
سیویٹ (Cevit) ایک ایسا جانور ہے، جس کی غلاظت کے ذریعے کافی تیار کی جاتی ہے، کیا ایسی کافی کا استعمال اسلامی شریعت کی رو سے جائز ہے؟ آپ حضرات اپنے اعتبار سے اس پے تحقیق کے بعد جلد راہ نمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
صورت ِ مسئولہ میں جانور( CIVET) کے فضلے سے تیار کیجانے والی کافی بنانے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اس جانور کوکافی بیج کھلائے جاتے ہیں، پھر وہ بیج اس کے فضلے سے نکال کر اس کی صفائی کر کے اس سے کافی بنائی جاتی ہے، لہٰذا جو کافی مذکورہ طریقے سے بنائی جاتی ہو،چوں کہ مذکورہ کافی کے بیج جانور کا فضلہ بن جانے کی وجہ سے ناپاک ہوجاتے ہیں، اس لیے یہ کافی پینا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس کی خریدو فروخت کرنا جائز ہے۔
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"(وروث وخثي) أفاد بهما نجاسة خرء كل حيوان غير الطيور.
(قوله: وروث وخثي) قدمنا في فصل البئر أن الروث للفرس والبغل والحمار، والخثي بكسر فسكون للبقر والفيل، والبعر للإبل والغنم، والخرء للطيور، والنجو للكلب، والعذرة للإنسان. (قوله: أفاد بهما نجاسة خرء كل حيوان) أراد بالنجاسة المغلظة؛ لأن الكلام فيها ولانصراف الإطلاق إليها كما يأتي، ولقوله وقالا مخففة، وأراد بالحيوان ما له روث أو خثي: أي: سواء كان مأكولا كالفرس والبقر، أو لا كالحمام وإلا فخرء الآدمي وسباع البهائم متفق على تغليظه كما في الفتح والبحر وغيرهما فافهم."
(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:1، ص:320، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144802101098
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن