بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بڑھاپے میں شادی کرنے کا حکم


سوال

میری اہلیہ کا انتقال ہو چکا ہے، اور اس کے انتقال کو تقریباً ایک سال گزر چکا ہے۔ گھر میں ایک جوان بیٹا اور ایک بیٹی موجود ہیں۔ بیٹے کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ گھر میں کام کرنے والی خواتین کو کام نہیں کرنے دیتا اور کہتا ہے کہ آپ ہی سارے کام انجام دیں، جبکہ میری طبیعت اکثر خراب رہتی ہے، جس کی بنا پر مجھے بار بار ہسپتال جانا پڑتا ہے۔
گھر کے معاملات کی درستگی، بیٹی کی تعلیم، اپنی خدمت اور دیگر ضروریات کے پیشِ نظر میں نکاحِ ثانی کرنا چاہتا ہوں۔ تو کیا شرعاً میرے لیے نکاحِ ثانی کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح کے معاملے میں شرعاً عمر کی کوئی تحدید نہیں، عمر کے جس حصّے میں بھی آدمی نکاح کرنا چاہے، کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ بیوی کے حقوق، مثلاً مہر، نان و نفقہ، اور ازدواجی حقوق ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، یعنی مالی و جسمانی دونوں طاقتیں رکھتا ہو۔

نیز جس طرح کنوارہ شخص کا نکاح کرنا جائز اور عینِ سنت ہے، اسی طرح وہ شخص جس کی بیوی فوت ہوگئی ہو، تو ایسے شخص کا بھی دوسری شادی کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی قباحت یا کراہت نہیں ہے، اور اس دوسری شادی کو معیوب سمجھنا، اس میں رکاوٹ ڈالنا قطعاً ناجائز ہے۔

تاہم اگر کوئی بوڑھا دوسری شادی کرنا چاہتا ہو، لیکن بڑھاپے کی وجہ سے بیوی کے حقوق پورا کرنے پر قادر نہ ہو، تو اس کے لیے کم عمر عورت سے نکاح کرنا مناسب نہیں؛ کیونکہ نکاح کے من جملہ مقاصد میں حقوقِ زوجیت کی تکمیل بھی شامل ہے، اور اس کے پورا نہ ہونے کی صورت میں عورت کے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسا شخص اگر نکاح کرنا چاہے، مثلاً: خدمت یا دیگر ضروریات کے پیش نظر، تو بہتر یہ ہے کہ ہم عمر یا ایسی عورت سے نکاح کرے جس میں ازدواجی رغبت نہ ہونے کے برابر ہو، تاکہ حقوقِ زوجیت کی ادائیگی میں کمی کوتاہی ہو تو فتنہ فساد کا باعث نہ ہو۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل بیوی کے حقوق ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہے تو نکاح کر سکتا ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: ومكروها) أي تحريما بحر (قوله: فإن تيقنه) أي تيقن الجور حرم؛ لأن النكاح إنما شرع لمصلحة تحصين النفس، وتحصيل الثواب، وبالجور يأثم ويرتكب المحرمات فتنعدم المصالح لرجحان هذه المفاسد..... ولا يزوج ابنته ‌الشابة ‌شيخا كبيرا ولا رجلا دميما ويزوجها كفؤا."

(كتاب النكاح، ج:3، ص:9/7، ط:ایج ایم سعيد)

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

”سوال: ایک ۷۰ سالہ شخص نے بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی کر لی ، کچھ لوگوں کو اعتراض تھا کہ عمر کے اس حصے میں شادی مناسب نہیں ، جبکہ دیگر معاشروں میں اس کی اجازت ہے، کیا اسلام نے اس کی اجازت دی ہے؟ 

جواب : نکاح تو آدمی جب چاہے کر سکتا ہے، اور یہ نکاح ضروری نہیں کہ جنسی خواہش کے لیے ہو، بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بیماری کی حالت میں بیوی خدمت کرے گی ۔“

(دوسری شادی، ج:6، ص:278، ط:مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100397

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں