
سیکورٹی کیمرہ کی تصویر بھی محرم تصویر میں داخل ہے یا نہیں ؟اگر داخل ہے تو سیکورٹی کیمرہ لگانے کا کیا حکم ہے اور کن قیود کے تحت جائز ہے؟ ٹی وی کے ڈبہ میں اور سینما کے پردہ میں جو تصویر نظرآتی ہے وہ محرم تصویر میں داخل ہے یا نہیں؟جلسے میں عورتوں کے سامنے سکرین رکھنا جبکہ مرد بیان کرتے ہوئے نظر آرہے ہوں کیا یہ جائز ہے؟گھر میں بچوں کے کھیل کود کے لئے لعب یعنی گڑیاں رکھنا کیسا ہے اور اگر رکھنا جائز ہے تو بالغ ونابالغ لڑکیوں کے لئے ایک ہی حکم ہے یا صرف نابالغ لڑکیوں کے لئے جائز ہے؟
تصویر کشی کے لیے آلہ کوئی بھی استعمال کیا جائے، چاہے وہ عام کیمرہ ہو، یا سی سی ٹی وی کیمرہ ہو، اگر اس سے جاندار کی تصویر بنائی جائے، تو ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا سی سی ٹی وی کیمرہ کی تصاویر بھی حرام تصاویر میں داخل ہیں، سیکورٹی کے لیے دیگر جائز ذرائع کو اختیار کیا جائے، نیز ٹی وی اور اور سینیما کی تصویر کا بھی یہی حکم ہے۔
اور جس طرح تصویر بنانا ناجائز ہے، اسی طرح تصویر کو دیکھنا بھی ناجائز ہے اور اگر عورتیں بلا ضرورت مردوں کو دیکھیں تو یہ بھی ناجائز ہے، لہٰذا اگر مَردوں کے ویڈیو بیانات چل رہے ہوں اور عورتیں وہ دیکھ رہی ہوں، تو یہ دو گناہوں کا مجموعہ ہے، ایک تصاویر دیکھنے کا گناہ اور ایک بدنظری کا گناہ۔
گھر وں میں ایسی گڑیا یا کھلونے رکھنا جو جاندار کی تصاویر پر مشتمل ہوں چاہے نابالغ بچوں کے لیے ہی کیوں نہ ہوں، ممنوع ہیں اور اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب ہے۔
صحیح بخاری میں ہے:
عن ابن عباس، عن أبي طلحة رضي الله عنهم "عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة)."
(كتاب بداء الخلق، ج:3، ص:1206، ط:دار ابن كثير)
صحیح مسلم میں ہے:
"حدثنا يحيى بن يحيى وأبو بكر بن أبي شيبة وعمرو الناقد وإسحاق بن إبراهيم (قال يحيى وإسحاق: أخبرنا. وقال الآخران: حدثنا) سفيان بن عيينة عن الزهري، عن عبيد الله، عن ابن عباس؛ عن أبي طلحة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال (لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة)."
(كتاب اللباس والزينة، ج:3، ص:1670، ط:دار إحياء التراث العربي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705100647
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن