
ایک عورت کی شادی کو دس سال ہوگئے لیکن کوئی بچہ نہیں تھا تو اس عورت نے کسی اور کے تقریبا ایک سال والے بچے کو دودھ پلایا پھر اس کے چھ ماہ بعد وہ عورت حاملہ ہوگئی،پانچ چھ ماہ حاملہ تھی پھر اسی بچہ کو دودھ پلایا ،اب آیا اس پیدا ہونے والی بچی کے ساتھ دودھ پلائے ہوئے بچے کا نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت نے جس بچہ کو دودھ پلایا ہے اس سے اس عورت کی حقیقی اولاد کا نکاح شرعا جائز نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"رجل تزوج امرأة ولم تلد منه قط ثم نزل لها لبن فأرضعت صبيا كان الرضاع من المرأة دون زوجها حتى لا يحرم على الصبي أولاد هذا الرجل من غير هذه المرأة."
(کتاب الرضاع،ج1،ص343،ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100757
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن