
اگر ایک عورت کا دم نفاس چالیس دن سے پہلے بند ہو جائے، تو پھر کیا اس کا شوہر اس سے ہمبستری کرسکتا ہے یا نہیں؟
نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے اور کم سے کم کوئی مدت مقرر نہیں ،اگر عورت کا پہلی مرتبہ بچہ پیدا ہوا ہے اور چالیس دن سے کم پر خون بند ہوگیا،تو عورت کا غسل کرنے کے بعد یا ایک نماز کا وقت گزرجانے کے بعد شوہر کے لیے اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے،اسی طرح اگر عورت کا اس سے پہلے بھی کوئی بچہ پیدا ہوا ہے اور اس کی نفاس کی ایک عادت متعین ہے اور اس مرتبہ بھی عادت کے ایام مکمل ہوجانے کے بعد عورت کا خون بند ہوگیا،تو عورت کےغسل کرنے کے بعد یا ایک نماز کا وقت گزرجانے کے بعد شوہر کے لیے اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے،لیکن اگر ایام عادت سے پہلے ہی نفاس کا خون بندہوگیا،تو عادت کے دن مکمل ہونے تک شوہر کے لیے بیوی سے ہمبستری کرنا جائز نہیں ہے،البتہ اس صورت میں عورت نماز بھی پڑھے گی اور روزے بھی رکھے گی۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"أقل النفاس ما يوجد ولو ساعة وعليه الفتوى وأكثره أربعون. كذا في السراجية."
(كتاب الطهارة ،الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء،الفصل الثاني في النفاس،ج: 1،ص: 37،ط: رشيديه)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويحل وطؤها إذا انقطع حيضها لأكثره) بلا غسل وجوبا بل ندبا.
(وإن) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت، وإن (لأقله) فإن لدون عادتها لم يحل، وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطا؛ وإن لعادتها، فإن كتابية حل في الحال وإلا (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه (أو يمضي عليها زمن يسع الغسل) ولبس الثياب (والتحريمة) يعني من آخر وقت الصلاة لتعليلهم بوجوبها في ذمتها."
(كتاب الطهارة،باب الحيض،ج: 1،ص: 295،ط: سعيد)
البحرالرائق میں ہے:
"ويحل وطء الحائض إذا انقطع دمها العشرة بمجرد الانقطاع من غير توقف على اغتسالها وقال في المغرب تصرم القتال انقطع وسكن (قوله: ولأقله لا حتى تغتسل أو يمضي عليها أدنى وقت صلاة) .
اعلم أن هذه المسألة على ثلاثة أوجه؛ لأن الدم إما ينقطع لتمام العشرة أو دونها لتمام العادة أو دونهما ففيما إذا انقطع لتمام العشرة يحل وطؤها بمجرد الانقطاع ويستحب له أن لا يطأها حتى تغتسل، وفيما إذا انقطع لما دون العشرة دون عادتها لا يقربها وإن اغتسلت ما لم تمض عادتها، وفيما إذا انقطع للأقل لتمام عادتها إن اغتسلت أو مضى عليها وقت صلاة حل وإلا لا وكذا النفاس إذا انقطع لما دون الأربعين لتمام عادتها، فإن اغتسلت أو مضى الوقت حل وإلا لا، كذا في المحيط."
(كتاب الطهارة،باب الحيض،ما يمنعه الحيض،ج: 1،ص: 213،ط: دارالكتاب الإسلامي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144712100083
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن