
عرض یہ ہے کہ احقر ایک ادارہ میں ملازمت کرتا ہے۔ ادارہ ہر مہینے ہر مسلمان ملازم کی تنخواہ سے حج فنڈ کے نام پر کچھ رقم کاٹتا ہے (جو کہ بہت کم ہے ۳۰۰ سے ۴۰۰ روپے تک) یہ رقم ملازم کی مرضی سے کاٹی جاتی ہے اور اگر وہ منع کردے تو یہ رقم نہیں کاٹی جائے گی۔ ادارہ ہر سال ۱۰ ملازمین کو اس جمع شدہ رقم سے مکمل خرچ دے کر حج پر بھیجواتا ہے جن کا انتخاب بذریعہ قرعہ اندازی ہوتا ہے۔ اس میں ان کا نام بھی آتا ہے جنہیں ملازمت میں ایک سال یا دو سال ہوئے ہیں اور ایسے بھی جنہیں ۱۵ سے ۲۰ سال ہوگئے ۔ اور کئی ایسے لوگ رہ جارت ہیں جنہیں ملازمت میں ۲۰ سال سے زیادہ ہوگئے ۔ حج پر جانے والا ملازم کبھی بھی ملازمت چھوڑ کر جاسکتا ہے اور جاتے ہوئے کوئی اضافی رقم اس سے اس مد میں نہیں لی جاتی (مطلب جو کٹوتی ہوئی وہی ہوئی) اور وہ لوگ جو بہت لمبے عرصہ تک ملازمت کرتے رہے اور ان کا کبھی حج قرعہ اندازی میں نام نہیں آیا وہ چھوڑ کر جاتے ہیں تو ان کی کٹوتی کی ہوئی رقم واپس نہیں کی جاتی ۔ احقر بھی تقریبا ۱۵ سال سے اس ادارہ میں ملازم ہے اور اس سال قرعہ اندازی میں نام آیا ہے۔
۱) اس سب صورت حال میں احقر کے لیے اس اسکیم کے تحت حج پر جانا شریعت کی روشنی میں جائز ہوگا؟
۲) اگر صحیح نہیں تو اس رقم کی کٹوتی سے منع کردینا چاہیے؟
نوٹ: جو لوگ بھی ادارہ کے ملتے ہیں یہی کہتے ہیں کہ بہت خوشی ہوئی اگر ہمارا نام نہیں آیا تو کم از کم اس کام میں ہمارا کچھ حصہ لگ گیا اور جو بھی جائے گا اس میں ہمیں بھی کچھ ثواب مل جائے گا۔
وضاحت: بعض لوگوں کا دل اس بارے میں تنگ بھی ہوتا ہے کہ جب ہم نے اتنے سال سے پیسے جمع کرائیں ہیں تو ہمارا نام کیوں نہیں آرہا اور دوسرے کیوں اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔نیز جو اس فنڈ کا حصہ نہیں بنتا اس کا قرعہ اندازی میں نام بھی نہیں آتا۔
وضاحت: اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ یہ کٹوتی ملازمین کی طرف صدقہ اور چندہ ہوتا ہے یا یہ ملازمین کی طرف سے ادا رہ کو قرض کے طور پر دیا جاتا ہے یا کسی
۱،۲) صورت مسئولہ میں ادارہ کی طرف سے حج پر بھیجنے کے لیے جاری کردہ ترتیب شرعا جائز نہیں ہے کیونکہ ملازمین کا اپنی تنخواہ سے اس نیت سے کٹوتی کرواتا کہ شاید میرا نام قرعہ اندازی میں نکل آئے اور معمولی رقم کی کٹوتی کے عوض میں بڑی رقم حاصل کرکے حج کرسکوں ،جبکہ عملا یوں ہوتا ہے کہ بعضوں کا نام نکل آتا ہے اور ان کو معمولی رقم کے عوض ایک بڑا فائدہ حاصل ہوجاتا ہے اور بعضوں کا نام ہی نہیں آتا اور ان کی رقم ان سے ضائع ہوجاتی ہے ،یہ کٹوتی اور بعضوں کو جمع شدہ سے زیادہ ملنا اور بعضوں کو کچھ نہ ملنا سود اور جوے پر مشتمل معاملہ ہے لہذا یہ ناجائز ہے۔سائل کو چاہیے کہ وہ اس اسکیم سے اپنی شمولیت ختم کردے اور اگر اب تک کی جمع رقم واپس لینا ممکن ہے تو وہ واپس لے لے۔
اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ادارہ ایک چندہ کا فنڈ قائم کرے جس میں ملازم خود اپنی صوابدید پر جتنا ممکن ہوں صدقہ کی نیت سے چندہ جمع کرائیں(موجودہ صورت کی طرح نہ ہو جہاں صدقہ (چندہ) کی صراحت بھی نہیں ہے اور ملازمین کے دل اس بات پر تنگ بھی ہورہے ہیں کہ اتنے عرصہ سے پیسے جمع کرانے کے بعد اب تک کچھ حاصل نہیں ہوا)، پھر ادا رہ قرعہ اندازی کرکے جس کا نام نکلے اس ملازم کو اس نفلی صدقہ کے پیسوں سے حج پر بھیج دے۔اس میں ادارہ یہ بھی فرق نہ کرے کے کون جمع کراتا ہے اور کون جمع نہیں کراتا بلکہ یہ عمومی منفعت کا چندہ ہو اور ہر جمع کرانے والا ادارہ کے ملازمین کو فائدہ پہنچانے کی نیت سے صدقہ کردے۔ جو شخص بھی حج پر جائے گا تمام رقم صدقہ کرنے والوں کو اس کا ثواب ملے گا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وهو في الشرع عبارة عن فضل مال لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال"
.(3/ 117، کتاب البیوع، الباب التاسع فیما یجوز بیعہ وما لا یجوز، الفصل السادس فی تفسیر الربوٰ واحکامہ، ط: رشدیہ)
أحکام القرآن میں ہے:
"ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار، قال ابن عباس: إن المخاطرة قمار، وإن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال، والزوجة، وقد كان ذلك مباحاً إلى أن ورد تحريمه".
(احکام القرآن للجصاص، 1/ 398، باب تحریم المیسر، سورۃ البقرۃ، ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت - لبنان)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: لأنه يصير قماراً)؛ لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص".
(6 / 403، کتاب الحظر والاباحۃ، ط ؛ سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101210
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن