
میری شوہر کے ساتھ لڑائی ہوگئی تھی، میں نے شوہر سے کہا کہ مجھے طلاق دو، اس نے مجھے ان الفاظ میں طلاق دے دی کہ: "میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں،" میں حمل سے ہوں، اب میں کیا کروں؟ میرے لیے کیا حکم ہے؟
اگر واقعتاً سائلہ کا بیان درست ہے کہ شوہر نے اس کو ان الفاظ "میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں،" سے طلاق دی ہے، تو سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر وہ اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، دوبارہ رجوع یا نکاح کی گنجائش نہیں ہے، بچہ کی پیدائش تک عدت ہوگی اس کے بعد سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
تبیین الحقائق میں ہے:
"قال - رحمه الله - (وللحامل وضعه) أي عدة الحامل وضع الحمل سواء كانت حرة أو أمة، وسواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو غيره لإطلاق قوله تعالى {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن} [الطلاق: 4]."
(كتاب الطلاق، ج:3، ص:28، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100667
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن