
میرا بروکری کا کام ہے، ہم نے دو پارٹیوں کا سودا 30 لاکھ روپے میں کرایا، اس رقم میں پانچ لاکھ روپے ہمارا کمیشن تھا، جو کہ صرف بائع کو پتہ ہے، خریدار کو نہیں، چنانچہ خریدار نے چھ لاکھ روپے ایڈوانس ادا کئے، جس میں چار لاکھ روپے بائع کو ملے اور دو لاکھ روپے ہم نے اپنے کمیشن میں سے رکھ لئے۔
پھر ایک ماہ بعد خریدار نے وہ سودا کینسل کر دیا، چنانچہ بائع نے اپنے لئے ہوئے چار لاکھ میں سے اسی ہزار روپے کاٹ دئے، اور ہمارے دو لاکھ روپے جو بطور کمیشن ہم نے لئے تھے، ان میں سے 40 ہزار روپے لے کر تین لاکھ 60 ہزار روپے خریدار کو واپس کر دئے۔
سوال یہ ہے کہ کمیشن کے دو لاکھ روپے میں ایک لاکھ 60 ہزار روپے جو ہمارے پاس رہ گئے ہیں، وہ ہمارے لئے جائز ہیں یا نہیں؟
وضاحت 1۔ خریدار کو ابھی تک ہمارے اس کمیشن کا علم نہیں ہے۔
وضاحت 2۔ خریدار نے اپنے طور پر ہمیں 50 ہزار روپے بطور کمیشن الگ دئے تھے، جو انہوں نے سودا کینسل ہونے کے بعد ہمیں بخوشی معاف کر دئے۔
واضح رہے کہ بروکری کی اجرت لینا شرعا جائز ہے ،بشرطیکہ جس کام پر بروکری اور کمیشن لی جارہی ہو وہ کام فی نفسہ جائز ہو یعنی معاملہ غیر شرعی نہ ہو ،اور اس كی اجرت معلوم ہو، چاہے فیصد کے اعتبار سے ہی کیوں نہ ہو، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے بطور کمیشن جو رقم لی ہے، وہ سائل کے لئےجائز ہے اور حلال ہے، اگر سودا ہونے کے بعد فریقین نے اس سودا کو ختم کیا ہے تو اس کا ذمہ دار بروکر نہیں ہے، اس لیے اس پر کمیشن کی رقم واپس کرنا ضروری نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام."
(كتاب الإجارة ،باب الإجارة الفاسدة ،ج:6، ص:63، ط:سعید)
الدر المختار میں ہے:
"وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة."
(کتاب الإجارۃ،ج:6،ص:5،ط:سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101719
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن