
صورتِ مسئولہ میں کار انشورنس پر گیسٹ پوسٹ یا ترغیبی آرٹیکل لکھنا شرعاً ممنوع ہے۔ انشورنس کا کاروبار "سود" اور "جوے" پر مبنی ہے، جن کی حرمت قرآنِ کریم اور احادیث سے ثابت ہے۔
ایسے آرٹیکلز لکھنا دراصل اس ناجائز کام کی تشہیر اور لوگوں کو اس کی طرف راغب کرنا ہے، جو "اعانت علی المعصیت" (گناہ میں مدد) ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔
شریعت کا قاعدہ ہے کہ جس طرح گناہ کرنا ممنوع ہے، اسی طرح گناہ کی راہ ہموار کرنا اور اس کام میں کسی کا معاون (مددگار) بننا بھی گناہ ہے۔
قرآنِ کریم میں ہے:
﴿يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون﴾ [المائدة: 90]
ترجمہ:اے ایمان والو بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں ہیں ، شیطانی کام ہیں ،سو ان سے بالکل الگ رہو تا کہ تم فلاح ہو ۔(بیان القرآن)
قرآن کریم میں ہے:
"وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ"
ترجمہ:"اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو"( بیان القرآن)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم
ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سود لینے والے اور دینے والے اور لکھنے والے اور گواہی دینے والے پر لعنت کی ہے اور فرمایا یہ سب لوگ اس میں برابر ہیں اگر چہ مقدار اور کام میں مختلف ہیں ۔(مظاہر حق)
(کتاب البیوع،باب الربا،الفصل الأول،ج: 2،ص: 855،ط: المكتب الإسلامي)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
"عن ابن سيرين قال: كل شيء فيه قمار فهو من الميسر."
(البيض الذي يقامر به،ج:12،ص: 336،ط: الرياض)
المحیط البرہانی میں ہے:
"لأنه إذا علم أنه لا يشتري منه لا يبيع على الطريق فكان هذا إعانة له على المعصية وقد قال الله تعالى: {ولا تعاونوا على الاثم والعدوان} وبعض مشايخنا قالوا: لا تجوز له العقود على الطريق وإن لم يكن للناس في قعوده ضرر ويصير بالقعود على الطريق فاسقاً؛ لأن الطريق ما اتخذ للجلوس فيه إنما اتخذ للمرور فيه."
(كتاب البيع،الفصل الخامس والعشرون: في البياعات المكروهة والأرباح الفاسدة وما جاء فيها من الرخصة،ج: 7،ص: 140،ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102163
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن