا؛ اس لیے کہ مضاربت کے عقد کے لیے سرمایہ کا نقدی  کی شکل میں ہونا ضروری ہوتا ہے،  جب کہ چلتے کاروبار میں اکثر  سرمایہ نقدی کی صورت میں نہیں ہوتا،بلکہ سامان کی صورت میں ہوتا ہے؛ لہذا ایسی صورت میں شریکین کو  چاہیے کہ باہمی رضامندی  سےاپنے بیٹوں کے لیے ان کی محنت کے بقدر تنخواہ مقرر کر دیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وأما شرائطها الصحيحة فكثيرة كذا في النهاية. (منها) أن يكون رأس المال دراهم أو دنانير عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى وعند محمد - رحمه الله تعالى - أو فلوسا رائجة حتى إذا كان رأس مال المضاربة ما سوى الدراهم والدنانير والفلوس الرائجة لم تجز المضاربة إجماعا."

(كتاب المضاربة، الباب الأول في تفسير المضاربة وركنها وشرائطها وحكمها، ج:4، ص:285، ط:رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"والربح على ما شرطا (و) مع (عدم الخلط) لاستناد الشركة في الربح: إلى العقد لا المال فلم يشترط مساواة."

(کتاب الشركة، ج:4، ص:313، ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100706

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں