
الاؤ (Bonfire) کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے جبکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کی اصل ایک مشرکانہ/غیر اسلامی تہوار سے جڑی ہوئی ہے؟ کیا ہم بڑا الاؤ جلا کر اس کے گرد بیٹھ سکتے ہیں اور تسبیح، نعت وغیرہ پڑھ سکتے ہیں؟ بون فائر نائٹ کہہ کر بلانا جائز ہے یا اس نام کا استعمال نہیں کرنا چاہیے؟ براہِ کرم اس بارے میں ہمیں تفصیل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں!
صورتِ مسئولہ میں اگر سردی کی وجہ سے لکڑیاں جلا کر اس کے آس پاس بیٹھا جائے، اس میں غیر مسلموں کے ساتھ تشبیہ مقصد نہ ہو اور نہ ہی اسے بورن فائر نائٹ کا نام دیا جائے اور نہ یہ مقصود ہو، بل کہ صرف سردی سے بچنا مقصد ہو تو ایسی صورت میں الاؤ کے ارد گرد بیٹھ کر نعت وغیرہ پڑھنے کی گنجائش ہے۔
اور اگر غیر اسلامی تہوار کے طور پر آگ وغیرہ جلائی جائے یا پھر ان کے طرزِ عمل سے مشابہت کی وجہ سے آگ جلا کر اس کے اردگرد بیٹھا جائے یا آگ جلا کر اسے بون فائر نائٹ کہہ کر اسے کےآس پاس بیٹھا جائے یا تسبیح وغیر پڑھی جائے تو یہ جائز نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(والإعطاء باسم النيروز والمهرجان لا يجوز) أي الهدايا باسم هذين اليومين حرام (وإن قصد تعظيمه) كما يعظمه المشركون (يكفر) قال أبو حفص الكبير: لو أن رجلا عبد الله خمسين سنة ثم أهدى لمشرك يوم النيروز بيضة يريد تعظيم اليوم فقد كفر وحبط عمله اهـ ولو أهدى لمسلم ولم يرد تعظيم اليوم بل جرى على عادة الناس لا يكفر وينبغي أن يفعله قبله أو بعده نفيا للشبهة."
(كتاب الخنثى، مسائل شتى، ج: 6، ص: 754، ط: ايچ ايم سعيد)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144707101715
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن