بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کھانے کے بعد کی دعا میں ’’وجعلنا من المسلمین‘‘ کہنا درست ہے یا ’’وجعلنا مسلمین‘‘ کہنا درست ہے؟


سوال

ہم کھانے کے بعد ایک دعا پڑھتے ہیں : "الحمد اللہ الذی اطعمنا وسقانا وجعلنا من المسلمین"

 سوال یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی  یہ دعا  ذکر ہے، ’’سنن ترمذی “و”سنن ابی داؤد “ کے حوالے سے ذکر ہے ،لیکن میں نے دونوں کتاب کی مراجعت کی تو اس کے الفاظ میں “وجعلنا مسلمین “ملے، لفظِ“من” نہیں ملا۔  اب یہ دعا کیسے پڑھوں ؟”من” کے ساتھ  یا بغیر “من”کے ؟۔

جواب

مذکورہ دعا میں لفظ ’’مِنْ‘‘ کا اضافہ مسند احمد، سنن ابی داود، سنن ترمذی وغیرہ کے متداول نسخوں اور معروف مراجع میں موجود نہیں ہے، لیکن  لفظ ’’مِنْ‘‘ کا اضافہ کئی معتبر، معتمد اور محقق ناقلین اور شارحین کی کتب اور شروح میں موجود ہے۔دونوں تعبیرات اپنے اپنے محل پر درست ہیں۔

پہلی تعبیر: (’’مِنْ‘‘ کے بغیر ) آدمی کے مسلمان ہونے پر دلالت کرتی ہے، جبکہ دوسری تعبیر (’’مِنْ‘‘کے ساتھ) مسلمانوں کی جماعتِ کا حصہ بننے کے شرف پر۔ دونوں ہی صورتوں میں شکرِ الٰہی، مقصودِ اصلی، مکمل طور پر ادا ہوتا ہے، اور نہ ترکیب میں خلل ہے نہ معنیٰ میں نقص۔ اس درجے کی کمی بیشی کو محدثین نے تنوّع الفاظ یا روایت بالمعنی کے اصول کے تحت جائز قرار دیا ہے۔لفظِ’’ من‘‘ کے اضافے والے حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے: 

"كان إذا فرغ من طعامه قال: الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا من المسلمين".

(أخرجه أحمد والضياء عن أبي سعيد كما في كنز العمال: كتاب الشمائل، الباب الثالث: في شمائل تتعلق بالعادات المعيشة (7/ 104) برقم (18179)، ط. مؤسسة الرسالة، الطبعة : الطبعة الخامسة :1401هـ=1981م)

"الحمد للّٰہ الذي أطعمنا، وسقانا، وجعلنا من المسلمین. عه، ي". 

(الحصنُ الحصین لإمام المقرئین الجزري: أذكار الطعام والشراب (ص:۱۱۱)، ط. نجم العلوم، لکهنو)

"(قال: الحمد للّٰہ..........(وجعلنا من المسلمین) للجمع بین الحمد علی النعم الدنیویة والأخرویة".

(أشرف الوسائل إلی شرح الشمـائل لابن حجر الہیتمي(ص:۲۷۱)،  ط. دار الکتب العلمیة، بیروت)

مزید کچھ مستند حوالہ جات   لفظ ’’مِنْ‘‘ کے اضافے کے ثبوت کے بارے میں :

  1. جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزوائد:أ دعية الكرب والاستخارة والحفظ والطعام والشراب (4/89)، برقم (9422)، ط. دار ابن حزم، بيروت

  2. حجۃ اللّٰہ البالغۃ از شاہ ولی اللہ دہلوی: الأذكار    وما يتعلق بها (2 /214)، ط. دار الجيل، بيروت

  3. الشمائل النبویۃ للترمذی، (ص:188)، برقم (192)، نسخہ مخطوطہ، المکتبۃ الأزہریۃ

  4. حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجہ: باب ما يقال إذا فرغ من الطعام (2 /307)، برقم (3283)، ط. دار الجيل، بيروت

  5. كنز الدرر وجامع الغرر لابن أیبک:  ذكر صفاته المعنويّة صلّى الله عليه وسلم(13 /104)، ط. عيسى البابي الحلبي

  6. الكلم الطيب لابن تیمیہ : في الطعام والشراب، (ص :82)، ط. دار الفكر، بيروت

  7. السنن والمبتدعات المتعلقة بالأذكار والدعوات للحوامدي :فصل في أدعية وأذكار الطعام البدعية والشرعية (ص :286)، ط. دار الفكر

    فقظ والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144501100657

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں