
کارٹون دیکھ سکتے ہیں یا نہیں؟
شریعتِ مطہرہ میں جان دار کی تصویر بنانا، رکھنا اور دیکھنا ناجائز ہے، اور چونکہ کارٹون جان دار کی تصاویر پر مشتمل ہوتے ہیں، اس لیے جاندار کا کارٹون دیکھنا خواہ کسی بھی مقصد کے لیے ہو، چاہے وہ حقیقی ہوں یا فرضی، ناجائز ہے۔ نیز بچوں کی تربیت کے لیے بھی جاندار کا کارٹون دیکھنے یا دکھانے کا طریقہ اختیار کرنا درست نہیں؛ کیونکہ ایسا طریقہ جو خود ناجائز ہو، شرعاً درست نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ بسا اوقات یہ کارٹون موسیقی پر بھی مشتمل ہوتے ہیں، جس کا سننا شرعا ناجائز ہے۔ عام طور پر کارٹون میں دکھائے جانے والے کردار ایسے انداز میں ہوتے ہیں جن میں کسی نہ کسی درجے میں غیر اسلامی و غیر شرعی امور پائے جاتے ہیں،جس کی وجہ سے بچوں کی ذہن سازی اسلام کی حقیقی تعلیمات کے مطابق نہیں ہوتی اور بچے کی تربیت پرآہستہ آہستہ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصا."
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1، ص:647، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706102298
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن