
1 مندرجہ ذیل احادیث کی اسنادی حیثیت کیا ہے؟
الف۔حدثنا زيد بن إسماعيل نا شَبَابة بن سَوَّار نا حفص بن مُورّق الباهلي عن حجاج بن أبي عثمان الصوَّاف عن زيد بن وهب عن حذيفة قال: "أول الفتن قتل عثمان بن عفان، وآخر الفتن خروج الدجّال، والذي نفسي بيده لا يموت رجل وفي قلبه مثقال حبة من حب قتل عثمان إلا تَبعَ الدجَّال إن أدركه وإن لم يدركه آمن به في قبره".(تاريخ مدينة دمشق ج39/ص447)
ب۔ حدثنا يحيى بن آدم قال حدثنا عمار بن زريق عن الأعمش عن زيد بن وهب عن حذيفة قال: "أرأيتم يوم الدار كانت فتنة - يعني قتل عثمان؛ فإنها أول الفتن وآخرها الدجال".( مصنف ابن أبي شيبة ج7/ص264 2 )
مندرجہ بالا حدیث (1-الف) میں اس عبارت (وإن لم يدركه آمن به في قبره) کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی تشریح مطلوب ہے۔
انعام الباری (ج3/ص572) میں مفتی تقی عثمانی مدظلہ فرماتے ہیں:
"۔۔۔حضرت شاہ صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ میں مدتوں پریشان رہا کہ حضور ﷺ دجال سے کیوں پناہ مانگتے تھے، اس لیے کہ آپ ﷺ کو تو یہ بات پتہ تھی کہ دجال آخری زمانے میں آئے گا اور عیسٰی علیہ السلام اس کو قتل کریں گے۔تو آپ ﷺ کی حیات میں تو اس کے نکلنے کا امکان تھا ہی نہیں، تو پھر آپ ﷺ اس سے کیوں پناہ مانگتے تھے؟ پھر بعد میں شاہ صاحبؒ نے ایک عجیب بات فرمائی ہے جو پوری طرح سمجھ میں نہیں آئی اور ہم جیسوں کو سمجھ میں آنا ضروری بھی نہیں۔انہوں نے یہ فرمایا کہ کہ بعد میں مجھے یہ بات پتہ لگی کہ دجال کا جو فتنہ ہے وہ صرف احیاء پر ہی اثر انداز نہیں ہو گا ،بلکہ اموات پر بھی اثر انداز ہو گا، جو لوگ مر چکے ہوں گے اور قبروں میں ہوں گےان پر بھی اس خبیث کا فتنہ اثر انداز ہو گا ،کس طرح ہو گا؟ واللہ اعلم۔۔۔"
فیض الباری(ج2/ص397) میں علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ کا قول نقل ہے کہ:
قوله: (من فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ)، "ولم يكن يتبيَّن لي في التعوُّذ منها وجهٌ، فإنها في الحياة، حتى رأيت في «البدور السافرة» رواية: «أن من كان في قلبه بغضٌ من عثمان رضي الله تعالى عنه، فإنه لا يَأْمَنُ في قبره من فتنة الدَّجَّال»، فتبيَّن أن أثر تلك الفتنة تَسْرِي إلى القبور أيضًا، وحينئذٍ تبيَّن لي وَجْهُهُ، ومن ههنا ظهر وَجْهُ القِرَان بين التعوُّذ من عذاب القبر، والتعوُّذ من تلك الفتنة. والمراد من فتنة المحيا: المعاصي، ومن الممات: سؤال النَّكِيرَيْن."
1- تاريخ دمشق كی مذکورہ روایت كی مكمل سند كچھ یوں ہے :
" أخبرنا أبو القاسم العلوي أنا رشأ بن نظيف أنا الحسن بن إسماعيلأنا أحمد بن مروان نا زيد بن إسماعيل نا شبابة بن سوار نا حفص بن مورق الباهلي عن حجاج بن أبي عثمان الصواف عن زيد بن وهب عن حذيفة...)
(تاريخ مدينة دمشق،(39/ 447)، ط/ دار الفکر للطباعةوالنشر)
مذکورہ روایت اسی سند کے ساتھ ’’المجالسۃ وجواہر العلم ‘‘اور ’’البدایۃ والنھایۃ‘‘ میں بھی نقل ہوئی ہے۔
(المجالسة وجواهر العلم، (2/ 164)، ط/ دار ابن حزم)
(البدایة والنھایة،(7/ 214)، ط/ دار احیاء التراث العربی)
اس سند میں راوی ’’احمد بن مروان دینوری مالکی ‘‘ کوامام دار قطنی ؒ وغیرہ حضرات نےوضعِ حديث سے متہم قرار دیا ہے ، اوراسی بات کو حافظ ذہبی ؒنے ’’میزان الاعتدال‘‘ میں بھی نقل فرمایا ہے، اور اس راوی کو’’ منکر الحدیث‘‘یعنی ضعیف قرار دیا ہے۔
حافظ ذہبی ؒ ’’میزان الاعتدال‘‘ میں لکھتے ہیں:
"أحمد بن مروان الدينوري المالكي: صاحب المجالسة، اتهمه الدارقطني، ومشاه غيره. "
(میزان الاعتدال، (1/ 156) ط/دار المعرفة للطباعة والنشر)
اور دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
" محمد بن عبد العزيز الدينورى: أكثر عنه أحمد بن مروان في المجالسة له، وهو منكر الحديث ضعيف.ذكره ابن عدي، وذكر له مناكير، عن موسى بن إسماعيل، ومعاذ بن أسد، وطبقتهما، وكان ليس بثقة، يأتي ببلايا."
(میزان الاعتدال، (3/ 629)، ط/ دار المعرفةللطباعة والنشر)
’’لسان المیزان ‘‘ میں حافظ ابن حجر ؒ اس راوی کے حوالہ سے لکھتے ہیں:
" أحمد بن مروان الدينوري المالكي صاحب المجالسة اتهمه الدارقطني، ومشاه غيره، انتهى. وصرّح الدارقطني في غرائب مالك بأنه يضع الحديث، وروى مرة فيها عن الحسن القراب عنه عن إسماعيل بن إسحاق عن إسماعيل بن أويس عن مالك عن سمي عن أبي صالح عن أبي هريرة حديث سبقت رحمتي غضبي وقال لا يصح بهذا الإسناد والمتهم به أحمد بن مروان وهو عندي ممن كان يضع الحديث. "
(لسان المیزان،(1/ 309)، ط/ دار البشائر الاسلامیة)
مذکورہ سند اس راوی کے سبب غیر معتبر ہے ،البتہ دیگر شواہد کی روشنی میں اس کا متن مقبول ہے،ذیل میں شواہد ملاحظہ فرمائیے:
1- عن حذیفة، قال: "أَرَأَيْتُمْ يَوْمَ الدَّارِ كَانَتْ فِتْنَةً يَعْنِي قَتْلَ عُثْمَانَ فَإِنَّهَا أَوَّلُ الْفِتَنِ وَآخِرُهَا الدَّجَّالُ".
(مصنف ابن أبی شیبة، (7/ 264) برقم (35920)، ط/ مكتبة الرشد، الرياض)
2- عنحُذَيْفَةَ، يَقُولُ: «لَوْ خَرَجَ الدَّجَّالُ لَآمَنَ بِهِ قَوْمٌ فِي قُبُورِهِمْ».
(مصنف ابن أبی شیبة، (7/ 509)، برقم (37621)، ط/ مكتبة الرشد، الرياض)
(تفسیر الدر المنثور، (7/ 299)، ط/ دار الفکر بیروت)
باقی سوال میں ذکر کردہ روایت کا آخری جزء "وإن لم يدركه آمن به في قبره"یا " لَوْ خَرَجَ الدَّجَّالُ لَآمَنَ بِهِ قَوْمٌ فِي قُبُورِهِمْ" (اگر ايسا شخص دجال کے زمانہ میں زندہ نہ بھی ہو توبھی اپنی قبر میں اس پر ضرور ایمان لائے گا) کا تعلق ایسے شخص کے ساتھ ہے جو دنیا میں باطلپرست فرقوں کے ہمراہ مختلف فتنوں میں سرگرم رہا ہو اور فسادِ عقیدہ کے مرض میں مبتلا ہو، چنانچہ ان فتنوں کے ساتھ قلبی تعلق ووابستگی قبر میں بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گی، چنانچہ حضرت علامہ کشمیری ؒ نے بھی اس روایت سے یہی نتیجہ اخذا فرمایا ہے کہ جس شخص کے دل میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بغض (عداوت) ہے(یعنی باطل پرست فرقوں کے ہمراہ مختلف فتنوں میں سرگرم رہا اور فسادِ عقیدہ کے مرض میں مبتلا ہے)تو اس فتنہ دجال کا اثر ایسے لوگوں کی قبر تک بھی پہنچتاہے۔البتہ دجال کا یہ اثرقبر میں کیسے پہنچے گا؟ اس کی تفصیل معلوم نہیں ۔
’’فیض الباری ‘‘ میں ہے:
" قوله: (من فتنة المسيح الدجال)، ولم يكن يتبين لي في التعوذ منها وجه، فإنها في الحياة، حتى رأيت في «البدور السافرة» رواية: «أن من كان في قلبه بغض من عثمان رضي الله تعالى عنه، فإنه لا يأمن في قبره من فتنة الدجال»، فتبين أن أثر تلك الفتنة تسري إلى القبور أيضا، وحينئذ تبين لي وجهه ومن ههنا ظهر وجه القران بين التعوذ من عذاب القبر، والتعوذ من تلك الفتنة".
(فیض الباری، (2/ 397)، ط/ دار الكتب العلمية، بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144501102313
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن