
اگر بیوی واٹس ایپ میسجز پر طلاق مانگ رہی ہو اور بات چیت کچھ یوں ہو تو کیا اس سے طلاق ہو جائے گی؟
بیوی : "مجھے طلاق دے دیں۔"
شوہر: "دے دیتا" (یعنی مستقبل میں)۔
بیوی:۔۔۔ ؟
شوہر: "دے رہا ۔"
بیوی: چھوڑ دیں مجھے۔
شوہر: اچھا، ریلیکس۔ پرسکون ہو جاؤ
بیوی: طلاق
شوہر: دے دی
کیا اس میں واقعی طلاق ہو گئی؟ "دے دی" سے مراد یہ تھی کہ شوہر نے تصدیق کی کہ "دے دی"، اور باقی الفاظ سے کوئی طلاق کی نیت نہیں تھی۔ "دے رہا" کا مطلب عام طور پر کوئی بھی کام کرنے سے پہلے بولتا ہوں جیسے کوئی میسجز پر پیسے مانگے تو پیسے بھیجنے سے پہلے میں عام طور پر بولتا ہوں 'دے رہا'۔ اس گفتگو میں ایک ہی طلاق کی بات ہو رہی تھی اور یہ چیٹ ایک ہی وقت میں ہو رہی تھی۔ جزاک اللہ۔
صورتِ مسئولہ میں بیوی کی جانب سے مذکورہ واٹس ایپ میسج کے دوران طلاق کے میسج کے بعد شوہر نے "دے دی" لکھا تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی، شوہر کو اپنی بیوی کی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اگر حمل ہو، تو بچے کی پیدائش تک ) کے دوران رجوع کا حق حاصل ہے، اگر عدت کے اندر رجوع کرلیا، تو نکاح قائم رہے گا اور عدت گزرجانے کی صورت میں عورت بائنہ ہوجائے گی اور نکاح ختم ہوجائے گا اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی اور آئندہ کے لیے شوہر کو دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔
البتہ اس سے پہلے جو گفتگو ہوئی جس میں شوہر نے یہ کہا تھا کہ "طلاق دیتا" ، "دے رہا" چوں کہ سائل کی وضاحت کے مطابق یہ الفاظ بھی مستقبل میں طلاق دینے کی نیت سے کہے تھے، اس لیےان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
البحر الرائق میں ہے:
"وليس منه أطلقك بصيغة المضارع إلا إذا غلب استعماله في الحال كما في فتح القدير."
(كتاب الطلاق، ج:3، ص:271، ط:دار الكتاب الاسلامي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144610101238
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن