
ہماری بلڈنگ کی کمیٹی نے یہ قانون بنایا ہےکہ جو نیا شخص اپنے لیے ذاتی گھر خریدنے کےلیے آتا ہے تو کمیٹی اس سے بلڈنگ میں داخل ہونے کے لیے 50 ہزار روپے لیتی ہے،اور جو نیا کرایہ دار کرایہ پر گھر لینے کے لیے آتا ہے اس سے 25 ہزار روپےلیتی ہے،اور یہ رقم ان سے جبراً لی جاتی ہے،جو اسے ادا نہیں کرتا اس کو گھر نہیں دیا جاتاہے۔
تو اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ رقم لینا کمیٹی کے لیے جائز ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں بلڈنگ کمیٹی کی جانب سے نئے آنے والے خریدار یا کرایہ دارسے بلڈنگ میں داخل ہونے کی جو فیس لی جاتی ہے یہ شرعاً درست نہیں ہے؛کیونکہ جب کوئی شخص فلیٹ خریدتا ہےیا کرایہ پر لیتا ہے، تو وہ عمارت کی سہولیات استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے، اس سے بغیر کسی شرعی وجہ کےاضافی رقم لینادرست نہیں ہے۔
البتہ بلڈنگ کی روزمرہ دیکھ بھال اور دیگر بڑے اخراجات جیسے رنگ و روغن، پانی کی لائنوں کی مرمت، لفٹ کی دیکھ بھال، اور دیگر ضروریات کے لیے تمام رہائشیوں سےماہانہ بنیاد پرمینٹیننس لینادرست ہے۔
مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:
"(المادة 97) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."
(المقدمة،المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهيةص27،ط:نور محمد)
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"إذا احتاج الملك المشترك للتعمير والترميم فيعمره أصحابه بالاشتراك بنسبة حصصهم سواء كان الملك مشتركا بين أكثر من مالك واحد أو مشتركا بين مالك ووقف أو كان قابلا للقسمة كالدار الكبيرة أو غير قابل للقسمة كالحمام والبئر فإذا كان الوقف شريكا في الملك فيدفع متولي الوقف حصة الوقف في المصرف بنسبة حصته والملك هنا أعم من ملك الرقبة وملك المنفعة. الخلاصة: إن نفقات الأموال المشتركة تعود على الشركاء بنسبة حصصهم في تلك الأموال حيث إن الغرم بالغنم "
"ويتفرع عن ذلك المسائل الآتية:1 - يقتضي الإنفاق مشتركا على تعمير الدار والحمام وبناء الحائط وتشييد السطح وكري النهر والحيوان وإصلاح القناة المشتركات"
(الكتاب العاشر الشركات ج،3،ص 310،ط: دار الجيل )
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711102148
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن