بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کے صحت یابی پر اپنا سب کچھ نیلام کرنے کی منت ماننا


سوال

میرے بیٹے کو ایک دن اچانک جھٹکے آئے تو میری بیوی نے غم و پریشانی کی حالت میں یہ الفاظ کہہ دیے کہ ”اگر میرا بچہ اس بیماری سے ٹھیک ہوا تو میں اپنا سب کچھ نیلام کروں گی“۔ یہ الفاظ سن کر میری والدہ نے بیوی کو فورا ڈانٹا کہ تم نے یہ کیا کہہ دیا؟ بیوی نے جواب دیا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی، غم و صدمے میں یہ جملہ زبان سے نکل گیا۔ اب بچہ الحمد للہ اس بیماری سے صحت یاب ہو چکا ہے۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ :

1. کیا میری بیوی کو واقعی اپنی تمام ملکیت نیلام کر نالازم ہے ؟

2. اگر نیلامی کرناضروری ہے تو کیا وہ چیزیں مفت میں دینا لازم ہو گا یا ان کی قیمت لگا کر فروخت کر سکتی ہے ؟

3- کیا وہ زیورات (سونا) جو میں نے بعد میں حق مہر کے طور پر بیوی کو دیا ، وہ بھی اس منت میں شامل ہوں گے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ (اگر میرا بچہ اس بیماری سے ٹھیک ہوا تو میں اپنا سب کچھ نیلام کروں گی) سے منت منعقد نہیں ہوئی، کیوں کہ منت کے صحیح اور لازم ہونے کے لیے ایک شرط یہ ہے کہ جس چیز کی منت مانی گئی ہو وہ عبادتِ مقصودہ ہو، جب کہ اپنا سب کچھ نیلام کرنا عبادات میں شامل نہیں ہے۔ لہٰذا سائل کی بیوی پر اپنی مملوکہ اشیاء کو نیلام کرنا لازم نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ومن شروطه أن يكون قربة مقصودة فلا يصح النذر بعيادة المريض، وتشييع الجنازة، والوضوء، والاغتسال، ودخول المسجد، ومس المصحف، والأذان، وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك، وإن كانت قربا إلا أنها غير مقصودة اهـ".

(كتاب الأيمان، ج:3، ص:735، ط:سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100879

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں