
بعض لوگوں سے سنا ہے کہ بزرگوں کی قبروں پر جاکر ان کے وسیلے سے دعائیں کرتے ہیں تو یہ بزرگ اللہ تعالی سے دعائیں منظور کراتے ہیں، اور ان کے وسیلے سے دعائیں جلدی قبول ہوتی ہیں، یہ طریقہ کب سے چلا ہے اور اس کا ثواب کس کو ملتا ہے؟اور کیا یہ درست ہے؟
واضح رہے کہ غیر اللہ (اللہ کے علاوہ کسی ہستی) کو وسیلہ بنانے کی مختلف صورتیں ہیں، ان میں سے بعض صورتیں جائز ہیں اور بعض ناجائز ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. غیر اللہ کو وسیلہ بنانے کی ایک صورت یہ ہے کہ خود غیراللہ کو اپنی جاحت کے لیے پکارا جائے اور یہ اعتقاد ہو کہ وہ اللہ کا غیر مشکلات کو حل کرنے پر قادر ہے، اللہ نے اسے اس کا اختیار دیا ہوا ہے۔
اس صورت کا حکم یہ ہے کہ اس طرح کا وسیلہ کفر اور شرک ہے، ایسا اعتقاد رکھنے والا شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔
2. دوسری صورت یہ ہے کہ یہ اعتقاد پختہ ہو کہ حاجت روا اور مشکل کشا صرف اللہ تعالی کی ذات ہے، اللہ کے علاوہ کسی کو کسی کی مشکل (مافوق الاسباب) حل کرنے پر قدرت نہیں ہے، اولیاء اللہ کا وسیلہ صرف اس معنی میں کیا جائے کہ ان سے اپنی مشکل کے حل کے لیے اللہ تعالی سے دعا کرنے کی درخواست کی جائے، اس کی پھر دو صورتیں ہیں:
3.وسیلہ کی تیسری صورت یہ ہے کہ اولیاءاللہ سے اپنی محبت کو وسیلہ بناتے ہوئے اللہ تعالی سے دعا کی جائے کہ اے اللہ! میرے خیال میں فلاں آپ کا مقرب ہے اور مقربین سے محبت پر آپ کی طرف سے نزولِ رحمت کا وعدہ ہے، مجھے ان سے محبت ہے، میری ان سے محبت کی بدولت میری دعا کو قبول فرمالیجیے۔
وسیلہ کی یہ صورت بھی شرعاً جائز ہے۔
مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ غیر اللہ کو (اپنی مشکل کے حل کے لیے) پکارنا (قریب سے ہو یا دور سے) کسی طرح بھی شرعاً جائز نہیں ہے، البتہ ان سے دعا کی درخواست کی جاسکتی ہے اور ان کےساتھ اپنی محبت کو وسیلہ بنا کر بھی دعا کی جاسکتی ہے۔
قرآن مجید میں ہے:
" وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ."
ترجمہ:
”اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبود کو پکارے جو قیامت تک بھی اس کا کہنا نہ کرے اور ان کو ان کے پکارنے کی بھی خبر نہ ہو۔“
(بیان القرآن، ج: 3، ص: 397، ط: مکتبہ رحمانیہ)
معارف القرآن میں ہے:
”دوسری قسم وہ ہے کہ جس کو کفار اختیار کرتے ہیں اور قرآن و اسلام اس کو باطل و شرک قرار دیتا ہے، ایاک نستعین میں یہی مراد ہے کہ ایسی استعانت و امداد ہم اللہ کے سوا کسی سے نہیں چاہتے، وہ یہ ہے کہ اللہ کی کسی مخلوق فرشتے یا پیغمبر یا ولی یا کسی دیوتا کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ اگر چہ قادرِ مطلق اللہ تعالی ہی ہے اور کامل اختیارات اسی کے پاس ہیں، لیکن اس نے اپنی قدرت و اختیار کا کچھ حصہ فلاں شخص کو سونپ دیا ہے اور اس دائرے میں وہ خود مختار ہے، یہی وہ استعانت و استمداد ہے جو مومن و کافر میں فرق اور اسلام و کفر میں امتیاز کرتی ہے، قرآن اس کو شرک و حرام قرادیتا ہے، بت پرست مشرکین اس کے قائل اور اس پر عامل ہیں۔“
(ج: 1، ص: 100، ط: مکتبہ معارف القرآن کراچی)
معارف القرآن للکاندھلویؒمیں ہے:
”اگر اللہ کے علاوہ کسی کو فاعلِ مستقل اور قادربالذات سمجھ کر یا بعد عطاء الٰہی اور تفویض خداوندی اس کو قادرِ مختار جان کر اس سے مدد مانگے تو بلاشبہ کفر اور شرک ہے۔۔۔خلاصہ کلام یہ کہ اول کی دو صورتیں قطعاً کفر اور شرک ہیں اور ان کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(معارف القرآن للکاندھلویؒ، ج: 1، ص: 23، ط: مکتبہ المعارف)
مسندِ احمد میں ہے:
"عن ابن عمر، أن عمر استأذن النبي صلى الله عليه وسلم في العمرة فأذن له. فقال: يا أخي أشركنا في صالح دعائك ولا تنسنا."
(ج: 9، ص: 187، ط: مؤسسة الرسالة)
سنن ابنِ ماجہ میں ہے:
"عن عثمان بن حنيف، أن رجلا ضرير البصر أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ادع الله لي أن يعافيني فقال: «إن شئت أخرت لك وهو خير، وإن شئت دعوت» فقال: ادعه، فأمره أن يتوضأ فيحسن وضوءه، ويصلي ركعتين، ويدعو بهذا الدعاء: «اللهم إني أسألك، وأتوجه إليك بمحمد نبي الرحمة، يا محمد إني قد توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى، اللهم فشفعه في» . قال أبو إسحاق: هذا حديث صحيح."
(کتاب الصلوۃ، باب ماجاء فی صلوۃ الحاجة، ج: 1، ص: 441، ط: دار احیاء الکتب العربیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"ومما روي من تأدبه معه أنه قال: إني لأتبرك بأبي حنيفة وأجيء إلى قبره، فإذا عرضت لي حاجة صليت ركعتين وسألت الله تعالى عند قبره فتقضى سريعا."
(مقدمة، ج: 1،، ص: 55، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"(و) كره قوله (بحق رسلك وأنبيائك وأوليائك) أو بحق البيت لأنه لا حق للخلق على الخالق تعالى.
"(قوله وكره قوله بحق رسلك إلخ) هذا لم يخالف فيه أبو يوسف بخلاف مسألة المتن السابقة كما أفاده الأتقاني. وفي التتارخانية وجاء في الآثار ما دل على الجواز (قوله لأنه لا حق للخلق على الخالق) قد يقال إنه لا حق لهم وجوبا على الله تعالى، لكن الله سبحانه وتعالى جعل لهم حقا من فضله أو يراد بالحق الحرمة والعظمة، فيكون من باب الوسيلة وقد قال تعالى: - {وابتغوا إليه الوسيلة} [المائدة: 35]-: وقد عد من آداب الدعاء التوسل على ما في الحصن، وجاء في رواية: «اللهم إني أسألك بحق السائلين عليك، وبحق ممشاي إليك، فإني لم أخرج أشرا ولا بطرا» الحديث اهـ ط عن شرح النقاية لمنلا علي القاري ويحتمل أن يراد بحقهم علينا من وجوب الإيمان بهم وتعظيمهم، وفي اليعقوبية يحتمل أن يكون الحق مصدرا لا صفة مشبهة فالمعنى بحقية رسلك فلا منع فليتأمل۔۔۔قال السبكي: يحسن التوسل بالنبي إلى ربه ولم ينكره أحد من السلف ولا الخلف إلا ابن تيمية فابتدع ما لم يقله عالم قبله اهـ ونازع العلامة ابن أمير حاج في دعوى الخصوصية، وأطال الكلام على ذلك في الفصل الثالث عشر آخر شرحه على المنية فراجعه."
(كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:397، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801100877
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن