
میں گھر پہنچا تو میرے گھر میں میری بیوی اور کزن کا جھگڑا چل رہا تھا، جس پر میں نے غصّے میں آکر یہ کہا کہ ”یک، دو، سہ، تَو فارغ ہے۔“ یعنی ایک، دو، تین، آپ فارغ ہوں، اس کے بعد مجھے گھر کے لوگوں نے وہاں سے ہٹا دیا۔
سوال یہ ہے کہ شریعت کی رو سے ان الفاظ سے میری بیوی پر کتنی طلاق واقع ہوئی ہے؟ کیا دوبارہ رجوع کی یا نکاح کی گنجائش ہے؟
وضاحت: میرا بیوی سے روز جھگڑا ہوتا تھا۔ جس وقت میں نے یہ الفاظ کہے ہیں اس وقت گھر کے سارے افراد موجود تھے، اور یہ الفاظ میں نے طلاق سمجھ کر کہے ہیں اور بلوچی زبان میں بھی یہ الفاظ بیوی کو فارغ کرنے اور طلاق دینے کی نیت سے کہے جاتے ہیں۔ نیز میں نے اس سے قبل کوئی طلاق نہیں دی۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے ہیں کہ ”یک، دو، سہ، تَو فارغ ہے۔“ اور یہ الفاظ سائل کی وضاحت کے مطابق سائل نے طلاق سمجھ کر کہے ہیں تو ان الفاظ میں "یک، دو، سہ"سے تو کوئی طلاق نہیں ہوئی، البتہ "تو فارغ ہے "سےسائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ہے اور نکاح ٹوٹ چکا ہے، اب رجوع جائز نہیں، لہٰذا بیوی اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک) گزار کر دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے، البتہ اگر فریقین باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو (خواہ دورانِ عدت ہو یا عدت کے بعد) نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں از سرِنو ایجاب و قبول کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرکے رہ سکتے ہیں، تجدیدِ نکاح کے بعد سائل کو آئندہ کے لیے دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا، بشرطیکہ سائل نے اس طلاق سے قبل کوئی اور طلاق نہ دی ہو۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عن ذكر العدد، وعند عدمه الوقوع بالصيغة.
وفي الرد: (قوله: والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) أي متى قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه من أنه لو قال لغير المدخول بها أنت طالق ثلاثا طلقت ثلاثا، ولو كان الوقوع بطالق لبانت لا إلى عدة فلغا العدد."
(كتاب الطلاق،باب صريح الطلاق، ج:3، ص:287، ط:ايج ايم سعيد)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"(الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية. وألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام."
(كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الخامس، ج:1، ص:374، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)
وفيه أيضاً:
"إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها."
(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، ج:1، ص:472، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100121
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن