
کیا ایک شخص اپنی بیوی کی پھوپھی سے شادی کرسکتا ہے؟ کیوں کہ پھوپھی کا شوہر فوت ہوچکا ہے اور یہ مذکورہ شخص اپنی بیوی کی پھوپھی کا دیور ہے۔
ایک آدمی کا ایسی دو عورتوں کو ایک وقت میں اپنے نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں ہے، جن کا آپس میں بھتیجی اور پھوپھی کا رشتہ ہو، لہٰذا کسی شخص کے لیے بھی اپنی بیوی کی پھوپھی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، جب تک اس کی بیوی اس کے نکاح میں موجود ہو۔
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"(و) حرم (الجمع) بين المحارم (نكاحا) أي عقدا صحيحا (وعدة ولو من طلاق بائن، و) حرم الجمع (وطء بملك يمين بين امرأتين أيتهما فرضت ذكرا لم تحل للأخرى) أبدا لحديث مسلم «لا تنكح المرأة على عمتها» وهو مشهور يصلح مخصصا للكتاب."
(كتاب النكاح، ج:1، ص:290، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144712100902
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن