بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

برجوں کے متعلق مؤثر ہونے کا عقیدہ رکھنا جائز نہیں


سوال

12 فروری کو پیدا ہونے والی بچی کا برج دلو (Aquarius) ہوتا ہے۔ برج دلو کی بچیاں عام طور پر ذہین، تخلیقی اور منفرد شخصیت کی مالک سمجھی جاتی ہیں۔

اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب

واضح رہے کہ یہ خیال کرنا کہ برج دلو میں پیدا ہونے والی پچیاں ذہین، تخلیقی اور منفرد ہوتی ہیں،یہ بات درست نہیں ہے۔اس طرح برجوں اور ستاروں سے کسی کی شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرنا شرعا جائز نہیں ہے،یہ عقیدہ رکھنا کہ برج اور ستارے انسان کی شخصیت پر اثرانداز ہوتے ہیں ،یہ غلط عقیدہ ہے۔اگر برجوں اور ستاروں کو مؤثرِ حقیقی مانا جائےتو یہ کفر تک پہنچ سکتا ہے۔کسی انسان کی شخصیت کے بارے میں برجوں اور ستاروں سے فیصلہ کرنا غیب کا دعوی کرنا ہے، جو شرعا حرام اور باطل ہے۔

انسان کی شخصیت پر اصل اثر ماحول، تربیت،اور اللّہ کی عطا کردہ قوتوں اور صلاحیتوں سے ہوتا ہے ۔

شرح النووی على مسلم میں ہے:

" وقال الخطابي أيضا في حديث من أتى كاهنا فصدقه بما يقول فقد برئ مما أنزل الله على محمد صلى الله عليه وسلم قال كان في العرب كهنة يدعون أنهم يعرفون كثيرا من الأمور فمنهم من يزعم أن له رئيا من الجن يلقي إليه الأخبار ومنهم من يدعي استدراك ذلك بفهم أعطيه ومنهم من يسمى عرافا وهو الذي يزعم معرفة الأمور بمقدمات أسباب استدل بها كمعرفة من سرق الشيء الفلاني ومعرفة من يتهم به المرأة ونحو ذلك ومنهم من يسمي المنجم كاهنا قال والحديث يشتمل على النهي عن إتيان هؤلاء كلهم والرجوع إلى قولهم وتصديقهم فيما يدعونه هذا كلام الخطابي وهو نفيس."

(کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ، باب تحريم الكلام في الصلاة ونسخ ما كان من إباحته، ج:5، ص:22، ط: دار إحياء التراث العربي)

فیض القدیر میں ہے:

" (‌من ‌أتى ‌عرافا أو كاهنا) وهو من يخبر عما يحدث أو عن شيء غائب أو عن طالع أحد بسعد أو نحس أو دولة أو محنة أو منحة (فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل الله على محمد) من الكتاب والسنة وصرح بالعلم تجريدا وأفاد بقوله فصدقه أن الغرض إن سأله معتقدا صدقه فلو فعله استهزاء معتقدا كذبه فلا يلحقه الوعيد. "

( حرف المیم، ج:6، ص:23، الناشر: المكتبة التجارية الكبرى )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101087

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں